Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت یحییٰ بن معین نے تعارف کرایاکہ یہ احمد بن حنبل ہیں ۔ دونوں پائے کے عالم اور بڑے نیک بزرگ تھے ۔ دونوں کا مقام بڑا اونچا ہے ۔ یہ تعارف ہوا حضرت عبدالرزاق بن ہمام سے ، جو شیخ الحدیث تھے ۔ دور دور ان کی شہرت تھی ۔ یمن میں صنعا نامی جگہ ان کا قیام تھا ۔ عالم اسلام سے سینکڑوں طالب علم حدیث کی تعلیم کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ امام احمدبن حنبل کو بھی بڑی آرزو تھی کہ کچھ دنوں تک ان کی خدمت میں حاضر رہیں اور ان کے علم سے استفادہ کریں ۔ علم محنت سے آتا ہے ۔ اس کے لئے لگن کی ضرورت ہے ۔ احمد بن حنبل اپنے وقت کے امام کہلائے تو یہ صرف اسی وجہ سے ممکن ہو سکا کہ انہوں نے اپنی طالب علمی کے دور میں بڑی محنت کی ۔ اس وقت بھی جب اُن کا بڑا نام اوربڑی شہرت تھی وہ اپنے آپ کو طالب علم ہی سمجھتے رہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ علم کا شوق آدمی کو زندگی بھر طالب علم ہی بنائے رکھتا ہے ۔ چنانچہ جب شیخ صاحب سے ان کا تعارف ہوا تو انہوں نے ارشاد فرمایا میں ان کا شہر ہ سن چکا ہوں ! اما م احمد شافعی کے شاگرد تھے اور ایسے شاگرد کہ استاد محترم ان پرفخر کرتے تھے ۔ حضرت یحییٰ بن معین نے جنہوں نے حضرت احمد بن حنبل کا تعارف کرایا تھا شیخ سے عرض کیا کہ ہم انشا ء اللہ کل آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حدیث کا درس لیں گے ۔ شیخ نے فرمایا شوق سے آئو ۔ علم حاصل کرنے کی تڑپ ہو تو صاحبان علم خوش ہوتے اور طالبعلم کی ہمت بڑھاتے ہیں ۔ یہ ٩٩اھ کی بات ہے کہ امام احمد بن حنبل حج کے لئے گئے تھے ۔ حضرت یحییٰ بن معین بھی حج پر گئے ہوئے تھے دوران حج امام احمد نے اپنے دوست حضر ت یحییٰ سے فرمایا کہ شیخ عبدالرزاق کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ دن ان سے حدیث پڑھنا چاہتا ہوں حسن اتفاق کہ ایک دن یہ دونوں دوست طواف کر رہے تھے کہ شیخ عبدالرزاق نظر پڑے ۔ یحییٰ بن معین انہیں پہچانتے تھے ۔اس لئے جیسے ہی موقع ملا انہوں نے شیخ کے قدم جالئے اور اپنے دوست احمد بن حنبل کا تعارف کرایا پھر امام احمد کی خواہش کا ذکر کیا ، شیخ اجاز ت دے کر رخصت ہوئے تو احمد بن حنبل نے اپنے دوست سے کہا یہ تم نے کیاکیا شیخ سے کل کا وعدہ کر لیا ۔ یحییٰ بن معین نے فرمایا بھئی ! اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ یہیں مل گئے تمہارا بڑا وقت آنے جانے میں ضائع ہونے سے بچ گیا اور سفر کے اخراجات کی بھی بچت ہوگئی امام نے جواب دیا نہیں یہ بات غلط ہے میں اسے آداب تلمذ کے خلاف سمجھتا ہوں کہ شیخ کو یہاں دیکھا اور پکڑ لیا۔ میں یمن جائوں گا اور وہیں ان کی خدمت میں حاضر ہوں گا ۔ امام احمد بڑے غریب آدمی تھے ، سفر ان کے لئے بہت دشوار ہوتا تھا کیونکہ محنت مزدوری کر کے اپنا کام چلاتے تھے مگر علم کی لگن پھرعلم کی لگن ہوتی ہے پتہ نہیں علم کا یہ شوق اب مسلمانوں میں کیوں باقی نہیں رہا ۔ (روشنی)

متعلقہ خبریں