Daily Mashriq


بجلی کے ٹیرف میں 57 پیسے فی یونٹ تک اضافہ

بجلی کے ٹیرف میں 57 پیسے فی یونٹ تک اضافہ

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایندھن کی بدانتظامی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا کی سابق تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ماہانہ فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں صارفین سے 57 پیسے فی یونٹ ٹیرف میں اضافے کی اجازت دے دی۔

 دسمبر میں استعمال ہونے والی مہنگی بجلی کی رقم آنے والے مہینے میں صارفین سے وصول کی جائے گی اور اس سے ڈسکوز کو تقریباً ساڑھے 4 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔

اس بات کا فیصلہ نیپرا کے وائس چیئرمین رحمت اللہ بلوچ کی صدارت میں ماہانہ اجلاس میں کیا گیا۔

رحمت اللہ بلوچ اور نیپرا پنجاب کے رکن سیف اللہ چٹھہ نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیرف میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور بجلی کی قیمت میں اضافے سے بچا جاسکتا ہے کیونکہ بجلی کمپنیوں نے اپنے مہنگے فرنس آئل پاور پلانٹس چلانے کے بجائے ایل این جی اور گیس کے پاور پلانٹس چلائے۔

تاہم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے نمائندگان نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کم درآمدات اور کھاد اور برآمدات سے وابستہ شعبوں کو زیادہ فراہمی کی وجہ سے پاور سیکٹر کو مسلسل کم مقدار میں قدرتی گیس اور درآمدی مائع قدرتی گیس فراہم کی گئی۔

اس پر نیپرا کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ کس طرح توانائی سیکٹر کو مقامی پیدا ہونے والی گیس یا ایل این جی کی فراہمی کم ہوسکتی ہے اور کیا بجلی کی کمپنیوں کے گیس کمپنیز کے ساتھ معاہدے نہیں ہیں۔

سی سی پی اے افسران کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کے اختیارات سے باہر ہے اور اس جواب نے نیپرا کو اس معاملے پر تحریری رپورٹ طلب کرنے پر مجبور کردیا۔

واپڈا کی سابق ڈسکوز کی جانب سے فرنس آئل کے استعمال پر زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے ماہانہ فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں صارفین کے ٹیرف میں 64 پیسے فی یونٹ اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس نے بجلی کی مجموعی پیداوار میں 12 فیصد مدد کی لیکن گزشتہ سال دسمبر میں اس پیداوار کی لاگت 44 ارب روپے کے کل ماہانہ فیول بل کی 32 فیصد (14 ارب 20 کروڑ روپے) تھی، جس کی وجہ سے صارفین کو اس مہنگی بجلی کے باعث اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم اس تمام صورتحال کے بعد نیپرا نے زیادہ ٹرانسمیشن نقصانات کو مسترد کرتے ہوئے بجلی کے فی یونٹ میں 57 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔

نیپرا کی جانب سے کہا گیا کہ گزشتہ برس دسمبر میں ٹرانسمیشن نقصانات 3.43 فیصد پر تھی لیکن ریگولیٹر نے ٹیرف میں 3 فیصد زیادہ نقصان کی اجازت نہیں دی۔

متعلقہ خبریں