والدین کے لیے لمحہ فکریہ

والدین کے لیے لمحہ فکریہ

میٹرک کا امتحان طلبہ کی زندگی میں ایک اہم سنگ میل ہوتا ہے جب میٹرک کا نتیجہ نکلتا ہے تو جہاں بہت سے طالب علم کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں وہاں بہت سے طلبہ ناکام بھی ہوجاتے ہیں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد طلبہ اور ان کے والدین کا رویہ دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب کچھ ان کے لیے غیر متوقع تھا وہ اس ناکامی کی امید نہیں رکھتے تھے اور یہ بڑی عجیب بات ہے ! میٹرک کے امتحان میں ناکامی کے بعد دو چار خودکشیوں کی خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں جو یقینا ایک بہت بڑا المیہ ہے ! ہمارا تو یہ خیال ہے کہ اس قسم کے واقعات میں رویوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے گھر کا ماحول ، والدین کی تربیت وغیرہ ! والدین کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جو اپنے بچوں کے تعلیمی حالات سے مکمل طور پر بے خبر ہوتے ہیں۔ بے خبری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا بچہ کس قسم کے دوستوں کی صحبت میں رہتا ہے لیکن جیسے ہی میٹرک کا رزلٹ نکلتا ہے تو جیسے سوئے ہوئے والدین بیدار ہوجاتے ہیںاپنے بچے کی مصروفیات سے بے خبر رہنے والے اب ایک طوفان کھڑا کردیتے ہیں ہر وقت اٹھتے بیٹھتے اپنے بچے کو کوستے رہتے ہیںکل ہمیں ایک دوست کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا ان کے بیٹے نے میٹرک کے امتحان میں بہت کم نمبروں سے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ سب مہمانوں کے سامنے اسے کوس رہے تھے ہمیں حیرت اس لیے ہوئی کہ وہ کوئی ان پڑھ والد نہیں ہیں بلکہ بہت پڑھے لکھے اور جہاندیدہ انسان ہیں ہمارے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جب یہ اپنے بچے کے ساتھ اس قسم کے رویے کو اپنائے ہوئے ہیں تو وہ والدین جو پڑھے لکھے نہیں ہیںان کا سلوک اس حوالے سے اپنے بچوں کے ساتھ کیسا ہوگا ؟ دراصل بچوں کی تعلیم و تربیت ایسا شعبہ ہے جو بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا ساری کہانی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ والدین کی کوئی قید نہیں ہے !تربیت کے حوالے سے جو نکتہ سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کو وقت دینا ہوتا ہے والدین کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جن کے پاس سب کے لیے وقت ہے لیکن اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں ہوتا مطالعے کے حوالے سے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کو اپنے سامنے بٹھا کر کسی کتاب کا کچھ حصہ انہیں ضرور سنائیں اور پھر ان سے کہیں کہ وہ ایک دو پیراگراف با آواز بلند پڑھیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے آہستہ آہستہ مطالعے کی طرف راغب ہوجائیں گے۔ مطالعے کی عادت زندگی کا ایک بیش بہا تحفہ ہے جو والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو دیا جاتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کی تعریف کریں ان کی حوصلہ افزائی کریں اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ وہ کامیاب ہوئے یا ناکام ! آپ کی تعریف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی ناکامیوں کو بھی مثبت انداز سے دیکھیں گے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی محنت جاری رکھیں گے بہت سے والدین یہ گلہ شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ان کے بچے ان کی بات نہیں سنتے ان کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے یہ بات باعث پریشانی نہیں ہے پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ آپ کے بچے آپ کو ہر وقت دیکھ رہے ہیں ایک رول ماڈل کے طور پر! اور کیا آپ ایک اچھے رول ماڈل کا کردار ادا کررہے ہیں ؟ آپ کے بچے آپ سے اچھی باتیں سیکھ رہے ہیں؟ آپ کی اچھی عادتیں سیکھ رہے ہیں؟بہت سے والدین اپنے بچوں کی بات کو ٹھکرانے کی عادت بد میں مبتلا ہوتے ہیں ہر وقت کا انکار آپ کے بچے میں احساس کمتری پیدا کرتا ہے اس کا اعتماد اپنی ذات سے اٹھ جاتا ہے وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ میری تو ہر بات غلط ہے میں تو کچھ کر ہی نہیں سکتا اور یہ رویہ آپ کے بچے کی ذہنی و اخلاقی نشوونما کے لیے خطرناک ہے! یہ صحیح ہے کہ بچے کی ہر بات نہیں مانی جاتی مگر اس میں اتنی احتیاط والدین کو ضرور کرنی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو منطقی انداز سے سمجھائیں انہیں اس کام کے مضمرات سمجھانے کی کوشش کریں جس کے کرنے پر وہ اصرار کر رہے ہیں یا پھر ا نہیں کوئی دوسرا متبادل راستہ سمجھانے کی کوشش کریں ۔ تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ملاحظہ کرتے جائیے کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو ہر وقت اپنے بچوں پر سوار رہتے ہیں ان کی ہربات ہر کام کو نوٹ کرتے رہتے ہیں رات دن انہیں مشورے دیتے رہتے ہیں یہ رویہ اس لیے خطرناک ہے کہ بچے کی اپنی خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی قوت مجروح ہوجاتی ہے وہ زندگی میں بڑے بڑے فیصلے کرنے سے محروم ہوجاتا ہے اسے اتنی آزادی ضرور دینی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے کام کرسکے اپنے فیصلے خود کرسکے اور اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرسکے !اپنے بچوں کے کیے ہوئے بہادری اور حوصلے سے کیے گئے چھوٹے چھوٹے کاموں کی خوب تعریف کرنی چاہیے اس سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ آنے والے وقت میں اپنے مسائل کا حل خود ڈھونڈنے کے قابل ہوجاتے ہیں ۔ آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں ترتیب نام کی چیز ختم ہو کر رہ گئی ہے کس وقت سونا ہے کس وقت بیدار ہونا ہے اپنے گھر کو منظم کیجیے اپنی اور بچوں کی زندگی میں ترتیب قائم کیجیے کس وقت کھیلنا ہے کس وقت پڑھنا ہے ؟ اگر آپ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں تو پھر یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ بچے سے میٹرک میں کم نمبر حاصل کرنے کی وجہ پوچھ سکیں اگر یہ سب کچھ نہیں ہورہا تو پھر آپ اپنے بچوں سے کچھ بھی پوچھنے کا حق نہیں رکھتے اس پر ضرور غور کیجیے گا!۔

اداریہ