Daily Mashriq


جب شک یقین میں بدل جائے

جب شک یقین میں بدل جائے

عام انتخابات میں اب جب کہ ایک ہی روز رہ گیا ہے تحریک انصا ف کے چیئرمین عمر ان خان نے ایک غیر ملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس دھڑکے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ کسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو سکے گی جس کے باعث ایک معلق پا رلیمنٹ کے وجود پذیر ہونے کے امکا نات ہیں موصوف نے اس امکا ن کے ظہو ر پذیر ہونے کو بدقسمتی قرار دیا ، ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک کو درپیش کٹھور مشکلا ت سے نمٹنے کے لیے ایک طاقتور پارلیمنٹ اور حکومت وجود میںآئے جو بڑے فیصلے دھڑلے سے کر سکے ، عمران خان نے اپنا یہ مو قف بھی بیان کیا کہ ان کو مسلم لیگ ن اور پی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنا ناگوارہ نہیں ہے اس سے بہتر وہ اپو زیشن چوکی پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے چنا نچہ انہو ں نے ساتھ ہی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں تحریک انصاف کو ووٹ دیں تاکہ ایک مضبوط حکومت تشکیل پا سکے ۔ فکر مندی یہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد سے دو تین روز قبل عمر ان خان کو ایسا اندیشہ کیو ں ہو اکہ معلق پا رلیمنٹ وجود میں آسکتی ہے جبکہ ان کو اس بات کا بڑا گھمنڈ رہا ہے کہ ان کی شخصیت کو عوامی کشش کا وہ گراف حاصل ہے جو کسی لیڈر کے نصیب میں نہیں ہے اور انتخابات کے نتائج یک طرفہ طورپر تحریک کے حق میں رہیں گے ۔ عین وقت پر مایوس ہو نا انتہائی بد شگونی ہو تا ہے جس کے نتائج بھی برے ہی نکلا کر تے ہیں ۔ معلق پارلیمنٹ کا ان کو کیسے گما ن ہو نے لگا تاہم اس بارے میں ناقدین کی رائے یہ ہے کہ وہ جن بیساکھیو ں کی وجہ سے خوش فہمی کا شکا ر تھییعنی نو از شریف کے جیل پدھا رنے کے بعد ان کے جلسو ں کی جو شان وشوکت ماند پڑی ہے اس نے فکر مند کر دیا ہے ، علا وہ ازیں جس انداز میں انتخابات میں جیپ اور کر سی وغیر ہ متعارف ہوئی ہیں اس نے بھی اندیشو ں کو یقین میں بدل دیا ہے کہ پارلیمنٹ معلق ہی آسکتی ہے ۔ عوام اس بات پر حیر ان ہیںکہ عمر ان خا ن جن کو شیخو لا ل حویلی نے کئی مرتبہ ٹی وی ٹاک کے پروگرامو ںمیں ٹانگہ پا رٹی کا طعنہ دیا آج وہ اسی ٹانگہ بان شیخو کے ساتھ حکومت بنا نے کے لیے تیا ر ہیں مگر نو از شریف اور آصف زرداری کے ساتھ ہا تھ ملا نے کو توہین جا نتے ہیںحالانکہ سیا سی اتحاد شخصی نہیںہو اکرتا وہ نظریا ت اور پا رٹی کی بنیا د پر ہوتا ہے۔ اگر نو از شریف اورآصف زرداری میں کوئی کج ہے تو وہ ان کے شخصی کردار کا ہے مگر اس کا ان کی جماعت سے کیا علا قہ اگر جماعت میںکج پن ہو تا تو عمر ان خان ان جماعتوںکے لو ٹوں کو اپنی جماعت میں نہ جو ڑ تے اور ان کو الیکٹ ایبل کا خطاب نہ دیتے۔2018ء کے انتخابات پاکستان کے واحد انتخابات ہیں جس کے بارے میںسبھی لیڈروں نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہا ر کیا ہے اور دھاندلی کے کہیں بھی اثرات ابھی نظر نہیں آئے مگر اس کا چر چا دوتین ما ہ سے شروع ہو چکا ہے۔ یہ بھی الزام لگ رہا ہے کہ لا ڈلے کو جتوانے کے لیے حالات سازگار کیے جا رہے ہیں لا ڈلے نا ز ونخر ے سے انکا ر کے لیے کئی مرتبہ قومی اداروں خا ص طورپر فوج ، الیکشن کمیشن کو اپنی اپنی غیر جا نبداری کا یقین دلانا پڑ ا ہے اس کے باوجود عمر ان خان کا بین السطور میں اندیشے ظاہر کر نا کوئی تک نہیں بنتا وہ خو د بھی کچھ کر کے دکھائیں ۔ حالانکہ الیکشن کے مو سم میں کچھ واقعات ایسے بھی ہو ئے کہ جس نے عمر ان خان کے نہیںدوسروں کے اندیشوںکو تقویت دی مثلاًحنیف عباسی کو رات کی سیا ہی کو ڈھلنے سے چند لمحے پہلے منشیات کا اسمگلر قرا ر دے کر تاعمر قید کی سزا اور تاحیات عوامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دید یا گیا ، اس فیصلے پر بھی عوام کا گما ن انتخابات کی طر ف اٹھ گیا ، حنیف عباسی پرایفی ڈرین کے غلط استعمال کا مقدمہ 2012ء میں قائم ہو ا تھا جب وہ اپو زیشن میںتھے ، کہا جا تا ہے کہ کچھ سرپر ستوں کے خلا ف حنیف عباسی نے مبینہ طور پر بیا نا ت دے دیئے تھے جس پر ان کو سبق سکھا نے کا فیصلہ کیا گیا ، حنیف عباسی کے خلاف یہ مقدمہ چھ سال سے زیر سماعت تھا اور اس کی سماعت کی تاریخ 21؍اگست مقر ر تھی کہ اچانک ایک ما ہ پہلے ہی مقدمہ نمٹانے کا حکم آ گیا کہ 21جو الائی کی تاریک رات کے خاتمے سے پہلے اس مقدمے کو نمٹایا جا ئے ، جبکہ صرف چار دن ہی تو انتخابات میں رہ گئے تھے ، حالا نکہ آصف زرداری اور فریا ل تالپور کی طلبی پر ا ن کو سہولت مل گئی کہ وہ انتخابات میں مصروف ہیں چنا نچہ ان کو انتخابات کے مرحلے تک طلب نہ کیا جا ئے۔ اسی طر ح عوام یہ بھی سوچ رہے ہیںکہ نو از شریف اور مریم نوا ز کی اگلی پیشی عام انتخابات کے بعد مقر ر ہوئی جس کی وجہ سے وہ انتخابات کی مہم کا حصہ بننے سے رہ گئے ، جب ایسی کھلی فضا میسر ہو جا ئے تو پھر کیا ؟آخر انسان کو اپنا بازوبھی تو آزما نا چاہیے ۔

غالباًیہ پند رہ سال پر انی بات ہے کہ بھارت کے ایک کثیر الاشاعت انگریزی روزنا مے ہندوستان ٹائمز سے وابستہ معروف خاتون صحافی جن کا نا م غالباًلکشمن پنڈت تھا پاکستان تشریف لائی تھیں ان کے اعزاز میںپشاور پر یس کلب کی جانب سے ایک عصرانہ دیا گیا تھا جس میں انہو ں نے راقم سے نجی طورپر گفتگو کر تے ہوئے بتایا تھا کہ ان کو را کے ایک اعلیٰ افسرنے بتایا کہ آئندہ بھارت میںمخلو ط حکومت ہی بنا کر ے گی پھر اس کے بعد ایسا ہی دیکھنے میں آیا ، بھارتی صحافی کے اس انکشا ف کے بعد پاکستان میں بھی مخلو ط حکومت کا چلن ہوا مگر عمر ان خان کی کسی بات سے اتفاق ہو نہ ہومگر اس بات سے ضروراتفاق ہے کہ مخلو ط حکومت کانٹوں کی سیج ہو تی ہے۔ ان کایہ فیصلہ تائید کے لائق ہے کہ پی پی یا مسلم لیگ ن کے ساتھ مخلوط حکومت میں جڑنے سے بہتر ہے کہ وہ اپوزیشن بینچو ںپر براجما ن ہو جائیں۔ مگر یہاں ایک گزارش ہے کہ وہ ایسا ضرور کریں لیکن 2013ء میں قائم ہو نے والی اسمبلی کے اپو زیشن لیڈر جیسا کر دار ادانہ کریںاس ملک نے بہت نقصان اٹھالیا ہے اب متحمل نہیںہو سکتا ۔

متعلقہ خبریں