Daily Mashriq

کم سے کم اُجرت،ڈاکٹر ڈاکو اور لڑکیاں

کم سے کم اُجرت،ڈاکٹر ڈاکو اور لڑکیاں

خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے قارئین نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے شکایات ارسال کی ہیں۔ یقینا اس سخت گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کے بغیر گزارہ مشکل ہے۔ بجلی کی پیداوار پورا ہونے کا اگر دعویٰ بار بار نہ کیا گیا ہوتا تو اس کی وجہ پیداوار کی کمی قرار پاتی لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر پانی وبجلی کے ٹویٹر پر دعوئوں کی عملی طور پر نفی سامنے آرہی ہے۔ گردشی قرضہ ایک مرتبہ پھر بہت بڑھ گیا ہے اور بجلی کا بحران نہ سہی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہورہا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بلاامتیاز امیر غریب اور متوسط طبقے کا مسئلہ ہے۔ امیر امراء متبادل ذرائع سے کام چلاتے ہیں متوسط اور خاص طور پر عام آدمی دستی پنکھا جھلنے پر مجبور ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو امن وامان کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ حکومت نے کم سے کم جو اُجرت مقرر کی ہے اس پر عملدرآمد کب ہوگا اور کون کرائے گا؟ یہ سوال پشاور کے ایک شادی ہال میں تین سالوں سے گیارہ ہزار روپے میں کام کرنے والے ایک محنت کش نے پوچھا ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ حکومتی اہلکار تمام نجی اداروں میں خود جاکر معلوم کریں کہ مالکان اپنے ورکروں کو کتنی تنخواہیں دے رہے ہیں اور ان سے کتنے گھنٹے اور کتنا کام لیا جاتا ہے۔ سیٹھ خواہ میڈیا کے ہوں یا شادی ہالوں اور کارخانوں کے مالکان ہوں خود جتنا بھی کمائیں وہ اپنے ورکروں کو کبھی بھی ان کا حق نہیں دیتے۔ کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جو خوف خدا کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو ان کا جائز حق دیتے ہوں گے۔ بعض ایسے بھی نیک دل لوگ ہیں جو اپنے کارکنوں کو ان کے حق سے زیادہ دینے پر خوشی محسوس کرتے ہیں، شادی ہالوں میں اس قسم کے استحصال کی چونکہ باقاعدہ شکایت سامنے آئی ہے لہٰذا یہ محکمہ محنت وافرادی قوت خیبر پختونخوا کے حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس شکایت کا نوٹس لیں۔ کبھی سوچیں کہ آخر ہمارے ہاں اوپر سے نیچے تک، سرکاری شعبے سے لیکر نجی شعبے تک تنزل کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ میرے خیال میں اس کی دو وجوہات ہیں، سرکاری شعبے کے ملازمین بدعنوان اور کام چور ہیں اور نجی اداروں کے مالکان استحصالی اور کارکن استحصال زدہ۔ڈیرہ اسماعیل خان سے عتیق اللہ نے لڑکیوں کے لڑکوں کیساتھ بھاگ جانے کے مسئلے پر اظہار خیال کرنے کا کہا ہے۔ یقیناً یہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے، سچ پوچھو تو اب یہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ اس کی سنگینی کا احساس بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانے تک لڑکی کا گھر کی دہلیز سے قدم باہر نکالنے کا تصور تک نہ تھا، کچھ عرصہ قبل ہی جب کوئی نادان لڑکی بہلاوے میں آکر ایسا قدم اُٹھا لیتی تو برسوں والدین کے سر جھکے رہتے، جو بات معمول بن جائے اسے معاشرے میں بھی کم اہمیت دی جاتی ہے۔ اب تقریباً یہی معاملہ ہے اب تو ماں باپ ڈر کے مارے بھی لڑکیوں کی بے جا مرضی کی مخالفت نہیں کرتے کہ عزت رہ جائے۔ جو لڑکیاں باپ کی دہلیز پار کرنے کی جرأت کر لیتی ہیں زندگی بھر کا پچھتاوا ان کے مقدر میں لکھا جاتا ہے، کم ہی شوہر ایسے ہوں گے جو اپنے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی کو عمر بھر عزت سے رکھیں۔ ذہنوں کا فتور جب اُتر جاتا ہے اور عقل جب ٹھکانے آجاتی ہے اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور اتنی دیر بعد واپسی کا راستہ باقی نہیں رہتا۔ ماں باپ بیچارے جیتے جی مرجاتے ہیں اور کیا کیا جائے سوائے اس کے کہ ماں باپ کی مرضی ومنشاء کیخلاف جانے والی بچیاں کبھی خوش نہیں رہتیں، کسی کو پسند کرنا یا کسی کی پسند بننا یا ہونا کوئی جرم نہیں، اپنی پسندکو پانے کیلئے کیا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، وہ اگر درست، شریعت اور اخلاق کے دائرے میں رہے تو فبہا لیکن اگر مبنی بر بغاوت ہوگی تو منزل کو پاکر بھی راہ کھوٹی اور اُمیدیں بر نہیں آئیں گی۔ایک قاری نے مستند ڈاکٹر نہ ہونے اور صرف طب کے ذیلی شعبوں سے محض واقفیت رکھنے والے افراد کے بطور ڈاکٹر مریضوں کے علاج معالجے کے سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے، انہوں نے تو پھر بھی اس شعبے سے واقفیت اور سطحی علم رکھنے والوں کا تذکرہ کیا ہے یہاں تو ڈاکٹر کا اردلی بھی کلینک کھول کے بیٹھا ہے، صرف ڈبے پر ادویات کے نام پڑھ سکنے والوں نے فارمیسی اور میڈیکل سٹورز کھول رکھے ہیں اور لوگوں کو دھڑا دھڑ پرچی اور بغیر پرچی ہر قسم کی ادویات فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں، قانون کا ڈر نہیں، پھنس گیا ہے لے کے رشوت، دے کے چھوٹ جا والا معاملہ ہے۔ یہاں قوانین بنتے ہیں، ادارے وجود میں آتے ہیں، عملہ بھرتی ہوتا ہے، تنخواہیں اور مراعات لی جاتی ہیں اور بس باقی جس کا جو جی میں آئے کرے۔ صحت کا شعبہ اسلئے نازک اور حساس ہے کہ یہاں براہ راست انسانی جانوں سے کھلواڑ ہوتا ہے مگر اس کے باوجود یہاں دھندہ کرنے والوں کا ہاتھ کوئی نہیں روکتا۔ ان کیخلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوتی، ایسا کرنیوالے اگر نظر نہ آتے اور چوری چھپے یہ سب کچھ کر رہے ہوتے تو بھی گنجائش تھی یہاں تو جادو سر چڑھ بولنے والا معاملہ ہے۔ جو مستند ڈاکٹر ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر کم اور کچھ اور زیادہ بنے ہوئے ہیں۔ آج سے کوئی پچیس سال پرانی بات ہے، وانا میں کوئی ڈاکٹر محمد خان تھا، کلینک اس کا اپنا، ایکسرے، لیبارٹری، میڈیکل سٹور اور ساری لوازمات اس کی اپنی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب کوئی محض بخار میں مبتلا مریض اسکے پاس جاتا تو 2500 کا نسخہ بن جاتا تھا۔ لوگوں نے اس کا نام ڈاکٹر محمد خان کی بجائے ڈاکو محمد خان رکھ دیا تھا۔ ہوسکتا ہے پڑھنے والوں کو یہ کہانی لگے مگر یہ کہانی نہیں۔ آج بھی ادھرادھر دیکھیں تو ڈاکٹر اور ڈاکو کا فرق مٹ گیا ہے کم ہی ڈاکٹر ایسے ہیں جو مسیحا کہلانے کے لائق ہیں باقی۔۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں