Daily Mashriq


مساوی ترقی کی ضرورت

مساوی ترقی کی ضرورت

یہ بات کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ پارلیمانی نظام حکومت میں ملک کے مختلف اضلاع کئی انتخابی حلقوں میں تقسیم ہوئے ہوتے ہیں اور ہر حلقے کے لوگ انتخابی امیدواروں میں سے اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ دیکر منتخب کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور امیدوار اسی حلقے کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتے ہیں اور یوں وزیر‘ مشیر اور رکن اسمبلی کی حیثیت سے اپنے حلقے کے عوام کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی جائز ضروریات کی تکمیل کیلئے صوبائی یا وفاقی حکومت سے فنڈنگ منظور کرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

اصولی طور پر سارا ملک اور ہر صوبہ اراکین اسمبلی کو برابر محبوب وعزیز رہنا چاہئے کہ یہی حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ اس لئے اسمبلی کے اندر اراکین اسمبلی کے درمیان اس بات پر بھی اصولی اتفاق اور ایثار کا جذبہ ہونا ضروری ہے کہ صوبے یا ملک کے سارے اضلاع وصوبے ترقی کی دوڑ میں برابر کے شریک ہوں۔ اس سے ایک تو وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں پر معیار زندگی اور ضروریات زندگی کے حصول کیلئے بوجھ اور دباؤ کم رہے گا اور دوسرا دیہاتی آبادی کی شہروں کی طرف ہجرت کم ہوگی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر ملک میں بڑے شہر صنعتوں‘ تعلیمی اداروں اور تجارتی سرگرمیوں کے سبب انفراسٹرکچر اور زندگی کی بنیادی ضروریات یعنی بجلی‘ گیس پانی وغیرہ کے حوالے سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہئے لیکن ملک کے دیگر اضلاع اور علاقوں میں کم ازکم اتنی ترقی ضرور ہونی چاہئے کہ مختلف اضلاع اورصوبوں کے عوام کے درمیان حسد اور رقابت کے جذبات پیدا نہ ہوں کیونکہ قومی یکجہتی اور اتفاق کیلئے اس قسم کے احساسات زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی ایک دفعہ بری طرح بنگلہ دیش کی صورت میں شکار ہوچکے ہیں۔

لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہماری حکومتیں بہت کم نصیحت اور سبق حاصل کرتی ہیں۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب سارے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے اور اس میں اہل پنجاب کے عوام کی محنت اور بالخصوص انگریز کے دور سے تعلیمی اداروں‘ جامعہ پنجاب اور دیگر تاریخی کالجوں اور نہری نظام وغیرہ کا بھی بڑا کردار ہے لیکن اس کے باوجود حکومتوں کا کام یہ ہونا چاہئے تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا تھوڑا زیادہ خیال رکھتیں تاکہ یہاں کے عوام کے دلوں میں صوبائی تعصبات کے جذبات پیدا نہ ہوں اور تاریخ گواہ ہے کہ ان دونوں صوبوں میں بعض سیاستدان ان صوبوں کی پسماندگی کو ا یکسپلائیٹ کرتے رہے ہیں۔ سندھ کے دیہی حصے کا ابھی یہی حال ہے لیکن وہاں بھی نہری زمینوں اور کراچی کی آمدن نے بہرحال پنجاب کے بعد ان کو آسودہ حال بنایا ہے۔ اگرچہ وہ بھی پنجاب سے گلے شکوے کرتے رہتے ہیں اور یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ان تین صوبوں کی پسماندگی میں اگرچہ تاریخی عوامل کا بھی ایک کردار ہے لیکن یہاں سیاسی رہنماؤں کے کمزور کردار اور کرپشن سے بھی انکار ممکن نہیں۔ وفاق سے اربوں کا فنڈ عوام کے نام پر لیکر اپنی تجوریوں میں بھرنا یا اپنے ہی گھروں‘ عزیزوں‘ رشتہ داروں اور اقربا پروری پر خرچ کرنا اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ خیر یہ تو ملکی سطح کے مسائل ہیں‘ عمران خان کی حکومت اس مینڈیٹ اور دعوے کیساتھ آئی ہے کہ اب نیا پاکستان بنے گا تو اس میں مساوات کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوگی اور پائیدار ترقی کیلئے عوام پر پیسے خرچ ہوں گے تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو اور اس کے نتیجے میں پورے ملک میں بغیر امتیاز شہر ودیہات ترقی ہو۔

شاید اسی تناظر میں کے پی کے وزیراعلیٰ نے پچھلے دنوں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بہت دل خوش کن وعدے کئے۔ اللہ کرے کہ وہ اپنے ان سارے وعدوں کی تکمیل کرے کیونکہ اس وقت پختونخوا میں اس کی شدید ضرورت ہے۔ ایک تو اس لئے کہ گزشتہ دو عشروں سے یہاں دہشتگردی کے ہاتھوں جو تباہی ہوئی ہے اس نے یہاں کے عوام کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ دوسرا اس لئے کہ پندرہ برس بعد ایک ایسی حکومت آئی ہے جو وفاق کی ہم آہنگ ہے یعنی صوبے اور وفاق پر تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پھر یہاں کے عوام تحریک انصاف کو دوسری بار دوتہائی اکثریت سے کامیاب کرانا ان کو بنیادی حقوق اور وسائل کی عادلانہ فراہمی کے حق کو دوسرے سارے صوبوں اور علاقوں پر فوقیت دیتا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بلند وبانگ دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ثابت کروں گا کہ پورے صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں۔ ماضی کی زیادتیوں کے سبب چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی بڑھا ہے۔ ہماری دعا اور شدید خواہش ہے کہ محمود خان وفاق میں اپنے وزیراعظم عمران خان (جن کو پختونوں کیساتھ ایک خاص لگاؤ ہے اور اسی طرح پختونوں کو بھی ان سے محبت کا رشتہ ہے) سے اپنے صوبے کیلئے بجلی کا منافع جو کئی برسوں سے بقایا چلا آرہا ہے لانے کے علاوہ اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق اپنے دیگر حقوق بھی حاصل کرلیں لیکن جیسا کہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ میں پورے صوبے کا وزیراعلیٰ ہوں‘ ان کو اسی حوالے سے یہ بات بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں اور اضلاع کیساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں۔ مردان‘ بنوں‘ ایبٹ آباد‘ دیر کے بعض علاقے‘ سابق وزراء اعلیٰ اور وزراء کی خاص دلچسپیوں کے سبب خاص مراعات کے حصول میں کامیاب رہے ہیں۔(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں