Daily Mashriq


شکایات ہی شکایات‘ سننے اور حل کرنیوالا بھی کوئی تو ہو

شکایات ہی شکایات‘ سننے اور حل کرنیوالا بھی کوئی تو ہو

عوامی مسائل کی ہفتہ وار اشاعت کا تیسرا ماہ گزر رہا ہے، اس دوران شامل اشاعت کسی مسئلے کے حل اور تفصیلات جاننے کیلئے کسی سرکاری ادارے سے بھی کوئی رابطہ کی وضاحت کا نہ ہونا اس امر پر دال ہے کہ سرکاری حکام اور صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کے حل میں چنداں دلچسپی نہیں، سوائے صوبائی احتساب کمیشن کے کسی اور ادارے اور محکمے کے کسی فرد نے کوئی رابطہ نہیں کیا حالانکہ اس امر کا امکان بہرحال موجود ہوتاہے کہ کالم میں شائع کسی مسئلے کی وضاحت کی جائے یا کم از کم سرکار کا موقف سامنے لایا جائے۔ صوبائی احتساب کمیشن کی جانب سے لوگوں کی رہنمائی کیلئے کہا گیا کہ شکایت کنندگان تحریری صورت میں اپنی شکایات کے حل کیلئے صوبائی محتسب کے دفتر سے رجوع کریں۔ میرے تئیں شکایات سننے اور شکایات جاننے کیلئے بہتر فورم موجود ہیں مگر شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے کوئی بھی ایسا فورم موجود نہیں جو عوام کی مشکلات کو سہل اور سادہ انداز میں حل کرنے کی سنجیدہ سعی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ شکایات میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور عوام حکومت اور سرکاری محکموں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چترال کی طالبہ ہما ظاہر نے تجویز دی ہے کہ ساری سینئر اُستانیوں کو ریٹائرڈ کرکے نئی اُستانیاں بھرتی کی جائیں تاکہ میرٹ پر آنیوالی قابل اُستانیاں زیادہ محنت ودلچسپی سے پڑھائیں، ہما ظاہر کی تجویز سے جھلکتی صورتحال کو مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے لیکن لگتا ہے چترال میں گزشتہ ادوار میں نالائق افرادکی تقرریاں کی گئی ہوں گی، میں نے عزیز بھائی سے بھی اس سلسلے میں بات کی جن کا کہنا ہے کہ کم ازکم ان کے دور طالب علمی میں چترال میں مرد اساتذہ واقعی اساتذہ کرام کہلانے کے قابل تھے، بعد میں ممکن ہے وہ معیار برقرار نہ رہاہو، البتہ اُستانیوں کے حوالے سے عموماً تاثر یہ ہے کہ ان کی بھرتی این ٹی ایس کے مروج ہونے تک اہلیت کے سراسر برعکس ہوتی رہی ہے، بہرحال تجویز پر عملدرآمد کی کوئی صورت نہیں اس ضمن میں محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے بھی غور ضرور کیا تھا مگر احتجاج کے خوف سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ محمد جنید سراجی نے واٹس ایپ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تقریباً تمام پرائیویٹ سکولوں اور معروف نیم سرکاری سکولوں میں طالبعلموں کو ساتویں جماعت پاس کرنے کے بعد آٹھویں جماعت میں نویں جماعت کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ تعلیمی نفسیات کے اصولوں کے مطابق تعلیم (Learning) ہمیشہ آسان سے مشکل اور معلوم سے نامعلوم کی طرف کا ایک سفر ہے جبکہ ان اداروں میں صورتحال اس کے اُلٹ ہے۔ جس کی وجہ سے طالبعلموں کی ذہنی نشوونما پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی وساطت سے تمام متعلقہ حکام سے فوری اصلاح واحوال کی درخواست کی جاتی ہے تاکہ نجی ونیم سرکاری سکولوں میں عرصہ دراز سے مروجہ اس خود ساختہ تعلیمی اصلاحی پالیسی کا خاتمہ کیا جائے۔رفیع اللہ پی ایس ٹی دیر بالا نے نہایت اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ آج کل تعلیمی اداروں میں طلبہ کو سکھانے اور سمجھانے پرکم توجہ دی جاتی ہے ‘ اساتذہ اور طلبہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے امتحان میں زیادہ نمبر لیں، خواہ ان کو موضوع پر عبور حاصل ہو یا نہ ہو۔ دوسری طرف ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ نجی سکولوں میں آٹھویں میں ہی نویں دسویں کے سائنس کا نصاب پڑھایا جاتاہے جبکہ سرکاری سکولوں میں آٹھویں ہی کا نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ امتحان میں نجی سکولوں کے طالب علموں کے برابر نمبر حاصل نہیں کر پاتے۔ واقعی یہ دونوں مسائل قابل غور اور قابل توجہ ہیں جس پر محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا اور متعلقہ بورڈوں کے حکام کو توجہ دینا چاہئے۔ محکمہ تعلیم آٹھویں کا امتحان بورڈ کے ذریعے لینے کی کوشش میں تو ہے لیکن سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آتے۔گرلز کمیونٹی سکول کی ایک اُستانی نے چار ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی شکایت ایلمنٹری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر اور اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا کہا ہے۔ سرکاری ملازمین پر اس سے بڑا ظلم ممکن ہی نہیں کہ ان کی تنخواہیں بند کی جائیں یا پھر ان کی تنخواہوں کی ادائیگی میں غفلت کا ارتکاب کیا جائے، وزیرتعلیم اور وزیرخزانہ دونوں، کمیونٹی گرلز سکولوں کی اُستانیوں اور سٹاف کی چار ماہ کی تنخواہوں کا بندوبست جتنا جلد ممکن ہوسکے کرنے کی پرزور گزارش ہے۔اہالیان باغ کالونی بونیر روڈ رستم، نزد گلو بل سکول کے ارد گرد مقیم آبادی، ریت چھاننے کی مشین اور اینٹوں کی فیکٹری میں دن رات بھاری مشینری وجنریٹرز کے شور اور فضائی آلودگی سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔پشاور کے پرائمری سکول ٹیچر محمد نعیم نے اپنی برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ این ٹی ایس پاس پرائمری ٹیچرز کو ریگولر کیا جائے۔ ٹائم سکیل‘سروس سٹرکچر اور ترقی کے مواقع دئیے جائیں۔ پی ایم ایس اور دوسرے امتحانات میں کوٹہ دیا جائے اور ٹیچنگ الائونس دیا جائے۔ جن لوگوں کو ملازمت نہیں ملتی ان کا ملازمت کے حصول کیلئے سرگرداں ہونا فطری امر ہے۔ سرکاری ملازمت ملنے پر اس طرح کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت مکمل تعلیمی پالیسی اور تمام تر طریقہ کار یکبارگی طے کرے تو محکمے اور ملازمین دونوں ہی یکسوئی سے کام کرسکیں گے۔صدیق خٹک نے کرک سے کام چور اساتذہ کے حوالے سے کالم کی فرمائش کی ہے۔ ان کیلئے آپ کے الفاظ ہی کافی ہیں مزید کی گنجائش نہیں۔

نوٹ: قارئین اس ہفتہ وار کالم میں اپنی شکایات 03379750639 پر میسج کر سکتے ہیں۔ اسکے علاو ہ روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاور کے پتے پر بھجوا سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی آراء اور جوابی وضاحت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔

متعلقہ خبریں