Daily Mashriq

ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ

ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ

سب کو اپنی جنم بھومی سے پیار ہوتا ہے ہمیں بھی اپنے پیارے شہر پشاور سے پیار ہے، اس کے گلی کوچوں میں کھیل کود کر ہم پروان چڑھے ہیں۔ بچپن کے دن کتنے اچھے ہوتے ہیں، کھانا پینا، کھیلنا، لڑنا جھگڑنا بس یہی کچھ ہوتا ہے۔ بچے آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس طرح کھیل رہے ہوتے ہیں جیسے یہ لڑائی جھگڑے کو جانتے بھی نہیں! ہم جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو پشاور کی خاموش اور کشادہ سڑکیں ذہن کے نہاں خانوں میں روشن ہوجاتی ہیں۔ چند گاڑیاں، کچھ تانگے اور دس بیس سکوٹر یہی پشاور شہر کی سڑکوں پر دوڑتے بھاگتے نظر آتے۔ کیا دور تھا کیا زمانہ تھا اگر خواتین خانہ نے گھر سے باہر نکلنا ہوتا تو گھر تانگہ منگوایا جاتا، اس کے اردگرد چادریں باندھی جاتیں تاکہ خواتین کی بے پردگی نہ ہو! اگر نئی نویلی دلہن کو کہیں جانا ہوتا تو اس کیلئے ڈولی منگوائی جاتی۔ ہمیں یاد ہے پشاور کے قدیمی محلے آسیہ میں ایک ڈولی اور دو کہار اس خدمت کیلئے ہر وقت موجود ہوتے جیسے ہی کسی گھر سے بلاوا آتا یہ اپنی بڑھتی عمر اور ناتواں جسم کے باوجود بڑے جوش وخروش سے خدمت کیلئے تیار ہوجاتے ان کے ہاتھوں میں اپنے سہارے اور توازن برقرار رکھنے کیلئے لکڑی کے عصا ہوتے یہ تیز تیز چلتے دلہن کو اپنی منزل مقصود پر پہنچا دیتے! پشاور کی تہذیب کے حوالے سے خیال آتا ہے تو دل میں ایک ہوک سی اُٹھتی ہے، پڑوسی کا حد سے زیادہ خیال رکھا جاتا، گلی کے بچے جب محلے کے بزرگ کو گلی میں داخل ہوتے دیکھتے تو کونوں کھدروں میں چھپ جاتے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب ہمارے والد صاحب کو ہماری شرارت کی شکایت کی جاتی تو وہ شکایت کرنے والے سے کہتے کہ کتنا اچھا ہوتا کہ آپ شکایت کی بجائے اس کی خوب مرمت کرتے! آج بچے کھیل کود میں لڑ پڑتے ہیں تو ان کی معصومانہ لڑائی میں بڑے بھی کود پڑتے ہیں، آتشیں اسلحہ سب کے پاس ہے ان لڑائیوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ گلی محلے کی خوشی اور غم سب کے سانجھے ہوتے تھے، خوشی کے موقع پر اپنے اپنے گھر کے دروازے مہمانوں کیلئے کھول دئیے جاتے، مہمانوں کیلئے بستروں کا بندوبست پڑوسی ہی کرتے، کھانا بھی پڑوس کے دوچار گھروں میں کھلایا جاتا، اسی طرح غم کی گھڑی میں صاحب میت کو پتہ بھی نہ چلتا اور محلے کے لڑکوں نے قبر تیار کر لی ہوتی۔ اسی طرح تین دن تک صاحب میت کے گھر چولہا نہ جلتا، پڑوسی ہی دن بھر چائے اور قہوے سے چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی خاطر تواضع کرتے، اب بھی پشاور کے پرانے گلی کوچوں میں کسی نہ کسی حد تک یہ روایات زندہ ہیں! نئی روشنی کی آندھی بہت کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گئی ہے، اب پوش علاقوں میں رہنے والے اپنے پڑوسیوں سے بے خبر رہتے ہیں، عام دنوں کی بات تو ایک طرف رہی عید پر بھی ان کی ملاقات کم کم ہوتی ہے! اور اب تو کہانی یہاں تک آپہنچی ہے کہ گھر میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی چھوٹی موٹی لڑائیاں اب تھانوں میں رپورٹ ہونے لگی ہیں، اس قسم کے مسائل سے نپٹنے کیلئے ہمارے بزرگ ہوتے تھے (اب بزرگوں کی وہ وقعت ہی نہیں رہی انہیں اپنے معاملات میں بہت کم مداخلت کی اجازت دی جاتی ہے) میاں بیوی کا رشتہ بڑا نازک ہوتا ہے، یہ تہذیبی روایات اور اقدار کی پاسداری سے مستحکم ہوتا ہے، اگر بات گھر کی چاردیواری سے نکل کر تھانے تک پہنچ جائے تو آپ خود سوچئے! جیت جس فریق کی بھی ہو محبت اور باہمی احترام موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں۔ یہ محبت بھرا رشتہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے جب باہمی احترام کو چھوڑ کر بات ایک دوسرے کو نیچا دکھانے تک پہنچ جائے تو پھر اچھا خاصہ گھر جہنم بن جاتا ہے! وقت کی اپنی رفتار ہوتی ہے، وہ فطری انداز میں آگے بڑھتا رہتا ہے، اچھی بری تبدیلیاں بھی آتی ہیں، آج اکیسویں صدی میں جہاں ہمارا واسطہ بہت سی اچھی چیزوں سے پڑا ہے اچھی تبدیلیاں آئی ہیں، وہاں ہماری بہت سی اچھی اقدار بھی ہم سے اس ظالم وقت نے چھین لی ہیں۔ ماہرین نفسیات اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کے دو دور ہوتے ہیں، پہلے دور میں مرد کی حکمرانی ہوتی ہے اور دوسرے دور میں جب اولاد جوان ہوجاتی ہے تو پھر بیوی کے سامنے شوہر کو ہتھیار ڈالے بنا چارہ نہیں ہوتا! مشرق ومغرب میں اس نازک رشتے کے حوالے سے بڑے پتے کی باتیں کی گئی ہیں بڑے مزے مزے کے اقوال زریں موجود ہیں جن پر عمل کرکے گھر کو ایک چھوٹی سی جنت بنایا جاسکتا ہے: شادی ایک ایسا رشتہ ہے جس میں ایک فریق ہمیشہ صحیح ہوتا ہے اور دوسرا شوہر ہوتا ہے! اگر یہ صورتحال ہو تو یقینا یہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی کیلئے شاندار ٹوٹکا ہے! مولانا روم ؒ نے بھی اسی سے ملتی جلتی ایک بات کہی تھی: شریف خاوند اپنی بیوی سے ہمیشہ ڈرتا ہے اور جو شریف نہیں ہوتا اس سے بیوی ڈرتی ہے! کوشش یہ ہونی چاہئے کہ درمیان میں کسی کو دخل اندازی کا موقع نہ ملے: شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

تو آپ میں اور مجھ میں مت دے کسی کو دخل

ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ

متعلقہ خبریں