جو کوئے یار سے نکلے تو ہسپتال چلے

جو کوئے یار سے نکلے تو ہسپتال چلے

جو کوئے یار سے نکلے تو ہسپتال چلےجانے ہمارے قارئین کو ظفرحجازی کیس میں کس حد تک دلچسپی ہے واللہ ہمیں بھی کوئی نہیں بس ذرا ان کی گرفتاری کے دن کے واقعات کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔ حجازی صاحب بزرگ صورت شخصیت ہیں ان کے چچا نسیم حجازی نے تو آخری معرکہ لکھا اور بے پناہ شہرت پائی ان کے بھتیجے سے آخری معر کے میں کچھ ایسی بھول چوک ہوگئی جس پر انہیں یہ دن دیکھنا نصیب ہوئے۔ موصوف سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کے چیئر مین تھے۔ ہم انہیں خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ گرفتاری پر انہیں براہ راست تھانے کی ہوا نہ کھاناپڑی' ہسپتال پہنچا دئیے گئے۔ دراصل جب وہ گرفتار ہونے پر عدالت سے باہر نکلے تو انہیں بیک وقت بے شمار عارضے لاحق ہوچکے تھے۔ ان کے ہاتھ میں رعشہ تھا۔ سانس لینے میں تکلیف پیدا ہوگئی تھی' سینے میں درد تھا اور دائیں بائیں آنکھیں باری باری بے تحاشا پھڑک رہی تھیں۔ یقین جانئے خود کو ان کی جگہ رکھ کر ہمیں ان کی حالت پر بڑا رحم آیا۔ ہمارے قارئین کو ان کے معاملے سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ پھر بھی ان کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات فراہم کرنے میں کیا حرج ہے۔ سوچتے ہیں بڑے لوگ اگر چھوٹے کام نہ کرتے تو ان کو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا' عزت سلامت رہتی۔ وہ جس ادارے کے سربراہ تھے ہمیں اس کے دائرہ کار کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ محکمہ وزارت خزانہ کے ماتحت ہے۔ کیبنٹ میٹنگ کے دوران ان کی گرفتاری کی خبر ایک چٹ کے ذریعے وزیر خزانہ تک پہنچی تو ان کی پریشانی دیدنی تھی۔ شریف خاندان کے کاروباری معاملات کی چھان بین کے دوران جے آئی ٹی کو پتہ لگا کہ ایس ای سی پی کے سربراہ نے اپنے دو اہلکاروں کو چودھری شوگر ملز کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر رد و بدل کرنے پر مجبور کیا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر ایف آئی اے نے حجازی صاحب کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور اپنی رپورٹ میں جے آئی ٹی کے الزامات کی تصدیق کردی۔ اس پر حجازی صاحب نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ریکارڈ میں مبینہ ٹمپرنگ کے الزام پر انہیں ان کے عہدے سے فارغ کردیا جاتا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور وہ بدستور دفتری معاملات نمٹاتے رہے۔ 20جولائی کو عبوری ضمانت کی میعاد ختم ہونے پر جب وہ عدالت میں پیش ہوئے تو جانبین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ان کی ضمانت منسوخ کردی اور انہیں گرفتار کرلیاگیا۔ یوں سمجھئے کہ ظفر حجازی صاحب کرپٹ میوزیکل چیئرز کے کھیل میں پہلے شخص ہیں جو اپنی چیئر سے محروم ہوگئے۔ ملزم کے وکیل اب بھی اس بات پر مصر ہیں کہ ان کا موکل بے قصور ہے اور انہوں نے اپنے کسی ماتحت پر ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے لئے کوئی دبائو نہیں ڈالا۔ جعلسازی کے اس کیس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟ اس کا فیصلہ تو عدالت کی صوابدید پر ہے۔ فی الوقت تو حجازی صاحب لاک اپ کی بجائے پمز ہسپتال کے کسی آرام دہ کمرے میں ان بیماریوں کا علاج کرا رہے ہیں جو عدالت سے ان کی ضمانت کی منسوخی پر اچانک اور یکلخت انہیں لاحق ہوگئی ہیں۔ ان کی دائیں آنکھ نے پھڑکنا شروع کردیا۔ بائیں کان میں درد محسوس ہوا۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئیں اور فشار خون میں اضافہ ہوگیا۔ ظاہر ہے اس نوع کی شدید بیماریوں میں مبتلا شخص اس پر چاہے کتنے ہی سنگین جرموں کے الزامات کیوں نہ ہوں ازراہ قانون اس سے کوئی باز پرس نہیں کی جاسکتی۔ تاوقت یہ کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہوجائے۔ یہاں تک کہ میڈیا والوں کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ اگر کوئی ایسی جرأت کرے تو ان کی وہی درگت بنا دی جاتی ہے جس کی مثال ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے کارندوں سے سلوک کی صورت میں ہمارے سامنے آئی۔ ان سے کیمرے چھین لئے گئے اور انہیں کمرے میں بند کردیاگیا۔ حجازی صاحب سے باز پرس کب ہوگی؟ اس بارے میں ان کے معالجین ہی کچھ بتا سکتے ہیں۔ یقین جانئے ہمیں ظفر حجازی کے کیس میں رتی بھر دلچسپی نہیں ان کی گرفتاری پر جو واقعات پیش آئے وہ ہماری دلچسپی کا باعث ہے۔ اختتامیہ کے طور پر ہمیں کرنل محمد خان کے ایک مضمون سفارش طلب کا ایک حصہ پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مجھے اشد ضروری اور بصیغہ راز جیسے تاکیدی الفاظ کے ساتھ ایک لفافہ ملا۔ کھولا تو ہمارے چچا نے لکھا تھا ۔ عزیز من! شیخ حاضر دین میرے ایک دوست کے داماد ہیں۔ بڑے شریف آدمی ہیں اتفاق سے ان پر چینی بلیک کرنے کا مقدمہ بن گیا ہے جس کی تفتیش مسٹر انصاری کر رہے ہیں جو بد قسمتی سے دیانتدار قسم کے آدمی ہیں اور کسی کی سنتے نہیں۔ تم اسی وقت مسٹر انصاری سے ملو اور شیخ صاحب کی گلو خلاصی کرادو۔ ورنہ شریف آدمی مفت میں جیل میں سڑتا رہے گا۔ آج کل آخر کون ہے جو بلیک نہیں کرتا۔یہاں بلیک کو ذرا ٹمپرنگ میں تبدیل کردیجئے اور شیخ حاضر دین کی جگہ ظفر حجازی کا نام ڈال دیجئے۔ آپ کو فرق نظر نہیں آیا؟ اسے محض اتفاق سمجھ کر نظر انداز کردیجئے۔ حضرت ظفر حجازی عدالتی فیصلہ آنے تک بے قصور ہیں۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ وہ جہاں رہیں خوش رہیں فی الوقت تو وہ ایک ہسپتال کے یخ بستہ کمرے میں فرو کش ہیں۔

اداریہ