Daily Mashriq

مجوزہ رولز کی جانچ کے عمل کو باعث تاخیر نہ بنایا جائے

مجوزہ رولز کی جانچ کے عمل کو باعث تاخیر نہ بنایا جائے

نئے بلدیاتی نظام میں تحصیل کونسل کے مجوزہ قوانین کی جانچ کیلئے لوکل کونسل بورڈ کے نو رکنی کمیٹی کی تشکیل میں بظاہر کوئی قباحت نہیں لیکن بنظرغائر دیکھا جائے تو لوکل کونسل بورڈ کے عہدیدار اپنی خودمختار حیثیت کا ہر معاملے میں فائدہ اُٹھاتے ہوئے ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اصلاح کی جانب کوئی قدم اُٹھتا ہے لوکل کونسل بورڈ کے عہدیدار اسے ناکام بنانے پر تل جاتے ہیں۔ نئے بلدیاتی نظام میں تحصیل کونسل کے رولز کی جانچ پڑتال کی اس تازہ کوشش سے قبل چار مزید کمیٹیاں بھی ملتے جلتے کام میں مصروف ہیں۔ قوانین میں ترمیم قانون سازی کا جائزہ لینا کوئی معیوب بات نہیں لیکن لوکل کونسل بورڈ کو چھوٹی موٹی قسم کا ادارہ بنائے رکھنے کی اب مزید گنجائش نہیں۔ بلدیاتی قوانین میں ترامیم کا دائرہ کار پورے محکمے اور اداروں کیلئے یکساں ہونا چاہئے اور ایسے قوانین بنانے اور ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے جس سے شفافیت آئے، کرپشن کا خاتمہ ہو اور عوام کی بہتر خدمت اور ان کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔ کسی ادارے کی خودمختاری کا فائدہ اٹھا کر اسے کرپشن وبدعنوانی کا گڑھ بنانے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہئے۔ اگر ضروری ہو تو اس کیلئے قانون ہونا چاہئے اور خودمختاری کو مطلق العنان رہنے دینے کی بجائے مناسب دائرہ کار میں لایا جانا چاہئے۔ آمدنی ومحصولات کی وصولی اور خرچ کا حساب کتاب ہونا چاہئے، رولز کی جانچ کا عمل ان کے نافع ہونے اور اصولی طور پر درست ہونے کے تناظر میں ہونا چاہئے اور یہ عمل جلد سے جلد مکمل ہونا چاہئے اور اس ضمن میں روایتی طور پر کمیٹی کی تشکیل پھر اس کی سفارشات پھر ترمیم کا عمل رولز کو زیرالتواء رکھنے اور ان کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے حقیقی جائزے پر مشتمل ہو اور اس کام کو جتنا جلد مکمل ہوسکے مکمل کیا جائے۔

ضم اضلاع کے خیمہ سکول

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے تباہ ہونے والے سرکاری سکولوں کی تعمیر کی عدم تکمیل کے باعث 20ہزار طلباء کا خیمہ سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا اور 370سرکاری سکولوں کی طویل بندش فوری توجہ طلب مسائل ہیں۔ حکام کے مطابق ان دوسو سکولوں میں20ہزار سے زیادہ طلباء پڑھ رہے ہیں جبکہ اس حوالے سے صوبائی حکومت اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ دار افسران کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب جبکہ قبائلی اضلاع کے نمائندے صوبائی اسمبلی کا حصہ بن چکے ہیں ان سے وہاں کے محروم عوام کی بہتر نمائندگی کی توقع فطری امر ہے، ان منتخب عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ صوبائی حکومت سے سب سے پہلے ان سکولوں کی تعمیرنو اور بحالی کا مطالبہ کریں، ان سکولوں کی تباہی میں چونکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہی محرک تھی اسلئے ان کی تعمیرنو صرف صوبائی اور مرکزی حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی بلکہ یہ عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سکولوں کی تعمیرنو کیلئے وسائل دیں، بہرحال ان سے صرف توقع ہی کی جاسکتی ہے۔ انضمام کے بعد اب یہ ذمہ داری صوبائی حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے جسے پورا کرنے میں جتنی تعجیل کی جائے اتنا بہتر ہوگا۔

فلش لائٹس سے بڑھتے حادثات تشویشناک

پشاور میں گزشتہ6ماہ کے دوران وائٹ فلیش لائٹس کی وجہ سے500سے زائد حادثات میں متعدد شہریوں کا جان گنوانا ایسا مسئلہ نہیں جس پر قابو پانے کیلئے لمبی چوڑی منصوبہ بندی اور وسائل وقوت کی ضرورت پڑے۔ گاڑیوں میں فلیش لائٹس کا بلاجواز اور غیرقانونی استعمال کی روک تھام کے قوانین کو سخت سے سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹریفک وارڈن پشاور کے قانون کے مطابق فلیش لائٹ استعمال کرنے کا 200روپے جرمانہ ہے جبکہ لائٹس بھی ضبط کی جا سکتی ہیں۔ ترجمان ٹریفک وارڈن پشاور کے مطابق فلیش لائٹس کیخلاف مہم شروع کی گئی تھی تاہم چند نوجوانوں کی جانب سے اہلکاروں پر حملے کے باعث مہم سردمہری کا شکار ہوگئی۔ اس صورتحال سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ مستی بااثر افراد کی اولاد ہی کرتی ہے جو پولیس کو بھی خاطر میں نہیں لاتی۔ آئی جی کو اس سنگین مسئلے کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور بلاجواز وغیرقانونی طور پر فلیش لائٹس استعمال کرنے والوں کیخلاف شہر میں بھرپور مہم چلائی جانی چاہئے اور اس میں کسی قسم کا دباؤ برداشت نہ کیا جائے اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

متعلقہ خبریں