ترکی میںبغاوت کی پہلی سالگرہ

ترکی میںبغاوت کی پہلی سالگرہ

کیا کوئی لیڈراس قدر مقبول ہو سکتاہے کہ عوام اس کی ایک آواز پرلبیک کہتے ہوئے اپنی جانیںہتھیلی پر رکھ کرٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں، کیا کسی ملک کے عوام اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پوری رات انتظار کر سکتے ہیں، کیا کسی قائد کو اتنی پذیرائی حاصل ہے کہ عوام کھلے آسمان تلے رات سے طلوع فجر تک اپنے قائد کا خطاب سننے کے لیے جمع ہوں اور وہاں تل دھرنے کی جگہ نہ ہو؟ یہ اور اس طرح کے بیسیوں خصوصیات پر شاید آج دنیا کاکوئی لیڈر پورا نہ اُترتا ہو۔ لیکن ایک مرد درویش ایسا بھی ہے کہ جس میں نہ صرف یہ سب خصوصیات موجود ہیں بلکہ اس کے عوام اسے اس سے بھی بڑھ کر چاہتے ہیں، اس پراپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔وہ قائد ہر دلعزیز اور بے شمار اوصاف کا مالک ترکی کا صدر رجب طیب اردگان ہے۔جب تک میں نے اپنی آنکھوں سے ترک صدر کی مقبولیت کا منظر نہ دیکھا تھا اس وقت تک میرے تاثرات مختلف تھے۔ اب جب کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کو ایک سال بیت چکا ہے اور ترک حکومت نے بغاوت کی سالگرہ منانے کا اعلان کیا تو اس پروقار تقریب میں پوری دنیا سے چنیدہ افراد کے ساتھ پاکستان سے مجھے بھی مدعو کیاگیا۔ 15جولائی کو ترکی کی حکومت نے سالانہ عام تعطیل کااعلان کیا۔ حکومت نے 15جولائی کو''جمہوریت اوراتحاد'' کادن قرار دیا۔ اس موقع پراستنبول میں 2روز کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کر دی گئی ، جب کہ ترک موبائل آپریٹرز کی جانب سے صارفین کو بذریعہ میسجز آگاہ کیاجارہا تھا کہ صارفین اس موقع پر فری انٹرنیٹ سروس استعمال کر سکیںگے۔ 15جولائی کو ترکی میںصدارتی سوشل کمپلیکس میں یادگارِ شہداء کا افتتاح کیا گیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ 15جولائی یعنی ''یوم جمہوریت ' قومی اتحاد'' کو نہ فراموش کریںگے اور نہ ہی فراموش کرنے دیںگے اور ہم اپنے وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں پرعزم ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ برس 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت نے پوری دنیا پر سکتہ طاری کر دیاتھا ، دنیا اس وقت واضح طور پر دو حصوں میں منقسم تھی، ایک حصہ بغاوت کو کامیاب ہوتا ہوادیکھنے کا خواہش مند تھا تو دوسری طرف اسلام پسند ' امن وانسانیت پسند تھے۔ بغاوت کو انجام دینے والے' اس کے محرک و سرپرست اوردرپردہ ان کے شریک کار ' معاون و مددگار کامیابی کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے تھے تو اس ملک کے بیدار مغز سربراہ نے انہیں ناکام بنانے کے لیے ملک کے عوام کو سڑکوں پر اُتار دیاتھا،آخرکار وہاں کے عوام اپنے سربراہ کی توقع پر پورے اترے اور انہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہوئے اس بغاوت اور اس کے سرپرستوں کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔بغاوت سے کہیں زیادہ اس کی ناکامی دنیا کے لیے حیرت انگیز تھی۔ اس لیے کہ وہ تو کسی اور چیز کی توقع لیے بیٹھی تھی لیکن نتیجہ اس کے برعکس برآمد ہوا۔ ظاہر ہے یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جوہر ایک کی یادداشت میں ابھی تک تازہ ہے۔ ترکی کے عوام کے لیے تو گویا یہ کل کی نہیں لمحہ دولمحہ پہلے کی بات ہے ' اس لیے وہ اسے بھولنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے اس سالانہ تقریب کا اہتمام ملکی سطح پر ہی نہیں بین الاقوامی سطح پربھی کیا۔ ناکام فوجی بغاوت کی پہلی سالانہ تقریب کے موقع پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے جو باتیں کہی ہیں وہ غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ انہوں نے ترکی کی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ترک قوم نے 15جولائی کوفوج کی شکل میں منظم ہونے والے باغی ٹولے کے خلاف ایمان کی طاقت سے اور نہتے ہاتھوں جنگ کی جس کی دنیا بھر میںکوئی نظیر نہیںملتی… میںاس قوم کاحصہ اور اس وطن کی اولاد ہونے پر اللہ تعالیٰ کاشکر اداکرتاہوں۔''15جولائی کوانقرہ کے سٹی سنٹر میں بلاشبہ لاکھوں ترک جمع تھے، روایتی لباس زیب تن کیے اور ہاتھوں میں سرخ پرچم لہراتے ترکی کے عوام اپنے محبوب صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ یکجہتی اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع تھے۔ رات کے ڈھائی بجے ترک صدر رجب طیب اردگان کا خطاب شروع ہوا جب کہ عوام سرِشام یعنی پانچ چھ گھنٹے پہلے ہی جمع ہوگئے تھے ۔ترکی کی راتیںعام طور پر شدیدٹھنڈی ہوتی ہیںاس کے باوجود جوان' بوڑھے ' خواتین حتیٰ کہ بڑی تعداد میں بچے بھی موجود تھے،اس تقریب میں شہداء کے لواحقین کو خاص مقام حاصل تھا اور ان کیلئے خصوصی نشستیں صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ لگائی گئی تھیں۔ترکی کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے میں نے بھی روایتی سرخ رنگ کالباس پہنا ہواتھا جب وہاں کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے ترکی کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے اور ہمدردی کے لیے آئی ہوں تو خصوصی طور پر میراشکریہ اداکررہے تھے اور اس قدر پیار بھرے انداز میں مل رہے تھے کہ میرے لیے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ترکی میں جاکر پہلی مرتبہ مجھے معلوم ہواکہ دنیا کاکوئی لیڈر اپنے عوام میںاس قدر بھی مقبول ہوسکتاہے۔اس کے ساتھ ساتھ ترک عوام جومحبت پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے رکھتے ہیں اس کا صحیح معنوں میں مجھے اندازہ ترکی جا کر ہوا۔یہی وجہ ہے کہ میںرجب طیب اردگان کو صرف ترکی ہی کا نہیں بلکہ عالم اسلام کا لیڈر مانتی ہوں۔

اداریہ