Daily Mashriq


آج کچھ درد دل میں سوا ہوتا ہے

آج کچھ درد دل میں سوا ہوتا ہے

اسلام آباد کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے مقتدر ادارے پر الزامات‘ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کا معاملے کا نوٹس لینا اور پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے محولہ الزامات پر سچائی جاننے کے لئے شفاف تحقیقات، مستزاد جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا اپنے الزامات کی تحقیقات کے لئے چیف جسٹس سے کمیشن تشکیل دینے اور کھلی عدالت میں میڈیا کے سامنے کارروائی کی استدعا ایسے معاملات ہیں جس پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتاہے۔ جن اداروں کے احترام اور حساسیت کے باعث ان کے حوالے سے اظہار خیال محتاط اور حد ادب میں کرنے کی روایت تھی اب ان اداروں کا از خود موضوع بحث بن جانا قومی المیہ سے کم نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً اس امر کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی کہ انگشت نمائی اور الزام تراشی کی نوبت آتی۔ معاملات اور الزامات کی صداقت اور حقیقت جو بھی ہو ہمارے تئیں اس ضمن میں مزید کرید اور خاص طور پر کھلی عدالت یا کمیشن میں معاملات کی تحقیقات یا کم از گفت و شنید سوال جواب اور وضاحت یا جو بھی صورت ہو گلی میں گندے کپڑے دھونے سے بھی ابتر معاملہ ہوگا۔ جن اداروں کاعزت و مرتبہ وقار اور حساسیت منفی تو کجا مثبت طور پر بھی آزادانہ بحث اور اظہار خیال مناسب نہیں۔ آج انفرادی ہی سہی الزامات ہی سہی مگر موضوع سخن تو بن چکے ہیں۔ ادارہ جاتی نمائندوں کی سطحی کشمکش اختلافات یا جو نام دیا جائے بیچ چوراہے ہنڈیا تو پھوٹ گئی۔ عوام سوچنے اور سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جن اداروں کی تکریم کے وہ قائل تھے معاشرہ قائل تھا میڈیا قائل تھا آج ان کے بعض ارکان کے باہم مد مقابل آنے سے پوری ساکھ دائو پر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ الزامات اور حقائق میں جتنا بھی فرق ہو قطع نظر اس کے کہ اس پر کیا کارروائی ہوتی ہے یا مصلحت کی ردا اوڑھ لی جاتی ہے یا جو بھی صورت اختیار کی جائے صورتحال کچھ اچھی نہیں۔ یہ معاملہ اس قدر نازک اور تکلیف دہ ہے کہ اس پر برد باری کے ساتھ خاموشی کااظہار ہی مناسب لگتا ہے یا پھر اس پر زیادہ سے زیادہ تاسف کا اظہار ہی موزوں ہوگا۔ بہر حال اب جبکہ معاملہ مختلف محتاط اور آزاد دونوں ذرائع سے زیر بحث آچکا ہے تو اس امر کا بہر حال الزام لگانے والے اور الزام کے متاثرہ فریق اور ادارے کو اپنے اپنے حوالوں سے صفائی پیش کرنے‘ الزامات کو غلط ثابت کرنے اور الزام لگانے والے سے قانون کے مطابق نمٹنے کی ضرورت تو پوری کرنا ہے۔پاک فوج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ریاستی ادارے پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کے حق کا بروقت استعمال کرکے معاملے کو اعلیٰ ترین عدالتی سطح پر نمٹانے اور نمٹنے کے لئے پیش کرکے اپنی ابتدائی ذمہ داری پوری کی ہے جس کے بعد چیف جسٹس پر منحصر ہے کہ وہ اس ضمن میں کس قسم کی تحقیقات اور فورم کو موزوں سمجھتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے پاکستان کے اہم ریاستی اداروں عدلیہ اور انٹیلی جنس ایجنسی پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ ریاستی اداروں کے تشخص اور ان کی ساکھ کو محفوظ بنانے کے لیے ان الزامات کی تحقیقات کروائی جائیں اور اس کے مطابق کارروائی کی جائے۔قبلِ ازیں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دبائو نہیں ہے، تاہم ساتھ میں انہوں نے معاملے کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ دیا تھا۔انہوں نے ریمارکس دیے تھے کہ اس طرح کے بیان ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہیں تاہم جائزہ لیں گے، کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے عدالتی معاملات میں خفیہ اداروں کی مداخلت سے متعلق ہائی کورٹ کے جج کی تقریر کا نوٹس لیا، جس میں جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی میں کی گئی تقریر میں عدالتوں میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو الزام عائد کیا تھا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) پوری طرح عدالتی معاملات کو مینی پولیٹ کرنے میں ملوث ہے اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا۔جس شخصیت کی جانب سے الزامات لگائے گئے ہیں اس حوالے سے پہلے ہی سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملات ہیں اور اس پر کارروائی ہونی ہے۔ علاوہ ازیں اس وقت جو سیاسی اور عدالتی فضا ہے اس سے بھی الزام لگانے والے کا متاثر ہونا نا ممکن نہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ مقاصد کا ہونا بھی نا ممکن نہیں۔ بہر حال اس پر زیادہ قیاس مناسب نہیں لیکن کچھ بھی ہوا یہ ہماری عدلیہ اور فوج کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس پر درد مندان وطن کو دلی صدمہ پہنچنا فطری امر ہے۔ گو کہ بطور ادارہ دونوں اداروں میں مکمل ہم آہنگی اور عزت و احترام کی فضا پوری طرح قائم ہے اور بطور ادارہ کسی اختلاف کا شائبہ بھی نہیں لیکن ان اداروں کی حساسیت اور عزت و احترام آبگینوں کی مانند ہے جن کو ذرا سی بات پر ٹھیس پہنچنا فطری امر اور تکلیف دہ بات ہے۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس معاملے پر کیا کارروائی ہوتی ہے۔ ہمیں افسوس اس امر کا ہے کہ یہ نوبت نہیں آنی چاہئے تھی۔ اداروں کے عہدیداروں اور ارکان کے درمیان اختلافات گلے شکوے اپنی جگہ درون خانہ معاملات جیسے بھی تھے اس پر کھلے فورم میں بات کرنا ہی مناسب نہ تھا کجا کہ الزام تراشی سے ماحول کو مکدر اور عوام کو تشویش و اضطراب کا شکار بنا دیا جائے۔ اس معاملے کی تحقیقات اور وجوہات و اسباب سبھی کا تعین کرنے اور جو بھی ملوث ہوں ان عناصر کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہئے۔ بہتر یہی ہوگا کہ مزید معاملات اس طرح سے عوام میں نہ آئیں کہ بے توقیری بڑھ جائے اور حاصل کچھ نہ ہو۔

متعلقہ خبریں