Daily Mashriq


نئی حلقہ بندیوں میں درپیش مسائل اور ان کا حل

نئی حلقہ بندیوں میں درپیش مسائل اور ان کا حل

عام انتخابات 2002ء سے پہلے پاکستان میں کی جانے والی حلقہ بندیوں میں خیبرپختونخواکے ضلع بٹگرام کی 307,278(1998ء کی مردم شماری کے مطابق) آبادی کے لئے قومی اسمبلی ایک نشست مختص کی گئی تھی جبکہ اسی ڈویژن(ہزارہ) کے ایک اور ضلع ہری پور کے 692,228باشندوں کے لئے بھی قومی اسمبلی کی صرف ایک نشست مختص کی گئی تھی۔ مذکورہ حلقہ بندی کے مطابق ہری پور کے 225 ووٹرز کو بھی اتنی ہی اہمیت دی گئی تھی جتنی کہ بٹگرام کے 100 ووٹرز کو ملی تھی۔ دوسرے الفاظ میںپارلیمنٹ میں نمائندگی کے حوالے سے بٹگرام کے ایک ووٹر کی اہمیت ہری پور کے ووٹر سے دوگنا زیادہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف ان دو حلقوں کا نہیں تھا کیونکہ مذکورہ حلقہ بندی میں پورے ملک میں 36 حلقے ایسے تھے جن کی آبادی ایک حلقہ بندی کی قومی اوسط سے 10 فیصدسے بھی زائد تھی جبکہ 42 حلقے ایسے تھے جن کی آبادی حلقہ بندی کی قومی اوسط کے 10 فیصد سے بھی کم تھی۔ مختلف حلقوں میں آباد ی کی مختلف تعداد کا مسئلہ صرف پاکستان کو درپیش نہیں بلکہ پوری دنیاکے جمہوری ممالک کو یہ مسئلہ درپیش رہا ہے اور مختلف ممالک نے اس کا مختلف طریقے سے حل نکالا ہے۔ ان تمام طریقوں میں سے سب سے زیادہ مقبول ہر حلقہ بندی کی اوسط سے کم یا زائد آبادی کی شرح کا فارمولا یا ایک کوٹہ نمبر مقرر کرنا ہے۔ یورپی یونین نے یہ شرح 10 فیصد جبکہ برطانیہ نے5فیصد مقرر کی ہوئی ہے۔پاکستان کے نئے انتخابی قانون ’الیکشن ایکٹ 2017ء ‘کے سیکشن 20.3 کے مطابق حلقہ بندی کی آبادی میں کمی یا زیادتی کی شرح اس حلقے کی آبادی کی مجموعی تعداد کے10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔الیکشن ایکٹ کی اس شق کی وجہ سے حلقہ بندیاں کرنیوالے اہلکاروں کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا، اگرچہ دیکھنے میں حلقہ بندیوں کا یہ فارمولا انتہائی سادہ لگتا ہے لیکن اگراس کو الیکشن کمیشن کے دیگر قوانین کیساتھ ملا کر حلقہ بندیوں کیلئے استعمال کیا جائے تو صورتحال کافی پیچیدہ ہو جاتی ہے اور حلقہ بندی کے ذمہ داروں کی مشکلات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان قوانین میں سے سب سے زیادہ مشکل قانون یہ ہے کہ حلقہ بندی ایک ضلع سے دوسرے میں نہیں جانی چاہیے اور پچھلی حلقہ بندیوں میں الیکشن کمیشن نے اس قانون پر من و عن عمل کیا تھا جس میں صرف ایک حلقہ این اے۔25( ڈیرہ اسماعیل خان۔ کم ٹانک) ایسا تھا جو دو اضلا ع کی حدود میں آتا تھا ۔ نئے اضلاع کی تشکیل اورنئی حلقہ بندیوں کے بعد بہت سے حلقے ایک سے زائد ضلع میں تقسیم ہوگئے تھے مثال کے طور پر عام انتخابات 2002ء میں این اے 222، حیدر آباد،5 اگلے انتخابات میں این اے 222 ٹنڈو محمد خان۔کم حیدرآباد۔کم بدین بن چکا تھا حالانکہ اس حلقے کے جغرافیے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ عام انتخابات 2018ء سے پہلے ہونیوالی حلقہ بندیوں میں ایک سے زائد اضلاع پر مشتمل حلقوں کو ایک ہی ضلع میں لایا جائیگا۔ الیکشن رولز 2017ء کے مطابق نئی حلقہ بندیوں میں الیکشن کمیشن کسی بھی حلقے کی حدود کو ضلع کے اندر رکھنے کا پابند ہے لیکن ہر ضلع کی آبادی حلقہ بندی کے اس فارمولے پر پورا نہیں اترتی جس کی وجہ سے بہت سی حلقہ بندیوں میں اوسط شرح کے ذریعے کام چلایا جائیگالیکن ہر حلقہ بندی کو ایک ضلع کی حدمیں لانے سے ہر حلقہ بندی کی آبادی برابر نہیں ہوپائے گی۔ ہری پور اور ایبٹ آباد جیسے اضلاع میں آبادی کی یہ تقسیم اور بھی زیادہ واضح ہوکر سامنے آئے گی کیونکہ ہری پور کی دس لاکھ آبادی کو نیشنل اسمبلی کا ایک حلقہ ملے گا جبکہ ایبٹ آباد کی 666، 456 آبادی دو حلقوں میں تقسیم ہوگی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہری پور کے تین ووٹوں کی اہمیت ایبٹ آباد کے دو ووٹوں کے برابر ہوگی۔ ان دونوں اضلاع میں حلقہ بندیوں کی تقسیم میں حلقہ بندیوں کی آبادی مقرر کردہ پیمانے سے کم یا زیاد ہ ہے۔ دوسرا حل ایک ہی ضلع کے اندر کسی بھی حلقے کی حدود کا تعین ہے جس پر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 20.4 کے ذریعے عمل درآمد کرکے اسی قانونی حیثیت دی جاسکتی ہے لیکن قانونی طور پر درست اقدام کو مساوی نہیں کہا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس مسئلے کا حل اضلاع کی حدود میں تبدیلی لا کر نکال سکتا ہے جس کیلئے اضلاع کی حدود کو انتخابی حلقوں کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان اضلاع کی جغرافیائی حدود میں ردوبدل کرسکتا ہے؟ جس کا جواب ہے نہیں۔ اضلاع کی حدود کی کوئی مقدس حیثیت نہیں ہے اور یہ حدود انگریزوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اپنی سہولت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متعین کی تھیں ۔ اس کے علاوہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی کئی دفعہ مختلف اضلاع کی حدود میں ردوبدل کیا گیا ہے اور نئے اضلاع بھی بنائے گئے ہیں۔ اسلئے پاکستان کے انتخابی نظام اور جمہوریت کی بہتری کیلئے اضلاع کی حدود میںتبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں