Daily Mashriq


بنیادی سہولتوں کا فقدان،پشاور کا علاقہ گلبرگ پسماندہ گائوں کامنظر پیش کرنے لگا

بنیادی سہولتوں کا فقدان،پشاور کا علاقہ گلبرگ پسماندہ گائوں کامنظر پیش کرنے لگا

پشاور(کاشف الدین سید )پشاور کا گلبرگ بھی مسائلستان بن گیا ہے حکومت کی عدم توجہ منتخب نمائندوںکی غفلت اور سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی نے مکینوں کو پریشان کر رکھاہے گلبرگ کے باسی صفائی کے ناقص انتظامات،نکاسی آب کے مسئلے اور امن وامان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ تجاوزات اور منشیات فروشوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرق ٹی وی کے خصوصی پروگرام مشرق فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے گلبرگ کے مکینوں نے شکوہ کیا کہ پشاور صدر سے ملحقہ یہ علاقہ کسی پسماندہ گائوں کا منظر پیش کررہاہے جہاں بجلی گیس اور پانی کی عدم دستیابی کے علاوہ تعلیم صحت اور دیگر بنیادی سہولیات بھی میسر نہیںفورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے گلبرگ ریذیڈنٹس سوسائٹی کے صدر منیر بٹ نے کہا کہ گلبرگ بظاہر پشاور کا صدر کا حصہ ہے مگر یہاں کے مکین کینٹ کے سرکاری اداروں سے استفادہ نہیں کرسکتے یہاں کے ہسپتال میں کینٹ کے مکین صرف پچاس روپے میں معائنہ کراتے ہیں لیکن گلبرگ کے رہائشی مریضوں سے دوسو روپے فیس لیا جاتاہے اسی طرح کینٹ کے سکولوں اور دیگر سرکاری اداروں میں گلبرگ کے باسیوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتاہے انہوں نے کہا کہ گلبرگ میں تجاوازات نے اہل علاقہ کا جینا مشکل بنادیاہے سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری جمال شاہ نے کہا کہ گلبرگ میں نکاسی آب کا انتظام ناقص ہے،مقامی سماجی شخصیت نقاب شاہ نے کہا کہ گلبرگ میں جگہ جگہ بجلی کی تاریں لٹکی ہوئی ہیں جس سے بچوں کو خطرات درپیش ہیںانہوں نے کہا کہ پورے گلبرگ میں کوئی سرکار ی پرائمری سکول موجود نہیں اہل علاقہ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں یہاںلڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ پرائمری سکول قائم کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ علاقے میں فوری طبی امداد کے لئے ایک ڈسپنسری کا قیام بھی ضروری ہے گلبرگ کے رہائشی افسر خان نے کہا کہ رہائشی علاقے میں تجارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں اورمکانات کے ساتھ ساتھ بڑے پلازے تعمیر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے گھروں کی بے پردگی ہورہی ہے،فضل خالق نے مشرق فورم میں بتایا گلبرگ کے مکین بجلی کے واجبات باقاعدگی کے ساتھ ادا کر رہے ہیںیہاں کنڈا کلچر بھی نہیں اس کے باوجود کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ معمول بن گیا ہے سماجی کارکن واجد نے کہا کہ ایک جانب دکانداروں نے تجاوز کر کے آدھی سڑک بند کردی ہے دوسری جانب دکان کے سامنے ریڑھی بانوں اور چھابڑی فروشوں کو جگہ دے کر ان سے غیر قانونی طور پر کرایہ وصول کر رہے ہیں، اکثر خراب ٹرانسفارمر اپنے خرچے پر ٹھیک کرواتے ہیںبجلی بل میں ایس ڈی او اور ایکسیئن کے جو موبائل نمبر دیئے گئے ہیں ان پر کال وصول نہیں کی جاتی فقیر حسین نے کہا کہ گلبرگ کے مکینوں کو پینے کے صاف پانی کا مسئلہ درپیش ہے ٹیوب ویل یہاں سے ایک کلومیٹر دور ہے جب بھی اس میں کوئی خرابی پیدا ہوجاتی ہے اہل علاقہ پانی کے لئے ترستے رہتے ہیں انہوںنے کہا کہ گلبرگ میں آبنوشی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ٹیوب ویل بنائے جائیں انہوں نے سوئی گیس پریشر کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پورے گلبرگ میں سارا دن گیس غائب رہتی ہے، انہوں نے کہا کہ گلبرگ کے گلی کوچے ناقص سیوریج سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکار اس کی مرمت کے لئے 20لاکھ روپے حکومت نے جاری کئے تھے مگر اب پتہ نہیں کہ وہ رقم کہاں غائب ہوگئی ہے، اے این پی کے مقامی رہنماء شوکت خان نے کہا کہ گلبرگ کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ رقبہ کم ہے اب تجارتی سرگرمیوں نے بھی گلبرگ میں رہائش مشکل بنادی ہے انہوں نے کہا کہ گلبرگ نشیب میں واقع ہے اور بالائی دیہات کا سارا پانی اس طرف آرہا ہے بارش کی صورت میں پانی کا بہا ئو مزید تیز ہوجاتاہے اور گھروں کے اندر داخل ہوجاتا ہے جس سے بیشتر مکانات کو نقصان پہنچا ہے ڈبلیو ایس ایس پی اور دیگر متعلقہ ادارے صورتحال کا نوٹس لیں ۔

متعلقہ خبریں