Daily Mashriq


آئل سٹی میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری

آئل سٹی میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری

ایک طرف چین سی پیک اور دوسرے منصوبوں میں پاکستان میں 60ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ امارات نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے گوادر اور سی پیک کے منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کرے گا۔ حال ہی میں سعودی عرب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ گوادر میں میگا آئل سٹی بنائے گا۔ باالفاظ دیگر ایسے کارخانے بنائے گا جس سے تیل صاف کرنے اور تیل سٹور کرنے کی بھرپور صلاحیت ہوگی۔ تیل صاٖف کرنے اور تیل سٹور کرنے کا آئل سٹی نظام 80ہزار ایکڑ زمین پر بلوچستان کے گوادر میں تعمیر ہوگا۔ ابتدائی طور پر یہاں سعودی عرب کا تیل چین کو برآمد ہوگا۔ اس آئل سٹی کی تعمیر سے پہلے سعودی عرب کے تیل کی فروخت پر 40دن لگتے تھے اور آئل سٹی کی تعمیر سے سعودی عرب کا تیل گوادر کے راستے 4سے5 دن میں پہنچے گا۔ اگر ہم غور کریں تو پوری دنیا اور تمام ممالک کے تیل کا یومیہ خرچ 9کروڑ95لاکھ بیرل ہے۔ جس میں امریکہ کے تیل کا یومیہ خرچہ ایک کروڑ98لاکھ بیرل اور دوسرے نمر پر چین کا یومیہ تیل کا خرچہ ایک کروڑ50لاکھ بیرل ہے۔ چین سالانہ 141ارب ڈالر کا تیل 15ممالک سے خرید رہا ہے، ان ممالک میں روس سعودی عرب، عراق، اومان، متحدہ عرب امارات، ایران اور کویت شامل ہیں۔ ان ممالک میں ماسوائے روس کے زیادہ تر ممالک اسلامی ہیں جو پاکستان کے گوادر کے گہرے سمندر اور آئل سٹی سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ اللہ تعا لیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ان میں اکثر ایسے ممالک ہیں جو چین کو تیل فروخت کر رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان آپس میں کچھ اختلافات ضرور ہیں مگر یہاں دونوں ممالک کے مفادات آئل سٹی کی وجہ سے گوادر سے وابستہ ہیں جس کی بناء ہمیں پوری اُمید ہے کہ وہ کبھی بھی ایک دوسرے کیخلاف یا ان منصوبوں کیخلاف استعمال نہیں ہوں گے۔ اگر ہم مزید غور کریں تو روس، پاکستان، ترکی، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک جو ایک نیا اقتصادی اور بعد میں ملٹری اتحاد بنانے کے خواہاں ہیں ان کے چین کیساتھ پہلے سے انتہائی اچھے تعلقات ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس چین کو سالانہ 23ارب ڈالر، سعودی عرب 21ارب ڈالر، عراق 15ارب، اومان 13ارب، ایران 12ارب، کویت 8ارب اور متحدہ عرب امارات 4ارب ڈالر کا تیل برآمد کر رہا ہے اور یہی وہ مشترکہ مفادات ہیں جن کے نتیجے میں مندرجہ بالا ممالک سی پیک اور آئل سٹی کو کامیاب بنانے کیلئے کوشاں ہوں گے۔ اسی طرح وسطی ایشیائی ریاستیں جس میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان لینڈلاکڈ ممالک ہیں باالفا ظ دیگر ایسے ممالک ہیں جہاں سمندر نہیں اور پھر وہ بھی سی پیک اور آئل سٹی سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بھارت سے بھی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بھی سی پیک اور آئل سٹی سے فائدہ اٹھائیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت ایران سے یومیہ 5لاکھ بیرل خرید رہا ہے اور وہ بھی آئل سٹی سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عرب ممالک بشمول سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، اومان، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لینڈلاکڈ ممالک سی پیک اور آئل سٹی سے فائدہ اُٹھائیں مگر یہ تمام کام اس وقت تک منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک پاکستان اور افغانستان میں امن وامان کی صورتحال یقینی نہ ہو اور اس کیساتھ ساتھ پاکستان میں مستحکم تمام سیاسی پارٹیوں کی جمہوری حکومت نہ ہو۔ اس مقصد کے حصول کیلئے مسلح افواج اور سیاستدانوں کو ایک پیج پر ہونا ہوگا۔ اس وقت پاکستان کی اکثر مذہبی اور قوم پرست سیاسی پارٹیاں حکومت میں نہیں۔ بہرحال میگا آئل سٹی اور سی پیک ایسے منصوبے ہیں جن سے پاکستان کی بگڑی ہوئی اقتصادیات کو سہارا مل سکتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ دونوں منصوبے اس خطے کے ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکہ کی یونی پولر طاقت کی وجہ سے دنیا کے اربوں لوگوں کو بہت نقصان پہنچا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے تقریباً 4ارب انسان ایک دوسرے کے تجربات، وسائل، سائنس وٹیکنالوجی اور انفرا سٹرکچر سے بھرپور انداز میں مستفید ہو سکتے ہیں۔ میرے ناقص خیال میں امریکہ کے مقتدر ادارے اس علاقے میں ممکنہ اتحاد بنانے سے واقف ہو چکے ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس اتحاد میں دراڑ ڈالیں۔ ایران، ترکی، بھارت، پاکستان اور سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ اس خطے اور اربوں عوام کی خاطر اپنے اختلافات کو بھلائیں اور آپس میں اتحاد اور اتفاق سے رہیں کیونکہ مسائل طاقت کے بل بوتے سے حل نہیں ہوتے بلکہ ٹیبل ٹاک اور گفت وشنید سے حل ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں