داد ا جی کا فاتحہ ، حلوائی کی دکان

داد ا جی کا فاتحہ ، حلوائی کی دکان

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آنیوالے انتخابات میں میاں نواز شریف کی تصویر، بینر ز اور پوسٹر ز پر چھاپ کر انتخابی میدان میں اُتریں گے ، خود میں (وزیراعظم) بھی میاں صاحب کی تصویر کے سائے تلے انتخابی عمل میں حصہ لوں گا، یہ غالباً چار روز قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس اعتراض کا جواب ہی ہو سکتا ہے جس میں خان صاحب نے کہا تھا کہ ایک نااہل شخص کی تصویر لگا کر سرکاری صحت کارڈ کی پبلسٹی شرمناک ہے، جہاں تک عمران خان کے اعتراض کا تعلق ہے اس کو سنجیدہ طبقوں میں بحث کا موضوع ضرور بننا چاہئے مگر اس حوالے سے ہمارا خیال عمران خان کے اعتراض سے بھی ہٹ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا اہلیت اور کیا نااہلیت، کسی بھی سرکاری منصوبے کے حوالے سے تشہیری مہم میں کسی بھی سیاسی رہنماء بشمول وزیراعظم، متعلقہ وزیر، وزرائے مملکت یا متعلقہ اداروں کے سربراہان، وزرائے اعلیٰ یا پارٹی رہنمائوں کی تقاریر شامل نہیں ہونے چاہئیں، اس لئے کہ عوام نے اگر ان لوگوں کو منتخب کرکے زمام اقتدار ان کے حوالے کئے ہیں اور اپنے مناصب پر رہتے ہوئے یہ لوگ عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کوئی منصوبہ سازی کرتے ہیں تو ان منصوبوں پر اخراجات قومی خزانے سے کئے جاتے ہیں، جن میں اکثر بھاری بیرونی قرضے بھی شامل ہوتے ہیں جن کے آنیوالے سالوں میں ادائیگی بھی عوام ہی نے کرنی ہوتی ہے جو بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کی صورت میںعوام ہی سے وصول کی جاتی ہے، اسلئے عوام کے پیسوں سے پا یٔہ تکمیل تک پہنچانے والے منصوبوں کے اشتہارات پر ان حکمرانوں کو اپنی تصاویر لگانے کا کوئی حق نہیں دیا جا سکتا کیونکہ سرکاری خزانہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ رہ گئے انتخابی عمل کے دوران سیاسی جماعتوں کے پارٹی اشتہارات یا پھر اُمیدواروں کے ذاتی اشتہارات تو اس میں متعلقہ پارٹی یا اُمید وار خواہ جسے بھی چاہے اس کی تصویر شائع کر سکتا ہے اور اس پر کسی کو اعتراض کا حق بھی نہیں ہے، اسلئے کہ یہ اشتہارات یا تو پارٹی فنڈز سے یا پھر متعلقہ اُمیدوار کے ذاتی اخراجات سے شائع ہونگے بدقسمتی سے ہمارے ہاں کچھ غلط روایات اس قدر راسخ ہو چکی ہیں کہ اب ان کے بارے میں کوئی بات بھی کرے تو جو لوگ ان اعتراضات کی زد میں آتے ہیں، وہ حلقے یعنی متعلقہ سیاسی جماعت کے کارکن لٹھ لیکر پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
ذاتی پروپیگنڈے کا یہ کھیل پرانا ہے، اس حوالے سے پہلے بھی شاید ان کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیا جا چکا ہے اور اعادے کی نیت سے ایک بار پھر یاد کرانے میںکوئی حرج نہیں ہے۔ ذکر ہے ایوبی آمریت کے دور کا، (خود ساختہ) فیلڈ مارشل ایوب خان کے گرد بھی خوشامدیوں کی ایک فوج ظفر موج منڈلاتی رہتی تھی، انہی خوشامدیوں میں سے نہ جانے کس نے ایوب خان کو اس بات پر اُکسایا کہ وہ ملکی اخبارات کو قابو کرنے کیلئے ایک ادارہ بنا دیں، بس پھر کیا تھا نہ صرف زور زبردستی ملک کے اہم اخبارات کی ’’پریس ٹرسٹ‘‘ کے نام سے قائم کئے جانیوالے ادارے کے ذریعے خریداری شروع ہوگئی، اور دو تین اخبارات کے علاوہ دیگر تمام بڑے اخبارات کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا، ان اخبارات میں ایوب خان کی ’’مشہوری‘‘ کیلئے موصوف کی سیاسی سرگرمیوں پر مبنی خبروں اور رپورٹوں سے سرکاری اخبارات کے صفحہ اول وآخر بڑی بڑی سرخیوں، ذیلی سرخیوں کیساتھ ساتھ تقاریب کی جھلکیوں کو باکس میں نمایاں کرنے کے علاوہ ہر کالم میں ایوب خان کی تصاویر چار چار پانچ پانچ انچ کے فاصلے پر یوں لگائے جاتے کہ پورے اخبارات موصوف کی تصاویر کا کہکشاں بن جاتے، اس صورتحال سے اگرچہ بعد میں عوام کے اندر منفی اثرات بھی مرتب ہوئے اور ان کی حکومت کیخلاف عوام کے دلوں میں نفرت کے جذبات بھی بیدار ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ ایوب حکومت کے اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو بھی ان سے متنفر ہوگئے اور حکومت سے استعفیٰ دیکر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ذاتی پروپیگنڈے کا آغاز ایوبی آمریت کے زمانے سے ہوا جو آج بھی کسی نہ کسی طور جاری ہے ۔ البتہ اخبارات اور پرائیویٹ چینلز پر کوئی بھی جماعت یا کسی بھی سیاسی لیڈر کو جہاں معقول وقت دیا جاتا ہے وہاں اگر سیاسی جماعتیں چاہیں تو اشتہارات کی شکل میں ادائیگی کر کے اپنے اشتہارات چلا کر عوام کو اپنے پروگرام سے باخبر رکھ سکتی ہیں جبکہ سرکاری اشتہارات وفاقی، صوبائی حکومتوں کے اخراجات پر بھرپور انداز میں چلائے جاتے ہیں تاکہ اپنے اپنے منصوبوں کی تشہیر کی جا سکے جو کسی بھی طور مناسب نہیں کیونکہ ان کا طریقہ کار درست نہیں ہے اور ان اشہارات کو میڈیا چینلز یا اخبارات کے ذریعے عوام تک پہنچانے کیلئے متعلقہ سیاسی رہنمائوں (خواہ کوئی بھی ہو) کی تصاویر سے مزین کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، نہ ہی ان رہنمائوں کے نام سے امدادی سکیمیں چلانے کا کوئی جواز ہے کیونکہ ان منصوبوں پر جو رقوم خرچ ہوتی ہیں وہ پاکستان کے عوام سے وصول کی جاتی ہیں اور اگر ان سیاسی رہنمائوں کو اپنی تصاویر یا اپنے نام سے امداد ی سکیمیں چلانے کا اتنا ہی شوق ہے تو ادائیگی اپنی جیبوں سے کریں، چیف جسٹس صاحب اگر اس بات کا بھی سووموٹو نوٹس لیکر اس پر پابندی عاید کر دیں تو خزانے پر سے بوجھ کم ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں