Daily Mashriq


ماضی کی اور موجودہ ایم ایم اے میں فرق

ماضی کی اور موجودہ ایم ایم اے میں فرق

بُک، واٹس ایپ اور ابلاغ عامہ کے دوسرے سماجی ذرائع پر تمام سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکن اور لیڈران25 جولائی کے انتخابات کیلئے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے بارے میں سروے دیتے ہیں اور اپنی پارٹی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ2018 کے الیکشن میںعمران خان وزیراعظم بنے گا۔ کوئی کہتا ہے بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بنے گا۔ کوئی کہتا ہے باچا خانی چاہئے، کوئی کہتا ہے عمران خانی چاہئے اور کوئی کہتا ہے نواز خانی چاہئے۔ ہرکوئی اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کے لیڈر کو کبھی وزرائے اعظم اور کبھی وزیراعلیٰ بناتا ہے۔ ایک مداری کی طرح اپنے لیڈر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔2018 کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل بھی ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر ابھرسکتی ہے۔ ہمیشہ دوسری سیاسی پارٹیوں کے ورکروں اور لیڈروں کا شور جاری رہتا ہے اور مذہبی پارٹیاں ہمیشہ انتخابی مہم میں خاموش ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود اچھا خاصا ووٹ لیتی ہیں اس سلسلے میں چارسدہ سے مولانا حسن جان صوابی سے قاضی فضل اللہ اور پنج پیر سے عثمان ایڈووکیٹ اور اس کے علاوہ ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ماضی میں انتخابات میں کوئی بھرپور الیکشن مہم نہیں چلائی مگر پھر بھی اچھی خاصی اکثریت سے جیت گئے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام پورے زور وشور سے 2018 کے انتخابات کیلئے تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے ایشوز سے لیکر بڑے سے بڑے مسئلے پر دونوں سیاسی پارٹیاں کافی متحرک نظر آتی ہیں۔ میرے ناقص رائے کے مطابق وہ مین سٹریم یعنی بڑی سیاسی پارٹیاں جو ایم ایم اے کو بھول رہی ہیں اور ان کے سروے میں ان کیلئے کوئی گوشہ نہیں ہوتا، میرے خیال میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اپ سٹ کر سکتی ہے کیونکہ جماعت اسلامی ایک بھرپور اور منظم انداز میں میدان میں اُتری ہے۔ اگر ہم 2002 کے عام انتخابات کا تجزیہ کریں تو اُس وقت پاکستان مسلم لیگ (ق) نے 26.7 فیصد ووٹ لئے جبکہ اس نے قومی اسمبلی میں 126 نشستیں جیتیں۔ پی پی پی نے25.8 فیصد ووٹ کیساتھ 81 نشستیں اور متحدہ مجلس عمل نے 11.2 فیصد ووٹ کیساتھ 63 نشستیں حاصل کیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 9.4 فیصد کیساتھ 19 نشستیں جیتیں اور ایم کیو ایم نے 3.1 فیصد ووٹوں کیساتھ17 نشستیں جیتیں۔ 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، 32.2 فیصد ووٹوں کیساتھ 166 نشستیں، پی پی پی 15.52 فیصد ووٹوں کیساتھ 42 نشستیں، پی ٹی آئی 16.97 فیصد ووٹوں کیساتھ 35 نشستیں جبکہ جماعت اسلامی اورجمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ نے 6 فیصد ووٹوں حاصل کرنے پر 19 نشستیں جیتیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی کو ششیں منظم نہیں تھیں اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ دونوں انفرادی طور پر انتخابات میں شرکت کر رہی تھیں۔ اگر ہم غور کریں تو کسی بھی پارٹی کے ووٹرز تبدیل ہو سکتے ہیں، میں لیڈر کی بات نہیں کرتا مگر جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے ووٹرز تبدیل نہیں ہو سکتے۔ شاز وناذر کبھی ایسا ہوا ہو۔ یہ دونوں سیاسی پارٹیاں 2018 کے الیکشن میں 2002 کی متحدہ مجلس عمل کی طرح اپ سیٹ کر سکتی ہے۔ پنجاب میں تو تقریباً 600 سرمایہ دار، کارخانہ دار اور جاگیردار ہیں وہ جس کیساتھ ہونگے وہی پارٹی اقتدار میں ہوگی جیسا کہ 2002 کے عام انتخابات میں چودھری برادران پر ویز مشرف کیساتھ تھے تو ان کی حکومت تھی۔ بعد میں نواز شریف نے ان 500 کے قریب سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کو خریدا یا ساتھ ملا دیا تو 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف جیت گئے۔ مسلم لیگ کیساتھ ان لوگوں کی تلخیاں بڑھ گئیں۔ کئی ایم این اے نواز شریف سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں اور ان میں بعض پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں مگر بدقسمتی سے پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اب دیکھنا ہوگا کہ یہ 500 اور 600 کے درمیان بڑے وڈیرے، سرمایہ دار اور جاگیردار کس پارٹی میں شامل ہوتے ہیں مگر لگتا تو یہ ہے کہ 2018 کے الیکشن کے بعد ایک کمزور حکومت قائم ہوگی۔ اگر نواز شریف کی پارٹی سے پنجاب میں ان کے ایم این اے، ایم پی ایز اور دوسرے سرکردہ لوگوں کے جانے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو 2018کے انتخابات میں بہت سی سیاسی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ بہرحال اب سوال یہ ہے کہ کیا مذہبی جماعتیں 2002 کی طرح 2018 میں اپ سیٹ کر سکتی ہیں۔ کیا اس وقت اور اس وقت کے ووٹروں کے مائنڈ اور سیاسی Dynamics میں کوئی فرق آیا ہے۔ اب تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ الیکشن قریب ہے جلدی پتہ چل جائے گا۔ اس الیکشن میں تو ووٹر کی نفسیات کچھ ایسی ہیں کہ ایک گھر میں ایک خاندان کے افراد دوسرے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کہ یہ ووٹ کس کے حق میں دے گا۔

متعلقہ خبریں