Daily Mashriq


راشی عناصر سے سختی سے نمٹا جائے

راشی عناصر سے سختی سے نمٹا جائے

سول جج وجوڈیشل مجسٹریٹ کی قیادت میں انسداد رشوت ستانی ضلع نوشہرہ کی ٹیم پر امانگڑھ تحصیل آفس میں چھاپہ کے دوران پٹواریوں کا حملہ اور تین افراد کو یرغمال بنا دینے کا واقعہ چوری اور سینہ زوری کی بدترین مثال ہے۔ اس واقعے سے محکمہ مال خیبر پختونخوا میں رشوت وبدعنوانی کے دعوؤں کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔ پٹواریوں کی گرفتاری کیخلاف پٹواریوں کی ہڑتال اور احتجاج سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ انسداد رشوت ستانی کے عملے کیساتھ معزز سول جج کی موجودگی اور ان کو بھی دھکے پڑنا اس امر پر دال ہے کہ واقعے میں انسداد رشوت ستانی کا عملہ قانون کے نفاذ اور بدعنوانی کے انسداد کی سعی میں تھے جو ان کا بنیادی فریضہ ہے جبکہ پٹواریوں کی دھینگا مشتی اور بعد ازاں ان کے ساتھیوں کی جانب سے ردعمل چور مچائے شور کے مصداق ہے جس کی کوئی قانونی واخلاقی حیثیت نہیں۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ راشی افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے بعد ان کیخلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی اور کسی دباؤ میں نہ آنے کی کسر باقی رہ جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ انسداد رشوت ستانی کے عملے نے کافی عرصے بعد کوئی کامیاب کارروائی کی ہے جسے کسی دباؤ اور مصلحت کی نذر نہیں ہونا چاہئے بلکہ واقعے میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہئے۔ علاوہ ازیں عملے کے ان ارکان کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے جو دھینگا مشتی اور ملزموں کو چھڑانے کی کوششوں کا حصہ بنے ہوں تاکہ صوبے میں انسداد رشوت ستانی اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کا یقین دلایا جاسکے۔

سیاحت کے فروغ اور تحفظ کے لئے احسن اقدامات

پشاور سے تخت بھائی اور اٹک تک مستقل سفاری ٹرین چلانے کا اعلان اور نتھیا گلی میں پاک فوج کی طرف سے پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کیلئے رات تین بجے فضائی ریسکیو آپریشن جبکہ چترال کے تین علاقوں میں شدید برفباری کے باعث پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کیلئے چترال پولیس کی کامیاب مساعی صوبے میں سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کے تحفظ کے ضمن میں حوصلہ افزاء اقدامات ہیں۔ خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر برائے سیاحت، آرکیالوجی، کھیل وامور نوجوانان عاطف خان کی جانب سے پشاور سے تخت بھائی اور اٹک تک مستقل بنیادوں پر سفاری ٹرین چلانے کا اعلان اور پشاور سے اٹک تک سفاری ٹرین چلنا مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کیلئے یکساں طور پر دلچسپی کا حامل امر ہے۔ اس ضمن میں محکمہ ریلوے کا تعاون ادارے کیلئے آمدنی بڑھانے کا باعث امر ہوگا جس کے بعد باقاعدہ طور پر پشاور سے تخت بھائی تک سفاری ٹرین چلانے سے سیاحوں کو تخت بھائی کے آثارقدیمہ تک رسائی میں مدد ملے گی۔ سینئر وزیر کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ریلوے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں سیاحت کے بڑے مواقع موجود ہیں۔ نئے قبائلی اضلاع سمیت صوبے میں موجود دیگر تمام غیرفعال ٹریکس کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں سیاحت کے بے شمار مواقع اور مقامات ہونے کی بناء پر اس ضمن میں جتنی بھی کوششیں کی جائیں وہ کافی نہیں۔ حوصلہ افزاء امر یہ ہے کہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات نظر آرہے ہیں جن کو تسلسل سے جاری رکھنے کیساتھ ساتھ ان میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جایئں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

عمائدین جمرود کے تحفظات دور کئے جائیں

جمرود کے عمائدین کا بیسے پہاڑی پر فائیوسٹار ہوٹل کی تعمیر اور اسے سیاحتی مقام بنانے کی حکومتی مساعی پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ قابل توجہ ہے البتہ اس کی مخالفت پر اُتر آنے والے عناصر کے اعتراضات واحتجاج اس لئے بے جا ہیں کہ ان اقدامات سے سب سے زیادہ فائدہ ہی مقامی افراد کو ہوگا جن کو کاروبار وروزگار کے مواقع ان کی دہلیز پر میسر آئیں گے۔ بہرحال تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کرنے والوں سے بات چیت اور مخالفت پر آمادہ عناصر کو سمجھانے اور قائل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ منصوبہ خواہ مخواہ تنازعے کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔ قبائلی ضلع خیبر کے عوام خواہ ان کا تعلق جس قبیلے سے بھی ہو ہمارے بھائی ہیں ان کو کسی نافع منصوبے کی مخالفت اور تحفظات کا اظہار کرنے کا حق ضرور ہے لیکن ساتھ ہی ان کو اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کی مخالفت سے کوئی اہم منصوبہ متاثر نہ ہو اور اجتماعی طور پر اس کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں پائی جانے والی غلط فہمی جلد مل بیٹھ کر طے کرلی جائے گی اور منصوبے پر جلد کام شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں