Daily Mashriq


پولیس ریفارمز کی ضرورت

پولیس ریفارمز کی ضرورت

کسی بھی سماج میں پولیس کے عموماً دو رویے ہوتے ہیں ۔ ایک رویہ مجرموں کے ساتھ جب کہ دوسرا رویہ عام شہریوں کے ساتھ ۔مجرموں کے ساتھ پولیس کا رویہ خوف و دہشت کی علامت ہوتا ہے جب کہ عام شہریوں کے ساتھ اس کا رویہ دوستانہ ہوتا ہے۔ ان خطوط پر پولیس عمل پیرا ہو تو معاشرے سے جرائم کی شرح انتہائی محدود ہو جاتی ہے اور اگر پولیس ان خطوط سے ہٹ جائے یعنی مجرموں کے لیے خوف و دہشت کی علامت نہ رہے تو سماج میں جرائم سرایت کر جاتے ہیں ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو بھی حکومت آئی اس نے اپنے تئیں محکمہ پولیس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔ کئی ایک حکمرانوں نے پولیس اصلاحات کے نام پر نئی فورس کا آغاز بھی کیا‘ شہباز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ایلیٹ فورس بنائی ‘ جس پر بے بہا سرمایہ بہایا گیا ،ایلیٹ فورس کا بنیادی مقصد جرائم کی روک تھام اور دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانا تھالیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایلیٹ فورس اپنی متعین کردہ حدود سے ہٹ گئی اور خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔ اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے پیٹرولنگ پولیس بنائی‘ جس کا مقصد روڈز کو محفوظ بنانا اور راہگیروں کو چوروں ‘ ڈکیتوں سے محفوظ بنانا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی نے یہ فورس برطانیہ سے متاثر ہو کر بنائی تھی‘ جس کے خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے تھے،روڈز پر ڈاکے اور شہریوں کو لوٹنے کے واقعات کم ہو گئے تھے لیکن جیسے ہی ان کی حکومت ختم ہوئی اور شہباز شریف پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آئے، انہوں نے پیٹرولنگ پولیس کو اول اول نظر انداز کرنا شروع کیا‘ بعد میں ان کی تنخواہیں نہ بڑھا کر اور سہولیات کی عدم فراہمی کے بعد آج صورت حال یہ ہے کہ پیٹرولنگ پولیس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہباز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں ڈولفن فورس بنائی جس کا مقصد بھی روڈز کو محفوظ بنانا اور روڈز پر شہریوں کو چوروں ‘ ڈکیتوں سے محفوظ بنانا تھا۔ اس فورس کو ہیوی بائیکس اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا لیکنگزشتہ تین سال کے عرصہ میں یہ فورس بھی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی ہے۔ دو بائیکس پر مشتمل ڈولفن فورس کا مختصر کانوائے گشت کرنے کی بجائے جگہ جگہ کھڑا دکھائی دیتا ہے اور عام مشاہدہ میں آیا ہے کہ اکثر و بیشتر موٹر سائیکل سواروں کو روک کر کاغذات چیک کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلے سے موجود پنجاب پولیس بھی اکثر و بیشتر موٹر سائیکل سواروں کو ہی روکتی ہے ۔کاش! ہمارے حکمران جانتے کہ نئی فورس سے زیادہ اور اہم کام پہلے سے موجود فورس کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، پولیس کی ٹریننگ خاص خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں پولیس کا رویہ مجرموں کے بارے میں دوستانہ جب کہ عام شہریوں کے بارے میں خوف و دہشت کی علامت بن چکا ہے۔ عام شہریوں کے ساتھ پولیس کے رویے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی شہری کے ساتھ کوئی انہونی ہو جائے اور اسے مجرم بارے معلوم بھی ہو تب بھی وہ پولیس اسٹیشن جا کر اس کے خلاف کمپلین نہیں کروائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پولیس اسٹیشن جاتے ہی سب سے پہلے میری انکوائری شروع ہو جائے گی‘ الٹا مجھ پر یا میرے گھروالوں پر ہی شک کیا جائے گا اور بعد میں مجھ سے جیب گرم کرنے کی ڈیمانڈ کی جائے گی۔ پولیس کا رویہ اگر دیکھنا ہو تو روڈز پر لگے پولیس ناکوں پر بھی اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں آپ کی گاڑی رو ک کر آپ سے اس لہجے میں بات کی جاتی ہے کہ کمزور آدمی خود ہی جان چھڑانے کے لیے پولیس کی جیب گرم کردے گا۔ چند روز قبل دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کیلئے جانا ہوا ‘ راستے میں پولیس چوکی پر ہمیں روک لیا گیا اور سب سے پہلا سوال کہ کہاں جار ہے ہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ بھائی اسلام آباد کے رہنے والے ہیں اور اسلام آباد ہی جارہے ہیں ۔ دوسرا سوال کرنے سے پہلے ہم میں ایک دوست نے کہہ دیا کہ یہ قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں براہ مہربانی جانے دیں۔ یہ سنتے ہی پولیس اہلکار بڑے ادب سے بولا کہ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایااور ہمیںجانے کا سگنل مل گیا، ہم پولیس اہلکار کے برتاؤ ، ٹریننگ اور تربیت پر ہکے بکے رہ گئے کہ ہماری پولیس کی ٹریننگ پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی۔ویسے تو پورے ملک کی پولیس کی تربیت پر خاص توجہ کی ضرورت ہے لیکن پنجاب اور کراچی کی پولیس خاص توجہ چاہتی ہیں،جن میں سرفہرست یہ ہونا چاہیے کہ تعلیمی اعتبار سے کوئی بھی اہلکار گریجویشن سے کم نہ ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پولیس اہل کاروں کو بتایا جائے کہ عام شہریوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ ہونا چاہیے۔ رشوت خوری کے سدِ باب کے ساتھ ساتھ ایسا ٹول فری نمبر جاری کیا جائے کہ شہری پولیس اہلکاروں سے متعلق متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکیں۔ جہاں تک ہمارا خیال ہے نئی فورس بنانے کی بجائے پہلے سے موجود فورس اور عوام کے درمیان ایسا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی جائے کہ ہر شہری جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اٹھ کھڑا ہو ۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب پولیس کا رویہ عوام کے ساتھ دوستانہ ہو گا۔ عمران خان نے خیبر پختونخوا کی حد تک پولیس کی اصلاح کے لیے اقدام اٹھایا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ خرابی بہت زیادہ ہے اس لیے صوبائی نہیں بلکہ ملکی سطح پر ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں