Daily Mashriq


مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

چند اور صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر رہ گئی ہیں۔ انتظار کی وہ ساعتیں، وہ گھڑیاں، وہ لمحات جب ملک اور قوم کی تقدیر بدل دینے کے دعویدار پاکستانی عوام کی حق رائے دہی کی کسوٹی پر پرکھے جا ئیں گے۔ کون سچا ہے کون جھوٹا، کون کھرا ہے کون کھوٹا، عوام کس کو چاہتے ہیں کس کو ٹھکراتے ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔ کون دودھ ہے، کون پانی اور کون دودھ ملا پانی یا پانی ملا دودھ، اب سے چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہے۔ 25 جولائی 2018کی وہ صبح جس کا سورج امید کی کرنیں لے کر طلوع ہوگا۔ صبح کے آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔ ووٹ پول کرنے والے اپنے اپنے گھروں سے نکل کر پولنگ سٹیشنوں کو جائیں گے یا لے جائے جائیں گے۔ ان کے قومی شناختی کارڈ کی اصل کاپی کی مدد سے پولنگ سٹیشن پر موجود عملہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں یا ان کی سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹوں کی موجودگی میں ووٹر لسٹ میں موجود ان کے نام، تصویر اور دیگر کوائف کی تصدیق کرے گا اور ضابطے کی جملہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے قومی اسمبلی کا ووٹ پول کرنے کے لئے سبز رنگ کا اور صوبائی اسمبلی کا ووٹ پول کرنے کیلئے سفید رنگ کا بیلٹ پیپر جاری کرے گا۔ بیلٹ پیپرز یا ووٹ کی ان پرچیوں پر الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے نام اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ان کو جاری کئے گئے انتخابی نشان چھپے ہونگے۔ بیلٹ پیپر یا ووٹ کی اس پرچی کو خفیہ بیلٹ پیپر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ووٹر اسے پولنگ سٹیشن میں موجود پہلے سے بنائی گئی یا مقرر کی گئی کسی خفیہ جگہ پر لے جا کر اپنی پسند کے امیدوار کے نام اور اس کے انتخابی نشان پرچوکور خانوں والی مہر ثبت کرے گا اور پولنگ سٹاف یا پولنگ ایجنٹ کی ہدایات کے مطابق ووٹ کی اس پرچی کو تہہ کر کے مقفل یا سیل بند بیلٹ باکس یا ووٹوں کے ڈبے یا بکسے میں ڈال کر اس اہم ملکی اور ملی فریضہ سے عہدہ برآ ہو جائے گا۔ اپنا قیمتی ووٹ پول کرنے کے بعد اگر وہ چاہے توگھر کی راہ لیگا، زندگی کے دیگر معمولات میں مشغول ہو جائے گا یا اس طرفہ تماشا کا حصہ بن جائے گا جسے الیکشن 2018 کی سرگرمیوں، ہنگاموں یا الیکشن میلے کا نام دیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کے میلے کا میدان اسی روز سے سجنا شروع ہو گیا تھا جس روز سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں نے اپنی معینہ مدت پوری کرلی تھی، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے الیکشن کی تاریخ مقرر ہوگئی تھی، کچھ لوگوں نے الیکشن 2018ء کو زندگی اور موت کا کھیل بنا لیا تھا،

موت کا اک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

کے مصداق بہتوں کی رات کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ پرنٹنگ پریس والوں اور انتخابی بینرز اورانتخابی مصنوعات بنانے والوں کی چاندی ہوگئی تھی، گالم گلوچ اور دشنام طرازی کا بازار گرم ہوگیا تھا، موت کے سوداگر ملک کا امن وسکون تباہ کرنے اور اپنے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے کیلئے خودکش حملوں کیلئے کمر بستہ ہو گئے تھے، کچھ دمکتے چہرے جام شہادت نوش کرکے ابدی نیند سو گئے، کچھ خودکش حملوں میں بال بال بچ گئے، بہت سے ہسپتالوں کے بستر پہنچ کر زندگی کی کٹھنائیوں اور تلخ حقیقتوں کی ٹیسیں برداشت کرنے لگے، کچھ لوگوں نے فوٹو سیشن کے ذریعے اپنی کارکردگیوں کو اجاگر کرنا شروع کردیا اور کچھ اپنی کرنی کی سزا بھگتنے یا بزعم خود قانون کو پامال کرنے یا ہیرو بننے جیل یاترا کرنے آگئے، پگڑیاں اچھلتی رہیں، اخبار کے صفحات خون آلودہ ہوتے رہے، اس سارے ہنگامے کے باوجود رب تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ گھڑی آن پہنچی جس کا ساری قوم کو شدت سے انتظار تھا، یہاں ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ ایسی گھڑیوں ساعتوں اور لمحات کا ان لوگوں کو بھی انتظار ہوتا ہے جو ملک اور ملت کے خیرخواہ نہیں ہوتے، ملک کو بدنام کرنے یا خاکم بدہن اور نصیب دشمناں ملک میں بدامنی اور تباہی پھیلانے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے، ایسے ناعاقبت اندیشوں کے عزائم کو ناکام بنانے اور ملک اور قوم کے گرد حفاظتی حصار باندھنے کا کردار افواج پاکستان اور ہماری سیکورٹی فورسز جنگ اور امن کے ہر دور میں ادا کرتی رہی ہیں، اللہ کے فضل وکرم سے وہ

ہر گھڑی تیار ہوشیار ہیں ہم

کے مصداق اب بھی ہوشیار اور چوکنے ہیں، لکن یہاں ہمیں اپنے قارئین کو بتانا ہے کہ وہ قوم کی مقدس امانت ووٹ کی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی پسند کے امیدوار کے پولنگ باکس میں ڈالنے کے بعد الیکشن میلے یا الیکشن کے ہنگاموں کا حصہ بن کر طرفہ تماشا رچانے کی بجائے سیدھا اپنے گھر تشریف لائیں اور اپنے گوشہ عافیت میں بیٹھ کر گھر کے دیگر افراد کیساتھ مل کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ترین ذرائع کی مدد سے ملک کے اندر اور ملک سے باہر کے کونے کونے اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے آگاہ ہوتے رہیں، اگر آپ کسی وجہ سے جہاں بھر کی خبروں سے آگاہی حاصل کرنے سے رہ گئے تو کوئی بات نہیں اگلے روز نیلے گگن کے اس پار آسمان کے مشرقی افق سے صبح نو کا سورج طلوع ہوتے ہیں۔ روزنامہ مشرق آپ کے ہاتھوں میں جملہ خبروں کی منہ بولتی تحریر وتصویر کی رسید بن کر آپ کے ہاتھوں میں ہوگا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یہی پیغام تھا ہمارے آج کے کالم کا جس کا خلاصہ شاعر مشرق نے چند الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہہ دیا کہ

کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

چند گھنٹوں کے فاصلے پر ہیں انتظار کی گھڑیاں، آئیں کہ مل کر دست دعا بلند کرتے ہیں

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو بے خبر سوتا

رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

متعلقہ خبریں