Daily Mashriq

تاریخ کی درست سمت کیا ہے؟

تاریخ کی درست سمت کیا ہے؟

پنجاب حکومت کے ترجمانی لشکر کے سربراہ ڈاکٹر شہباز گل اور ہمنوا پچھلے کچھ دنوں سے حکومت کے بعض معاملات اور بعض تحریکی ونوانصافی شخصیات کے ’’امور‘‘ پر تنقید کرنے والوں کو یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’آپ لوگ تاریخ کی غلط سمت کھڑے ہیں۔ ایسے ہی ایک ری ٹویٹ پر عرض کیا۔ ’’تاریخ فیصلہ کرتی ہے کہ درست اور نادرست سمت کون کھڑا ہوا؟۔ میں یا آپ اس فیصلے کے مجاز ہر گز نہیں کہ ہم تاریخ کی درست سمت پر کھڑے ہیں اور دوسری رائے رکھنے والے غلط سمت پر‘‘۔ اخبار نویس کو یہ بات پہلی مرتبہ سننا پڑی نا یہ پھبتی نئی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے اے این پی اور پیپلز پارٹی کے دوست کل تک (سابقہ ادوار یا دور) کرپشن کے جن معاملات کے ناقد تھے آج ان پر وکیل صفائی ہیں۔ اے این پی اور پیپلز پارٹی کے بہت سارے دوست سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ ’’سیاسی عمل میں قدر مشترک پر حزب اختلاف کا اتحاد ہوتا ہے‘‘۔سر تسلیم خم۔ ہم نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کل جو لوگ بھٹو صاحب کی پھانسی کیلئے جنرل ضیاء کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے تھے وہ بعد میں مارشل لاء مخالف سیاسی اتحاد ایم آرڈی میں شامل ہوگئے لیکن یہاںہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جن جماعتوں نے بھٹو کی پھانسی کے لگ بھگ پانچ سال بعد ایم آر ڈی میں شمولیت اختیار کی ان جماعتوں نے ’’بھٹو کے عدالتی قتل اور اس سے قبل اپنی تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء کے نفاذ پر اس کی ہمنوائی کو سیاسی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سیاسی اختلافات میں ذاتی عداوتوں کا سماں بنانے والے تاریخ کی غلط سمت کھڑے تھے‘‘۔ اب سوا ل یہ ہے کہ کیا نون لیگ اور پیپلزپارٹی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے ادوار میں ایک دوسرے کیخلاف جو مقدمات بنائے یا مخالفت میں اداروں کا تعاون حاصل کیا وہ سیاسی طور پر جرم تھا؟۔

ملک میں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے چند چھوٹے اتحادیوں کے بل بوتے پر قائم اس حکومت کو آسانیاں دلوانے کیلئے مسلم(ن) میں محب وطن تلاش کرنے کی مہم جاری ہے۔ اس مہم کے بیچوں بیچ یہ بھی ہوا کہ(اس تحریر کے لکھے جانے سے ڈیڑھ ہفتہ قبل) دو اعلیٰ ریاستی شخصیات نے نیب کی تحویل میں موجود سابق صدر مملکت اور پی پی پی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات ایک جمعہ کی سپہر میں ہوئی‘‘۔ ملاقات کرنے والی شخصیات نے مزاج پرسی کے بعد زرداری کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا۔ جواب ملا!اس لیے ضمانتوں کی درخواستیں عدالت سے واپس لے لی تھیں۔زرداری کا کہنا تھا کہ آپ پریشان نہ ہوں مجھے کچھ ہوا تو پیپلز پارٹی برداشت کر لے گی لیکن کون کون یہ برداشت نہیں کر پائے گا اس پر آپ کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ملاقات کرنے والوں نے کچھ وعدوں اور تعاون پر سینیٹ میں عدم اعتماد کی تحریک سے پیچھے ہٹنے کا مشورہ بھی دیا جواب میں زرداری نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وقت کو فیصلہ کرنے دیں۔ قیدی اور مہمانوں نے بلیک کافی کے آخری سپ لئے اور ملاقات ختم ہوگئی‘‘۔ اب دوبارہ اس امر پر غور کرتے ہیں کہ تاریخ کی درست اور غلط سمت کیا ہیں۔ کیا نون لیگ کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان میں سے محب وطن اور مینڈیٹ کا جواز پیش کرنے والے تلاش کرنا درست سمت ہے یا نیب کے قیدی سے ملاقات کرکے وعدے اور پیشکش درست سمت؟ بہت عجیب سی بات ہے، وزیراعظم کہتے ہیں میں این آر او نہیں دوں گا بلکہ اب تو وہ امریکہ میں اپنے تاریخی خطاب میں اعلان کر چکے کہ واپس پہنچتے ہی زرداری اور نوازشریف سے اے سی کی سہولت واپس لے لیں گے۔ ادب سے یہ پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہوں، حضور آپ وزیراعظم ہیں، ہوم سیکریٹری یا جیلر؟ میرے خیال میں کسی حکومت کی تائید کو تاریخ کے درست وغلط سمت پر یااپوزیشن کی حمایت کو درست اور غلط پر کھڑا ہونا قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ حکمران اور اپوزیشن دونوں تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں اور تاریخ بنیادی طور پر حالات وواقعات کے گرد گھومتی ہے۔ اہل دانش ہوں یا قلم مزدور انہیں دونوں کے نازنخرے اُٹھانے کی بجائے سماج کیساتھ کھڑا ہونا چاہئے سماج کو کیا مسائل درپیش ہیں، لوگ کن عذابوں سے گزر رہے ہیں،مسائل و عذابوں کی نشاندہی میں محبت ونفرت شامل نہیں ہونا چاہئے، خودستائی نہ سمجھیں تو مکرر عرض کرتا ہوں! مجھ سا قلم مزدور مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانے کا ہمیشہ سے ناقد رہا وجہ یہی ہے کہ ہماری نسل نے اس کے نقصانات کھلی آنکھوں سے دیکھے۔ مذہب کا اونٹ سیاست کے دستوری خیمہ میں قرارداد مقاصد کی صورت میں داخل ہوا، 1956ء اور پر1973کے دساتیروں میں گُھس کر بیٹھ گیا۔ فائدہ اور نقصان دونوں کا تجزیہ کرلیجئے اور جواب پر دھمال ڈالئے۔ باردیگر عرض ہے تاریخ کی درست سمت اپنے عہد کے زمین زادوں کیساتھ کھڑا ہونا، مسائل ومشکلات پر آواز اُٹھانا، ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم سمجھنا ہوتا ہے۔ اس سے انحراف کا مطلب تاریخ کی غلط سمت پر کھڑا ہونا قرار پاتا ہے۔ یہ نہیں کہ کل جو غلط تھا آج اسے اس لئے درست کہا جائے کہ آج کی حکومت آپ کو پسند نہیں۔ کوئی جبر نہیں کہ آپ انصافی حکومت کو پسند کریں نایہ زبردستی ہے کہ مسترد کریں۔ فیصلہ لوگ کرتے ہیں لوگوں کو کرنے دیں، اپوزیشن کا فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل پر بات کرے۔ ہاں یہ غلط ہوگا کہ حکومت محب وطن تلاش کرے یا ریاستی کردار کسی قیدی سے سودے بازی کرتے پھریں۔

متعلقہ خبریں