Daily Mashriq

امریکا سے امداد نہیں برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں، عمران خان

 واشنگٹن: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا سے امداد حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں بلکہ باہمی اعتماد، برابری اور دوستی کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا بڑا مسئلہ غربت ہے ہم تجارت بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں، ہماری حکومت بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات قائم کرنے  کی خواہاں ہیں لیکن مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات  میں رکاوٹ ہے جب بھی ہم سنجیدگی سے بات چیت کے لیے آگے بڑھتے ہیں تو بدقسمتی سے کشمیر میں کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ ہو جاتا ہے، بھارت بات چیت کے لیے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔

وزیراعظم  نے کہا کہ  نائن الیون میں کوئی پاکستان ملوث نہیں تھا ،دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے 70ہزار جانوں کی قربانی دی ، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی، پہلے بھی کہا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن اس وقت لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی اب لوگوں کو آئیڈیا ہوا ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف اور صرف بات چیت میں ہے،افغانستان میں امن کے لیے یہ بہترین وقت ہے ،یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی حکومت، فوج اور امریکی حکام ایک پیج پر ہیں ، افغان طالبان اور امریکا کےساتھ مذاکرات کررہےہیں، بہت جلد امن معاہدہ کاامکان ہے یہ کام آسان نہیں تاہم سب کو اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

عمران خان نے کہا کہ 23 سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار میں آیا تو مجھے لگاکہ میں سیاسی جماعتوں سےنہیں بلکہ مافیاسےنبردآزماہوں، پچھلی دو حکومتوں  نے ریکارڈ قرضے حاصل کیے، گزشتہ 10سالوں میں قرضہ 6ٹریلین سے 30ٹریلین پرپہنچ گیا ، جب ہم احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ دونوں پارٹی کہتی ہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔

پاکستانی میڈیا کو برطانوی میڈیا سے زیادہ آزاد قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہے یہاں تک کے میڈیا بے قابو بھی ہوجاتا ہے، پاکستانا جیسا میڈیا دنیا میں کہیں نہیں،میں خودآزاد میڈیا کا سب سے بڑا بینی فشری ہوں، ہم حکومت کے طور پر میڈیا کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے بلکہ واچ ڈوگ کے ذریعے اسے قابو کرنا چاہتے ہیں، پاکستان میں 70 سے 80 ٹی وی چینلز ہیں جس میں سے 3 چینلز کہتے ہیں انہیں مسائل کا سامنا ہے۔میڈیا کا کام ذاتی حملے کرنا نہیں ہے، میڈیا اپوزیشن کرے لیکن بلیک میلنگ نہ کرے، میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے، جب  میڈیا مالکان سے ان کی آمدنی اور ٹیکس کا سوال کریں تو وہ کہتے ہیں یہ آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔ ہم میڈیا پر نظر رکھیں گے لیکن سنسر شپ نہیں کریں گے۔

متعلقہ خبریں