Daily Mashriq

خواب اسی کو کہتے ہیں

خواب اسی کو کہتے ہیں

بہت پہلے کی بات ہے جب ہم نے ’’لگے نہ لگے برز ہے‘‘ کا محاورہ سنا تھا۔ یہ جملہ پہلی بار ہم نے جس سے سنا سو سنا پر ہم زندہ دلان پشاور کی زبان سے ہر اس موقع پر سنتے رہے جب وہ کسی کام کا آغاز کرتے وقت آپس میں شرط لگا رہے ہوتے یا کسی کام کو چیلنج سمجھ کر اس کا آغاز کر رہے ہوتے۔ جملے پر غور کرنے کے فوراً بعد ہمیں اس بات کی سمجھ آجاتی کہ یہ جملہ ادا کرنے والا کیا کہہ رہا ہے اس کی نیت اور ارادہ کیا ہے لیکن اس کے اس جملے میں استعمال ہونے والے لفظ ’بُ رُز‘ کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے تھے اور نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔ ہمیں اتنا یاد ہے کہ ہمارے بڑے بزرگ مینار یا کسی سٹوپے کو برز کہتے تھے سو ہم نے بھی اسے مینار یا سٹوپے کا مترادف یا متبادل مان لیا لیکن آج جب اس لفظ کے مستند معنی سمجھنے کیلئے لغت گردانی کرنے لگے تو ہم یہ بات جان کر اپنے بڑے بزرگوں کے لب ولہجہ سے پیار کرنے لگے کہ وہ یہ جملہ بولتے وقت برج کے جیم کو زے یا زا میں بدل دیتے تھے۔ یعنی وہ لگے نہ لگے برج ہے۔ کہنے کی بجائے لگے نہ لگے برز ہے کہہ دیتے تھے۔ ڈکشنری میں برج کے معنی ایک خاص نوعیت کے گنبد یا عمارت کے بتائے گئے ہیں اور عمارتیں گارے مٹی، ریت، سیمنٹ اور باجری جیسے بہت سے مواد کے علاوہ خیال ہی خیال میں بھی بنتی رہتی ہیں۔ جس طرح خیالی پلاؤ پکانے پر نہ چاولوں کی ضرورت پڑتی ہے نہ اس کی دیگ میں ڈالنے کیلئے گوشت مصالحے یا ان کو پکانے کیلئے ایندھن لکڑیاں چاہئے ہوتی ہیں بالکل اسی طرح خیالی تاج محل تیار کرنے کیلئے بھی کسی قسم کے راج مزدوروں اور تعمیراتی مٹیریل درکار نہیں ہوتا اور دل ہی دل یا سوچ ہی سوچ میں تصوراتی تاج محل بن جاتے ہیں۔

لیکن افسوس اس وقت آتا ہے جب خواب اور خیال میں بننے والی عمارتیں نہایت ناپائیدار ثابت ہوتی ہیں اور باقی رہ جانے کی بجائے ریت کے ٹیلے ثابت ہوتی ہیں اور

ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

رشتہ ومنزلے بہ دیگرے برداشت

کے مصداق ان کو گرا کر ایک بار پھر لگے نہ لگے برز ہے کہہ کر تصوراتی تاج محل تعمیر کرنا شروع کر دئیے جاتے ہیں۔ ہماری بلدیاتی تاریخ میں یہ عمل اس وقت سے جاری ہے جب سے انگریزوں کے چھوڑے ہوئے بلدیاتی نظام کو ہر دور کے حکمران نے موم کا ناک سمجھ کر اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق اس کو موڑتے رہنے کا شغل اپنایا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم بلدیہ پشاور کی مثال پیش کرتے ہیں جس کا ڈول برطانوی سامراج نے میونسپل کمیٹی پشاور کے نام سے 1896میں ڈالا۔ جس کے چار سال بعد 1900میں جب انگریز حکومت نے اس خطہ کو شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام دیا تو میونسپل کمیٹی پشاور کو صوبائی دارالخلافہ کے بلدیاتی ادارے کا درجہ حاصل ہوا اور یوں یہ اول درجہ کی میونسپل کمیٹی قرار دی جانے لگی۔ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا یہ نیم سرکاری بلدیاتی ادارہ میونسپل کمیٹی پشاور سے درجہ اول کی منزل تک پہنچی۔ اسے چاچا یونس جیسا تاریخ ساز سکتر میسر آیا۔ پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کی پرشکوہ عمارت کچہری روڈ پر تھی۔ 1960 کے دوران میونسپل کمیٹی پشاور کو اس عمارت میں منتقل کر دیا گیا جہاں آج کل سٹی گرلز کالج ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فیلڈ مارشل ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے نام سے بی ڈی سسٹم متعارف کرا کے بلدیاتی نظام کے ڈھانچے پر نت نئے تجربات کا آغاز کردیا تھا۔ ضیاء الحق کے دور حکومت میں اس سسٹم کو تبدیل کرکے اس میں نئے تجربات کی گرہ ڈالی گئی۔ مشرف نے عنان حکومت سنبھالا تو اس نے بلدیاتی نظام کی عمارت کو گرا کر حقیقی جمہوریت کے عنوان سے کچھ نیا کر دکھانے کی کوشش کی۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ جمہوری حکومتوں کے دور میں بلدیاتی نظام کی بیخ کنی کی جاتی رہی جبکہ ہر غیرجمہوری دور میں نت نئے تجربات کرکے اسے پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی رہی ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

الیکشن2018 کے دوران عارضی طور پر بلدیاتی نظام کو معطل کر دیا گیا کہ کہیں بلدیاتی نمائندے الیکشن کے جمہوری عمل پر اثرانداز نہ ہونے لگیں، ماضی میں بلدیہ پشاور میونسپل کمیٹی سے میونسپل کارپوریشن میں تبدیل ہوئی، پھر میونسپل کارپوریشن کو چار ٹاؤنز میں تبدیل کرکے مقامی حکومتوں کا ضلعی نظام متعارف کرایا گیا، گرچہ چار ٹاؤنز اور ڈسٹرکٹ کونسل کا نظام اب بھی موجود ہے لیکن شکست وریخت کا عمل برابر جاری ہے جس کی کاغذی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد لگے نہ لگے برز ہے کے محاورے پر عمل ہونا باقی ہے، دوسری طرف دیکھنے میں آیا کہ بلدیاتی نمائندے نظام میں اس قسم کے تجربات کے حق میں نہیں، بقول ان کے کوئی نظام بھی اس وقت تک ارتقاء کی منزلیں طے نہیں کر سکتا جب تک اسے ایک اور صرف ایک ڈگر پر چلنے نہ دیا جائے لیکن یہاں تو سالہا سال سے لگے نہ لگے برز ہے کے خواب بنے جا رہے ہیں اور خوابوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ خواب، خواب کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے، بہت دیکھ چکے ہم جاگتی آنکھوں کے خواب، اب ہم نے خواب وخیال کی دنیا سے نکل کر اپنے خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں نکل کھڑا ہونا ہے اور اگر تعبیر نہ ملی تو عمر بھر خواب ہی دیکھتے رہ جائیں گے کیونکہ

جس کی کوئی تعبیر نہ ہو

خواب اسی کو کہتے ہیں

متعلقہ خبریں