جب چڑ یا ں چگ گئیں کھیت

جب چڑ یا ں چگ گئیں کھیت

گزشتہ روز جب سپریم کورٹ نے پانامہ کے مسئلے پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے ماہرین آئین و قانون کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تو حسب معمول تمام متعلقہ سیاسی جماعتوں کے رہنمائوںنے نہ صرف سپریم کورٹ کے باہر بلکہ بعد میں مختلف ٹی وی چینلز پر بھی سپریم کورٹ بینچ میں شامل فاضل جج صاحبان کے دیئے گئے ریمارکس پر اپنی اپنی پٹاریاں کھول کر من پسند تبصرے شروع کر دیئے ، رات کے تقریباً نو بج کر 23منٹ پر ایک کر مفرما کا جن کا تعلق ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ساتھ ہے ، موبائل میسج کے ذریعے صورتحال پر میرا تبصرہ معلوم کرنا چاہا ، دراصل محولہ دینی سیاسی جماعت ہراہم موقع پر اپنے ارکان کے ذریعے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ان کی رائے پوچھ کر مستقبل کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیتی ہے ، اور اس مقدمے میں وہ ویسے بھی شروع ہی سے گہری دلچسپی لے رہی ہے اس لئے مختلف الرائے لوگوں کی سوچ سے خود کو باخبر رکھنے کیلئے اس جماعت کے کسی رکن کی جانب سے آراء اکٹھی کرنا زیادہ ضروری تھا ، بہرحال میں نے جواب میں لکھا کہ صورتحال غیر یقینی ہے ، اور فاضل عدالت کا فیصلہ بھی غیر متوقع ہو سکتا ہے جس کے بارے میں کوئی پیشگوئی ممکن نہیں ۔ اگرموصوفنے میری رائے سے کوئی اختلاف نہیں کیا بلکہ اس پر قدرے اطمینان کا ہی اظہار کیا ، تاہم بات قابل غور ضرور ہے اور جو سوال پوچھا گیا تھا وہ اتنے مختصر جواب کا متقاضی بھی نہیں تھا ، لیکن دراصل میں نے صرف ایک برقی پیغام کے ذریعے سوال کے جواب سے مطمئن نہ ہوتے ہوئے ہی اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت محسوس کی ہے ۔سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ یقینا آئین اور قانون کے عین مطابق ہوگا اور اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے ، یہ الگ بات ہے کہ ہر فریق یہ توقع لگائے بیٹھا ہے کہ فاضل عدالت ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ دے ، مثلاً اگر تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ، شیخ رشید کے خیالات دیکھے جائیں تو وہ وزیر اعظم کو فوری طور پر نااہل دیکھنا چاہتے ہیں ، جبکہ حکمران جماعت کے زعماء اپنی جگہ مطمئن ہیں کہ بقول ان کے جے آئی ٹی نے سخت جانبداری سے کام لے کر نواز شریف اور ان کے خاندان پر بے بنیاد الزام عاید کئے ہیں اس حوالے سے بعض سابق جسٹس صاحبان اور سینئر وکلاء کی نپی تلی رائے یہ ہے کہ سپریم کورٹ کسی بھی صورت میں وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیکر ایک اور ایسا فیصلہ مسلط نہیں کرے گی جو بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کیس کی طرح پاکستان کی تاریخ میں متنازعہ بن جائے کیونکہ اگر سپریم کورٹ ایسا فیصلہ کرتی ہے تو وہ مدعاعلیہ کو اپیل کے حق سے محروم کرتی ہے ، حالانکہ اپیل کا حق اس کے بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے ، تاہم بعض دیگر آئینی اور قانونی ماہرین کی رائے اس کے بر عکس ہے ، اس لئے سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے اس کیلئے جہاں اتنے دن قوم نے انتظار کیا ہے وہاں چند روز اور سہی ، مگر ایک ایسا فیصلہ جس میں مدعا علیہ کو اپیل کے حق سے محروم ہونا پڑے۔ آگے جا کر ہماری سیاست پر جس قسم کے منفی بلکہ انتہائی شدید منفی اثرات مرتب کرے گا کہ جو لوگ آج انگریزی محاورے کے مطابق By hook by crook وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ چاہتے ہیں وہ اگر کل اقتدار میں آگئے تو خود وہ بھی اطمینان کے ساتھ حکومت نہیں کر سکیں گے اور سپریم کورٹ کو تو رکھئے ایک طرف ہائی کورٹ تک میں ان کے خلاف اس قسم کے مقدمات سامنے آئے جو آرٹیکل 62/63یا کسی اور آرٹیکل کے تحت قائم کئے جائیں گے تو انہیں وہاں نااہلی کے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ویسے بعض تجزیہ نگاروں نے اس حوالے سے ایک اہم نکتہ سامنے لانے کی کوشش کی ہے کہ اگر وزیراعظم کے خلاف فیصلہ آجاتا ہے تو صدر مملکت کی جانب سے ان کو فوری طور پر معاف کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آسکتا ہے ۔ جیسا کہ آصف زرداری کے دور میں پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم کو معاف کر کے سزا سے بچا لیا گیا تھا ۔ بہر حال یہ موضوع اس قدر اُلجھا ہوا ہے کہ حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ 

ہمارے ایک اورکر مفرما ڈاکٹر عبدالجلیل پوپلزئی نے گزشتہ رات واٹس ایپ پر کچھ پیغامات بھیجے جن میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی بغیر کسی فرد جرم کے مبینہ جبری جلاوطنی اور بقول ان کے پاسپورٹ ضبط کر کے دوبئی ہوٹل کے ایک کمرے میں محبو س رکھنے پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی جلد از جلد وطن واپسی کیلئے اقدام کرنے پر زور دیا گیا ہے ، یاد رہے کہ عید الفطر سے د و تین رو ز پہلے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے حوالے سے یہ خبر گردش کر رہی تھیں کہ انہیں اسلام آباد میں مشاورت کیلئے بلایا گیا تھا مگر بعد میں مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے مفتی صاحب کو زبردستی ملک سے باہر بھیجنے کے الزامات سامنے آئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالجلیل پوپلزئی مفتی صاحب کے انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں اس لئے ان کے دعوے کو درست قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ، چونکہ صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے انہی دنوں اس معاملے سے یہ کہہ کر برأت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی کہ صوبائی حکومت کا رویت ہلال کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے بال وفاقی حکومت کے کورٹ میں پہنچ جاتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مفتی شہاب الدین کو فوری طور پر وطن واپس آنے کی اجازت دی جائے۔
آسماں پر چاند نکلا بھی تو کیا
گھر کی تاریکی نمایاں ہوگئی