Daily Mashriq


ڈیرہ اور بنوں کے افسوسناک واقعات

ڈیرہ اور بنوں کے افسوسناک واقعات

ڈیرہ اسماعیل خان میں سابق وزیر زراعت اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اکرام گنڈہ پور کی خودکش حملے میں شہادت اور بنوں میں سابق وفاقی وزیر اور ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی پر حالیہ انتخابی مہم میں دوسری مرتبہ قاتلانہ حملہ صوبے میں امن وامان اور خاص طور پر انتخابی ماحول کیلئے زہر قاتل سے کم نہیں۔ مختصر مدت میں تین خودکش حملوں میں اُمیدواروں کی شہادت اور کئی چھوٹے بڑے حملے اور فائرنگ کے واقعات نے انتخابی عمل کو خونی بنا دیا ہے۔ خدا خدا کرکے انتخابی مہم کی مدت پوری ہو چکی لیکن محولہ حالات کے تناظر میں اس خدشے کا اظہار بے جا نہیں کہ پولنگ کے دن کا ماحول محفوظ اور خطرے سے خالی نہ ہوگا بلکہ خدانخواستہ اس روز بڑے واقعات کے خدشات ہیں جس کے انتخابی عمل پر اثرات کیساتھ ساتھ ملکی سیاست اور امن وامان کی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں اکرام گنڈہ پور کی شہادت کا واقعہ اسلئے بھی مزید دردناک ہے کہ ان کے بھائی کو بھی قبل ازیں خودکش حملے کا نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ پشاور میں بلور خاندان نے بھی گزشتہ انتخابات کی طرح اس مرتبہ بھی ایک سپوت کی قربانی دی۔ اکرم خان درانی مسلسل خطرات اور حملوں کی زد میں ہیں۔ کوئٹہ میں بدترین واقعے میں ایک ایسا شخص زندگی کی بازی ہار گیا جس کی حب الوطنی اور دشمنوں کیخلاف جذبات کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔ گو کہ نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دوست محمد خان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے سنگین واقعے کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جسے کامیابی ملنے کا بھی امکان ہے۔ کوئٹہ اور پشاور کے واقعات میں ملوث عناصر تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں لیکن ہمارے تئیں یہ سب کچھ سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ امر حیران کن ہے کہ اکرام گنڈہ پور بلٹ پروف گاڑی ہونے کے باوجود دوسری گاڑی میں کیوں بیٹھے۔ بہرحال ان کی قضا آگئی تھی ان کی جانب سے عدم احتیاط کی چوک اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ نے ان کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کیں۔ محافظین تو ان کے اپنے بھی تھے مگر وہ جس بھائی کی شہادت کے واقعے میں ملوث عناصر کیخلاف دھرنے میں شرکت کیلئے جا رہے تھے وہ سفر ان کا سفر آخرت ثابت ہوا۔ ان کے اس حساس روٹ کی ممکن ہے پولیس کو اطلاع ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اولاً ڈیرہ اسماعیل خان فرقہ وارانہ منافرت‘ دہشتگردوں کی کارروائیوں اور گنڈا پور خاندان کی دشمنی اور ان کو درپیش خطرات سبھی ایسے امور تھے جس کے پیش نظر یہاں پر سیکورٹی کی صورتحال اور خاص طور پر حساس اداروں کی نگرانی خاص طور پر چوکنا کرنے کی ضرورت تھی۔ اسی سنگین واقعے سے کم ازکم یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں غفلت کا عنصر غالب تھا جبکہ دوسری جانب اکرم خان درانی مسلسل حملوں کی زد میں ہونے کے باوجود ان کے روٹ اور ان کے جلسوں کی حفاظت کا معقول انتظام نہ کیا جانا صرف نظر کرنے کا حامل معاملہ ہے۔ اکرم خان درانی ایک اہم شخصیت کے مدمقابل ہونے کی بناء پر خاص طور پر اس درجے کی سیکورٹی کے مستحق ہیں جتنی مخالفین کو حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض جلسے پرامن اور بے خوف وخطر ہوسکتے ہیں تو بعض جلسوں کیلئے حملہ آور کہاں تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور ان کو اس قدر آزادانہ کارروائی کا موقع کیوں ملتا ہے۔ غرض بہت سے سوال ہیں جن پر غور کرنے سے معاملات سلجھتے نہیں الجھتے دکھائی دیتے ہیں گوکہ انتخابی مہم کا وقت ختم ہو چکا لیکن انتخابات کا اہم ترین مرحلہ باقی ہے جسے محفوظ بنانے کے تقاضوں پر اب بھی ہنگامی طور پر توجہ دینے اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں