Daily Mashriq


کن نصیبوں پر کیا اختر شناس

کن نصیبوں پر کیا اختر شناس

ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میاں افتخار حسین سیاست کیساتھ ساتھ پامسٹری میں بھی درک رکھتے ہیں اور اس حوالے سے پیشگوئیاں بھی کرتے رہتے ہیں، تاہم گزشتہ روز چھپنے والی ایک خبر کے مطابق میاں افتخار نے عمران خان کے بارے میں بڑے وثوق سے کہا ہے کہ خان صاحب کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر نہیں ہے۔ اب اس بات کا کھوج لگانا لازمی ہوگیا ہے کہ میاں افتخار نے عمران خان کا ہاتھ کب اور کہاں دیکھا تھا اور تب انہیں یہ اندازہ ہوا یا انہوں نے اپنے علم دست شناسی سے یہ معلوم کیا کہ عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر نہیں ہے، ویسے میاں صاحب کی اس پیشگوئی پر کچھ کچھ یقین کرنے کی وجوہات بھی موجود ہیں کیونکہ جس طرح عمران خان اور ان کے حواری ایک عرصے سے ’’وزیراعظم عمران خان‘‘ کے نعروں پر جس طرح وجد میں آرہے ہیں (اللہ کرے ان کی خواہش پوری ہو جائے) اس پر اب خان صاحب خود کچھ سوال اٹھا رہے ہیں یعنی گزشتہ روز ہی انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ الیکشن میں معلق پارلیمان بننا بدقسمتی ہوگی۔ گویا انہیں جو سبز باغ دکھائے جاتے رہے ہیں ان کو تعبیر سے پہلے ہی خزاں رسیدگی کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے اور اب انہیں بھی یہ احساس ہونے لگا ہے کہ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ۔ اس ضمن میں بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ جس طرح عمران خان نے ملک میں معلق پارلیمنٹ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے دراصل طاقت کے سرچشموں کیلئے یہی صورتحال زیادہ قابل قبول ہے کیونکہ ماضی میں بظاہر ایک طاقتور حکومت کے قیام سے اختیارات کی تقسیم اور بعض نازک پالیسیاں بنانے پر اختلافات کی وجہ سے سیاسی فضا میں سکون کی بجائے ’’طوفان‘‘ برپا ہوتے رہے ہیں جبکہ معلق پارلیمنٹ کی صورت میں طاقت کے توازن کو کسی بھی وقت مطلوبہ مقاصد کیلئے ماضی میں پیٹریاٹ یا فارورڈ بلاکس کے تعاون کی صورت ممکن بنایا جا سکتا ہے۔بات ہو رہی تھی میاں افتخار حسین اور ان کی دست شناسی کے حوالے سے چونکہ دست شناسی کیلئے خاصا وقت درکار ہوتا ہے یعنی جب تک کوئی دست شناس پوری فرصت سے معمول کا ہاتھ نہ دیکھ لے تب تک اس کے بارے میں وثوق سے کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہو سکتا اور جتنا ہم جانتے ہیں میاں افتخار اور عمران خان کی ایک ہی لمبی ملاقات ریکارڈ پر ہے یعنی جب عمران خان نے چند برس پہلے پشاور میںشوکت خانم ہسپتال کے قیام کیلئے اے این پی دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کیساتھ ایک تقریب میں ملاقات کی تھی اور جس میں محولہ ہسپتال کیلئے نہ صرف قطعہ اراضی بلکہ ابتدائی فنڈز بھی اے این پی حکومت نے مہیا کئے تھے، تاہم اس موقع پر عام لوگوں کے سامنے میاں افتخار کا عمران خان کا ہاتھ دیکھنا ممکن نہیں تھا، حالانکہ اس موقع پر اے این پی والوں نے عمران خان کو ہاتھ دینے میں بخل سے کام نہیں لیا تھا، جو فارسی کے ایک مقولے کے مطابق دوست آں باشد کہ گیرد دست دوست کے زمرے میں آتا ہے مگر بعد میں خان صاحب نے اے این پی والوں کو جواب میں ہاتھ دکھانے میں کوئی پس وپیش نہیں کیا، اگرچہ یہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں کیونکہ اگر لاہور میں پہلے شوکت خانم ہسپتال کے قیام کے موقع پر لیگ حکومت اور مرحوم میاں محمد شریف کے ذاتی طور پر ایک خطیر رقم اس کا رخیر کیلئے دینے جبکہ ہسپتال کا سنگ بنیاد میاں نواز شریف سے رکھوانے کے باوجود بعد میں خان صاحب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس زریں قول کو عملی شکل دینے میں بخل سے کام نہیں لیا کہ ’’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو‘‘ تو بے چاری اے این پی اور اس کے لیڈروں کو کس شمار قطار میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس لئے ہمیں تو یہ لگتا ہے کہ میاں افتخار حسین نے علم دست شناسی کے بجائے قیافہ شناسی سے کام لیا ہوگا۔ کیونکہ میاں افتخار حسین ماشاء اللہ سرد وگرم چشیدہ سیاسی رہنما ہیں اور سیاسی حالات پر ان کی گہری نظر رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کے بی بی سی کیساتھ انٹرویو میں خان صاحب کی بدن بولی یعنی بہ زبان انگلیسی باڈی لینگویج اور خاص طور پر ان کے چہرے پر اُبھرنے والے تاثرات سے اندازہ لگایا ہوگا کہ وزارت عظمیٰ کی لکیر عمران خان کے ہاتھ میں نہیں ہے حالانکہ ہم بصد احترام میاں افتخار حسین سے اختلاف کرتے ہوئے ایک بار پھر دعا گو ہیں کہ اللہ کرے عمران خان وزیراعظم بن جائیں تاکہ جس طرح بقول عمران خان ملک کے عوام باریاں لینے والے دونوں مقتدر خاندانوں کے کرتوتوں سے تنگ آکر ان سے ہمیشہ کیلئے نجات کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں اسی طرح خان صاحب نے جس طرح دونوں بڑی جماعتوں کے ’’فرشتوں یعنی الیکٹیبلز‘‘ کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کر کے صاف شفاف اور کرپشن سے پاک ’’نظام ‘‘ کے قیام کا وعدہ کر رکھا ہے، ان کا یہ خواب پایہ تکمیل تک پہنچ جائے حالانکہ اس صورتحال میں ہمیں وہ کفن چور اور اس کے فرمانبردار فرزند ارجمند کی یاد کیوں آرہی ہے، اگرچہ ایسی فضول سوچ کا نہ موقع ہے نہ محل، لیکن خیالات کی رو کبھی کبھی بھٹک بھی جاتی ہے، جس کے بعد اگر عوام پھر بھی روتے بسورتے رہیں گے تو ان کی قسمت کہ پشتوکی ایک ضرب المثل کے مطابق ’’نصیبوں سے فرار ممکن نہیں ہے۔ گویا بقول مرزا غالب

کن نصیبوں پر کیا اختر شناس

آدمی بھی ہے ستم ایجاد کیا؟

متعلقہ خبریں