Daily Mashriq


احتساب کے لئے ادارے بنانے کس نے تھے؟

احتساب کے لئے ادارے بنانے کس نے تھے؟

پا ناما سکینڈل کے منظر عام پر آنے سے ان سطور کے لکھے جانے تک ہمارے ملک میں اس حوالے سے جو موج مستی عدالتی سماعت' جے آئی ٹی کی تحقیقات اور سیاستدانوں و سیاست کاروں کے بیانات نے جو رونق لگا رکھی تھی وہ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ باوجود اس کے کہ جناب وزیر اعظم اور ان کا خاندان اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر پایا لیکن ہمارے نون لیگی دوستوں کا دعویٰ یہی ہے کہ سازش ہو رہی ہے۔ کچھ طاقتیں ترقی کے عمل کو روکنا چاہتی ہیں۔ نواز شریف کے ایک دیوانے ماسٹر مشتاق تو اپنے قائد کے حق میں دلائل کے ایسے انبار لگاتے چلے جا رہے ہیں کہ کبھی کبھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ قیادت دلائل کے اس انبار کے نیچے دب ہی نہ جائے۔ مسلم لیگ کے اندر دو آراء ہیں۔ اولاً یہ کہ وزیر اعظم تبدیل کرلیا جائے تاکہ 2018ء کے انتخابات کے لئے نگران حکومتوں کی تشکیل میں مرکزی کردار محفوظ رہے اور قبل ازیں سینیٹ کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرلی جائے تاکہ کسی انتخابی انہونی کی صورت میں صدر مملکت اور چیئر مین سینیٹ اپنے ہوں۔ دوسری رائے ڈٹ جانے کے حق میں ہے۔ لڑنے مرنے پر تیار جی ٹی روڈ گروپ کی اکثریت کا تعلق نواز شریف کی کشمیری برادری سے ہے۔ خواجگان اسی کا حصہ ہیں۔ حیرانی ان دھانسو ٹائپ کمرشل لبرلز پر ہوتی ہے جو بنام جمہوریت جاتی امراء والی سڑک پر کئی ماہ سے دھمالیں ڈالتے بے حال ہولئے ہیں۔ ان دوستوں کا موقف ہے کہ نواز شریف جمہوریت کی علامت ہیں۔ ہم تو پی ایم آفس کے وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سیدی گیلانی وزیر اعظم تھے تو ان کمرشل لبرلز کی گز گز بھر کی زبانیں آگ لگاتی رہیں۔ گیلانی پی ایم کی بجائے یونین کونسل کا ناظم تھا کیا؟ بہت ادب کے ساتھ عرض کروں در اصل ہم سب چھوٹی اور بڑی برائی کے امتیازی چکر میں گھن چکر بن چکے۔ کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ عوامی جمہوریت کا راستہ طبقاتی نظام یا جرنیل شاہی کے کوچے سے نہیں نکلتا۔ سانپوں کے لشکر میں سانپ اور نیولے ہی پائے جاتے ہیں۔ عوام کے حق حکمرانی کے قیام کے لئے پر عزم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس جدوجہد سے ہی طبقاتی نظام کے محافظوں کا اعتماد توڑا جاسکتا ہے۔

سادہ سا سوال ہے جن جماعتوں کے اندر تیس چالیس سال یا کچھ اوپر سے جمہوریت کی روشنی نہیں پہنچی ان جماعتوں کے مالکان کو جمہوریت کی علامت کیسے سمجھ لیا جائے؟ مستقبل میں نون لیگ کے انتخابی اتحادی بننے کے معاملات طے کرچکی۔ اے این پی کے قابل احترام دوست بھی کمرشل لبرلز کی طرح ہی فرما رہے ہیں۔ احتساب سب کا ہونا چاہئے۔ احتساب کے نام پر اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو دیوار سے لگا رہی ہے۔ دو باتیں ان دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ اولاً یہ کہ یہی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال کرتی رہی یہاں تک کہ حضرت ایک دن کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ کا میلہ لوٹنے میں مدد دینے کے لئے سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔ ثانیاً یہ کہ پچھلے ستر برسوں کے دوران سیاست دان کہلانے والوں کو کم و بیش 35سال تو اقتدار کے لئے ملے۔ اب بھی مسلسل 9سال سے ان کے بقول جمہوری نظام ہی چل رہا ہے۔ تو کیاوجہ ہے کہ 35 برسوں یا پھر حالیہ 9سالوں کے دوران ان محبان جمہوریت نے احتساب کے لئے ( اجتماعی احتساب) ادارے کیوں نہیں بنائے؟ صرف یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی کہ جرنیلوں' ججوں' صحافیوں اور دوسروں کا احتساب نہیں ہوا۔ حضور پارلیمان موجود ہے۔ قانون سازی کرتے ادارہ جاتی کارروائی بھلے اداروں کے قواعد کے مطابق ہوتی مگر ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جاتی جس کو سب جوابدہ ہوتے وہ سب کا آزادانہ طور پر احتساب کرتا۔ یہاں حالت یہ ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے جس شخص( قمر زمان) کو نیب کا سربراہ لگایا یہ حضرت جنرل ضیاء الحق کی اہلیہ کے منہ بولے بیٹے تھے اور اس مرتبے کی وجہ سے کورٹ مارشل ( ائیر فورس میں پائلٹ تھے) سے محفوظ رہے بلکہ خصوصی حکم کے تحت انہیں فضائیہ سے ڈی ایم جی گروپ میں شامل کیاگیا۔ آج کس کو یاد ہے کہ بطور بیورو کریٹ خود ان پر بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے متعدد الزامات تھے اور چند ریفرنسز میں اسم گرامی بھی تھا۔ ایسے شخص کو نیب کا چیئر مین لگانے کے مقاصدکیا تھے؟ سادہ سا جواب ہے انہوں نے شریف خاندان کے خلاف19مقدمات کو فائلوں میں دفن کردیا۔ حدیبیہ پیپر مل والے کیس میں اپیل کرنا گوارہ نہ کی۔ جناب خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات نہ ہونے دی۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس جمہوریت کے عشق میں ہمارے کمرشل لبرلز' دیندار اور اے این پی و پیپلز پارٹی کے چند محبین مبتلا ہوں اس جمہوریت نے بالا دست خاندانوں کی ناز برداری کے سوا کیا کیا۔ اے این پی کے سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کا احتساب پشتون دشمنی ہے۔ اچکزئی کے احتساب کا مطالبہ بھی سازش۔ پیپلز پارٹی کے چند کرپٹ لوگوں کا احتساب شہداء کی قبروں پر حملہ' دینداروں کی لوٹ مار پر بات کرنا اسلام دشمنی' نواز شریف کا احتساب جمہوریت کے خلاف سازش' جہانگیر ترین وغیرہ کے معاملات پر بات نئے پاکستان پر حملہ قرار پاتا ہے۔ یہ سارے سیاستدان مل کر کرپشن کے تحفظ کا قانون کیوں نہیں بنا لیتے۔ مکرر عرض ہے احتساب کے لئے موثر قانون اور ادارہ نہیں بن پایا تو حکمران طبقات ذمہ دار ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں قانون بالادست طبقات کی رکھیل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ سوال یہ ہے کہ پھر بائیس کروڑ لوگ کیا کریں۔ انہیں بھی کھلی لوٹ مار کی اجازت دے دیجئے۔ آپ کا کتا ٹومی اور عام آدمی کا کتا کتا، یہ تو نا انصافی ہے۔ یاد رکھنے والی بات آقائے سید ابوالحسن امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہی تھی'' معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں''۔

متعلقہ خبریں