Daily Mashriq

سانحہ ساہیوال ، اک نظر بار دگر

سانحہ ساہیوال ، اک نظر بار دگر

پنجاب حکومت نے نہایت فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سانحہ ساہیوال کے برپا ہونے کے 72 گھنٹے کے اندر انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے تین اعلیٰ افسروں کو اپنے عہدوں سے الگ کر دیا اور دو کو معطل کر دیا۔ یہ اقدام اجلت میں قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی ابتدائی رپورٹ کی بناء پر کیا گیا ہے ۔ یہ اعلان صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کابینہ کے دیگر اراکین اور بعض سینئر افسروں کے ہمراہ ایک بھاری بھرکم پریس کانفرنس میں کیا۔ ایک سوال پر وزیر قانون نے کہا کہ آپریشن 100 فیصد درست تھا ، جو انٹیلی جنس کی بناء پر کیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی کی رپوٹ کا متن دستیاب نہیں تاہم یہ سوال تشنہ جواب ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں کس حد تک محکمے کے سربراہ ڈی آئی جی اور ڈی آئی جی آپریشنز کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ساہیوال اور ڈی ایس پی ساہیوال کی معطلی کی وجہ یہ شمار کی جا سکتی ہے کہ سانحہ ان کے علاقہ اختیار میں رونما ہوا اور ممکن ہے آپریشن سے پہلے انہیں مطلع کیا گیا ہو اور ان کی رضا مندی حاصل کی گئی ہو۔ رپورٹ کے مطابق مقتول خلیل ، اس کی اہلیہ اور بیٹی کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کے دستے کے پانچ اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ مقتول ذیشان کے بارے میں یہ معلوم کرنے کیلئے کہ اس کا دہشت گرد گروپ (داعش) سے کیا تعلق تھا مزید مہلت مانگی گئی ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ مذکرہ بالا افسروں کی اس سانحہ کی ذمہ داری کتنی تھی ؟ اور دوسرا یہ کہ جب مقتول ذیشان کے بارے میں اس کے دہشتگردوں سے تعلق کی مزید تحقیقات کرنے کیلئے وقت مانگا گیا ہے تو اس تحقیق سے پہلے ہی مقتول خلیل کو کن معلومات کی بنا پر بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ سوال ہے جس کا ذکر آئندہ سطور میں کیا جائے گا ۔ تاہم پہلے اس بات پر غور کیا جانا چاہیے کہ ذیشان جس کا تعلق دہشتگردوں سے بتایا جا رہا ہے اس کا مقتول خلیل سے کیا تعلق کیسا اور کتنا گہرا تھا ؟ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ذیشان اپنے گھر سے شاذ ہی نکلتا تھا دوسری طرف اس قدر اعتماد کیلئے کے خلیل اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اس کی کار میں سفر کر رہا تھا ان دونوں کے تعلقات گہرے اور خاندانی ہونے چاہئیں ۔دونوں خاندانوں کا آپس میں ملنا جلنا ہونا چاہیے یہ معلوم کرنا ضروری ہونا چاہیے کے خلیل اور ذیشان کب سے ایک دوسرے کے شناسا تھے اور یہ شناسائی کتنی گہری تھی ؟ یا کم از کم اتنا کہ ذیشان نے خلیل کو کس طرح آمادہ کیا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس کے ہمراہ سفر کرے۔ دونوں کا اگر کوئی لین دین تھا تو کتنا اور کس حد تک تھا ؟ جب تک یہ تحقیق نہ ہو اس وقت تک خلیل کو بے گناہ قرار دینا اجلت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ البتہ خلیل کی اہلیہ اور اس کے بچوں کو بے گناہ سمجھا جا سکتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کے ذیشان کے بارے میں مزید تحقیقات کے دوران نہ صرف اس کے دہشتگردوں سے تعلق کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی بلکہ اس کے خلیل کے ساتھ تعلق کی بھی تحقیق کی جائے گی ۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ ذیشان کے بارے میں بدھ کے روز صحافیوں کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی تاکہ حقائق سامنے آ سکیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے محض ایک یا دو دن کی مہلت مانگی تھی جس کے بعد بدھ کو بند کمرے میں بریفنگ دی جائے گی۔

دریں اثناء بتایا جا رہا ہے کے ذیشان نے عثمان نامی شخص کو ٹیلیفون پر میسج بھیجے تھے اور عثمان دہشتگردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں مارا جا چکا ہے۔ یہ بھی ایک ٹی وی چینل نے بتایا ہے کہ ذیشان جس کار کو ڈرائیو کر رہا تھا وہ اس کے اپنے نام پر نہیں بلکہ کسی اور کے نام پر تھی۔ اور وہ شخص بھی دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں مارا جا چکا ہے۔ ( یہاں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کے آج کل گاڑیاں کئی کئی بار فروخت ہو جاتی ہیں لیکن پہلے خریدار کے نام پر رہتی ہیں) تاہم یہ اطلاع اہم ہے اور اس پر مزید تحقیقات ہونی چاہئے ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ذیشان نے واٹس ایپ میسج میں دہشتگردوں سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اسے خود کش بمبار بنا لیا جائے۔ اخبارات میں یہ خبر بھی شائع ہو چکی ہے کہ ساہیوال میں ذیشان کے مارے جانے کی خبر ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد اس کے گھر سے دو افراد فرار ہوئے جن کا تعقب کیا گیا اور وہ گجراں والاں میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان اطلاعات کی بناء پر تیسرا اہم سوال جنم لیتا ہے کے جب ذیشان کے بارے میں اطلاعات تھیں کے اس کا تعلق مارے جانے والے دہشتگردوں سے ہے تو اسے زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ اس کے گھر سے جو دو افراد فرار ہوئے تھے انہیں زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ جس شخص کے نام پر ساہیوال سانحہ میں استعمال ہونے والی گاڑی تھی اس کے بارے میں مفصل معلومات کیوں نہ حاصل کی گئیں اور ذیشان کو زندہ گرفتار کر کے اس نے جس شخص سے واٹس ایپ پر خود کش بمبار بنائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اس تک رسائی حاصل کر کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور اس کے ارکان کو گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ خبروں میں بتایا گیا ہے کے ذیشان کی گاڑی کے ٹائروں کو گولی مار کر روکا جا چکا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے پہلے گاڑی سے بچوں کو نکالا اس کے بعد باقی مقتولین پر گولیاں برسائیں اگر بچوں کو نکالا جا سکتا تھا تو ذیشان اور خلیل کو بھی زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ یہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے بارے میں نہایت اہم گواہ ہوتے اور ان سے خاص طور پر ذیشان سے نہایت قیمتی سراغ مل سکتے تھے۔ کیا سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات دیے جاتے ہیں ؟ کیا ان کا یہ فرض نہیں ہونا چاہیے کہ وہ دہشتگردی کے الزام میں ملوث لوگوں کو زندہ گرفتار کریں۔(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں