Daily Mashriq


یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

فکر ہر کس بہ قدر ہمت اوست۔ اب وہ دور تو رہا نہیں جب چور مُردوں کے کفن چوری کرتے تھے اور لوگوں کو اپنے مردے دفنانے کے بعد تب تک ان کی قبروں پر ڈیوٹی دینا پڑتی جب تک ان کے قبروں کی مٹی خشک ہو کر سخت نہ ہو جاتی یا پھر اپنے پیاروں کی قبروں کو پختہ نہ کروا لیتے۔ ایسے ہی افراد میں وہ شخص بھی شامل تھا جو اپنی بیوی کی قبر پر بیٹھ کر اسے ہاتھ سے پنکھا جھل رہا تھا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو تو اس نے کہا‘ بیوی نے مرتے وقت بس یہی خواہش کی تھی کہ میری قبر کی مٹی خشک ہونے تک دوسری شادی نہ کرنا‘ اس لئے اس کی آخری خواہش پوری کرنے کیلئے پنکھا جھل کر قبر کی مٹی خشک کر رہا ہوں۔ خیر یہ تو ازراہ تفنن ہی ذکر آگیا، اصل مسئلہ تو چوروں کا ہے جو کفن بھی نہیں چھوڑتے تھے اور کفن چور کے بیٹے کا تذکرہ بھی اس کیساتھ آہی جاتا ہے جس سے فی الحال احتراز کرتے ہوئے موجودہ دور میں واپس آتے ہیں اور اس تازہ خبر پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ چور بنک کے اے ٹی ایم سے جنریٹر اور یو پی ایس لے اُڑے۔ یہی وجہ ہے کہ کالم کا آغاز فکر ہر کس والے مصرعے سے کیا اور چوروں کی بے وقوفی پر حیرت کا اظہار کرنے کے سوا اور کیا کیا جاسکتا۔ یعنی اے ٹی ایم مشین نوٹوں سے بھری ہوئی تھی مگر چوروں کی نظر انتخاب صرف جنریٹر اور یو پی ایس تک محدود رہی۔ ویسے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنہوں نے یہ حرکت کی وہ چور نہیں تھے بلکہ واپڈا کے ستائے ہوئے لگتے ہیں اور روز روز کی لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر بلکہ ہر دو تین مہینے بعد حکومت کی جانب سے بجلی نرخوں میں اضافے سے پریشان ہو کر جنریٹر اور یو پی ایس چوری کرنے پر مجبور ہوئے ہوں گے کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری‘ یعنی کیا لوڈشیڈنگ اور کیا بجلی بلوں کی ہر ماہ ادائیگی کا مسئلہ۔ بس ایک ہی بار دونوں جھنجھٹوں سے چھٹکارہ پا لیا جائے۔ اب اس قسم کے ضرورت مندوں کو تو شاباش دینا چاہئے کہ اے ٹی ایم مشین کو ہاتھ تک نہیں لگایا ورنہ تو آئے روز اے ٹی ایم مشینوں کو لوٹنے کی خبریں بھی تو آتی رہتی ہیں۔ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے چوروں کی حرکتوں پر غصہ نہیں آتا‘ اب یہی دیکھ لیں کہ بے چارے ہیروئنچی پیشہ ور چور تو نہیں ہوتے بلکہ اپنی نشے کی لت پوری کرنے کیلئے جی ٹی روڈ کے بیچ لگے وہ جنگلے اکھاڑ کر فروخت کر دیتے تھے جو سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ٹریفک کو نظم وضبط میں رکھنے کے کام آتے تھے۔ اس کا ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا تھا جو سڑک پار کرنے کیلئے یا تو انڈر پاسز کے استعمال سے گریزاں ہوتے تھے یا پھر جہاں جنگلوں سے بنے فلائی اوور کی سیڑھیاں چڑھنے اور اُترنے کی زحمت سے بچنا چاہتے تھے وہ بھی ان ہیروئنچیوں کی کارستانیوں کے طفیل جہاں سڑک کے درمیان لگے جنگلوں میں سے سیخیں نکالنے کی بدولت خالی ہونے والی کھلی جگہ سے آسانی سے گزر کر آر پار چلے جاتے تھے۔ ویسے حیرت کی بات یہ تھی کہ ہیروئن پی کر کیا ان میں اتنی قوت آجاتی تھی کہ لوہے کے جنگلے میں لگی وزنی سلاخیں اکھاڑنے میں کامیاب ہو جاتے تھے اور اس سے بھی زیادہ حیرت ان پولیس والوں پر ہوتی ہے جو رات کو گشت کے دوران جنگلہ چور ہیروئنچیوں کو روکنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے یا پھر شاید وہ بھی مظہر جان جاناں کی طرح کہتے ہوں گے

خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

چوری چکاری کا یہ سلسلہ جانے کب اور کہاں سے شروع ہوا مگر سفر طے کرتے کرتے مساجد تک جا پہنچا تھا اور یار لوگ نمازیوں کے جوتے چوری کرنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ اس پر صدیوں پہلے نظیر اکبر آبادی نے آدمی نامہ میں مسجدوں سے چوری کرنے والوں کے بارے میں لکھا تھا کہ

مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں

بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں

پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن ونمازیاں

اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں

جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

مساجد سے جوتیاں چرانے کا یہ سلسلہ اب بھی جاری وساری ہے‘ خود میرے ساتھ یہ حادثات ایک سے زائد بار رونما ہوچکے ہیں۔ جب ایک بار ملتان میں اور اس کے بعد یہیں اپنے شہر میں جوتی چوروں کے ہاتھوں اپنے جوتوں سے محروم ہونا پڑا۔ اب وہ دور بھی نہیں جب پشاور کے نامی گرامی چور ’’آغو‘‘ زندہ تھا اور عمر کے آخری حصے میں چوری چکاری سے توبہ تائب ہو کر قصہ خوانی بازار کی چوکیداری کرکے رزق حلال کمانے لگ گیا تھا‘ وہ رات کے وقت قصہ خوانی بازار مسگراں اور ایجرٹن روڈ کے سنگم پر چارپائی ڈال کر آرام سے سو جاتا اور اس کی پولیس اور دکانداروں کو یہ ہدایت تھی کہ اگر کسی دکان میں چوری ہو جائے تو اس کے وہاں جا کر جائے واردات کا معائنہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو بھی نہ چھیڑا جائے کیونکہ وہ ٹوٹے ہوئے تالے اور دکانوں کے دروازے توڑے جانے کی صورتحال دیکھ کر بتا دیتا تھا کہ اس واردات میں کون ملوث ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وہی چور نکلتا‘ دراصل پشاور کے سارے چور اس کے تربیت یافتہ تھے اور وہ طریقہ واردات دیکھ کر چور کا نام بتا دیا کرتا۔ اس لئے آغو چور جب تک زندہ تھا کوئی اس کے چوکیداری والے علاقے میں چوری کی جرأت نہ کرسکتا۔ رہ گئی بات اے ٹی ایم مشین توڑنے کی بجائے صرف جنریٹر اور یو پی ایس چوری کرنے کی تو یہ چور اگر پکڑے جائیں تو ان کو معاف کر دینا چاہئے اس لئے کہ ہم آج تک پورے پورے بنک ڈکار لینے والوں‘ اربوں کھربوں ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کرنے والوں‘ کک بیکس کے ذریعے کمیشن حاصل کرنے والوں کا کیا بگاڑ سکے جو ان ’’ضرورت مندوں‘‘ کو عبرت کا نشان بنا کر وکٹری کا نشان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

متعلقہ خبریں