Daily Mashriq


سانحہ ساہیوال کو معمہ بنانے سے گریز کی ضرورت

سانحہ ساہیوال کو معمہ بنانے سے گریز کی ضرورت

وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت نے ساہیوال کے افسوسناک واقعے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کا آپریشن سوفیصد درست تھا جبکہ خلیل فیملی بے گناہ تھی، واقعہ قتل ہے، ڈرائیور ذیشان کے بارے میں جے آئی ٹی مزید تحقیقات کرے گی،2 ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جی، ایس ایس پی کو فارغ کر دیا گیا جبکہ 5سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دفعہ302 کے تحت کارروائی ہوگی، مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت میں جائے گا، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کو بھی معطل کر دیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں اجلاس بھی ہوا جس میں جے آئی ٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کردی، انصاف کے تقاضے پورے کریں گے، ذیشان گنہگار تھا، ماضی میں کبھی بہتر گھنٹوں میں ایکشن نہیں ہوا، وزیراعلیٰ رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئے تو جوڈیشل کمیشن ان کی صوابدید ہوگی۔ ساہیوال کے افسوسناک واقعہ پر صرف میڈیا اور عوام ہی پولیس کو مکمل قصوروار گرداننے کا موقف نہیں رکھتے بلکہ خود تحریک انصاف کے اندر بھی یہی آراء پائی جاتی ہے جس کا اظہار دو خواتین پارلیمنٹرینز نے ٹی وی سکرین پر آنسو بہاتے ہوئے کیا۔ ہمیں اس امر پر تو اطمینان ہے کہ حکومت نے اس ضمن میں حتی المقدور فوری کارروائی کی بھی سعی کی۔ اعلیٰ پولیس افسران معطل ہوئے محوسفر خاندان کو بے گناہ بھی قرار دیا گیا صرف گاڑی کے ڈرائیور کے حوالے سے کوئی حتمی رائے باقی ہے البتہ یہ سب کچھ ابتدائی رپورٹس ہیں جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ معاملے کے سارے پہلوؤں کی تحقیق وتفتیش اتنی جلدی ممکن نہیں۔ حکومت کی عجلت اس لئے بے جا نہیں کہ اس واقعے کے ضمن میں پوری حکومت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے لیکن بہرحال اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صوبائی حکومت جیسے تیسے رپورٹ منگوا کر کارروائی کرے۔ جو افسوسناک واقعہ رونما ہونا تھا وہ ہو چکا اب اس کے ذمہ داروں کے احتیاط سے تعین میں عجلت سے معاملہ خراب ہو سکتا ہے اور واقعہ کے ذمہ داران بچ سکتے ہیں۔ حکومت پنجاب کی جانب سے اس واقعے سے متعلق پنجاب پولیس کے افسران کیخلاف ابتدائی کارروائی کو بھی عوام اور میڈیا دباؤ سے نمٹنے اور اس کی شدت کم کرنے کی سعی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر دوسری جانب دیکھا جائے تو یہ معاملہ ہی ایسا تھا کہ فوری ایکشن ضروری تھا۔ اس ساری صورتحال کو حکومت‘ میڈیا اور عوام کے موقف کو نصف برابر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو وزیر قانون پنجاب نے پہلے دن سے اس ضمن میں جو لب ولہجہ اور طرزعمل اختیار کر رکھا ہے اس سے سراسر پنجاب پولیس کے ذمہ دار اہلکاروں کی سرپرستی اور ان کو بچانے کی سعی نظر آتی ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب صورتحال کے دباؤ میں عجلت پر مبنی اقدامات کے خواہاں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بظاہر کی صورت ہی ہوسکتی ہے وگرنہ کابینہ کے ایک ممبر کا وزیراعلیٰ کے اقدامات سے برعکس موقف ماننے والی بات نہیں اور نہ ہی ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ من چہ گوئم وطنوارہ من چہ می سرائید والی صورتحال ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نہ اس معاملے میں عجلت کا مظاہرہ اور دباؤ ڈالنا مناسب طرزعمل ہے اور نہ ہی عجلت میں فیصلے کئے جائیں۔ وزیر قانون پنجاب کے طرزعمل کی تو گنجائش ہی نہیں کیا اسے مذاق قرار نہ دیا جائے کہ ایک جانب پنجاب پولیس کے ظلم وبربریت کو درست قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری جانب مقتول خاندان کو بھی بے گناہ قرار دیا جا رہا ہے، ایسا ممکن نہیں۔ جہاں تک مقتول ڈرائیور کے حوالے سے شکوک وشبہات کا تعلق ہے ان کا دور ہونا ضروری ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے سی ٹی ڈی کی ابتدائی طور پر گاڑی کے سارے سواروں کو دہشتگرد اور گاڑی سے خودکش جیکٹوں کی برآمدگی کی اگر تصدیق ہو جاتی تو معاملے کے رخ کا تعین ممکن تھا لیکن سی ٹی ڈی کے ابتدائی دعوے کا غلط ثابت ہونا بچوں کے بیانات اور عینی شاہدین کے بنائی گئی ویڈیوز سبھی سی ٹی ڈی کے موقف اور ان کے انداز آپریشن کے اناڑی پن کا پردہ چاک کرنے کیلئے کافی ہیں جس کے بعد واقعے کی ذمہ داری ڈرائیور کی طرف موڑنے کی سعی کی گئی مگر ان کی بھی سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی اور خالی ہاتھ لاش کی تصویری شواہد کو جھٹلانا آسان نہیں گوکہ واقعہ سمجھنے اور سمجھانے کا معمہ نہیں لیکن اسے جان بوجھ کر معمہ اور مشکوک بنایا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے ذمہ دار کرداروں کو بری کرنے کا راستہ نکالا جاسکے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں حکومت وریاست کا کردار ادا کرے اور معروضی حقائق وشواہد کی روشنی میں واقعے کی ذمہ داری کے تعین کو یقینی بنائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سانحہ ساہیوال کی تفصیلی تحقیقات میں کسی بھی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی سی ٹی ڈی پنجاب کے اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک جامع‘ مکمل اور غیرجانبدار رپورٹ ہی عوام اور میڈیا کیلئے قابل قبول ہوگی اور خود حکومت کے حق میں بھی یہی بہتر ہوگا کہ وہ جتنا ممکن ہوسکے معروضی حقائق سے آگاہ ہو اور اس کی روشنی میں کارروائی کرے تاکہ حق اور انصاف کا بول بالا ہو۔

متعلقہ خبریں