Daily Mashriq

دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

بارے چوری چکاری کے کچھ بیان ہوجائے۔اور اب یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہم نے ترقی کرلی ہے،یعنی وہ جو کسی زمانے میں سیاسی مخالفین پر اور کوئی الزام نہیں لگایا جاسکتا تھا تو اس وقت بھینسوں کی چوری کا الزام ہی کام آجاتا تھا، جس سے نہ صرف سیاسی مخالفین کو پہلے تھانے بلوا کر بے عزت کردیا جاتا اور پھر ضلع کچہریوں کے مستقل چکر لگوا لگوا کر خجل خوار کرنے کا بندوبست کیا جاتا،جو ذرا زیادہ ہی باعزت ہوتا اس کی تو عزت خاک میں مل جاتی اور وہ پنڈ(گائوں) میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہتا،ہر ایک سے آنکھ چرا کر گزرنے پر مجبور ہوتا، خصوصاً’’شریکوں‘‘ سے تو دور دور ہی رہتا،اور جب تک یہ مقدمہ بخیر وخوبی اختتام کو نہ پہنچتا، ان کی زندگی اجیرن ہو جاتی، تاہم اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے اس لئے اب بھینس چوری کی جگہ پانی کی چوری کے الزامات سے کام چلایا جارہا ہے،یاپھر منشیات برآمد کرنا تو کوئی اتنا مشکل کام بھی نہیں ہے اور جو تازہ خبر آئی ہے وہ لیگ(ن) کے ایک رہنماء اویس لغاری(سابق اور مرحوم صدر فارق لغاری کے فرزند دلبند) کیخلاف نہری پانی چوری کرنے کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق ہے، موصوف کیخلاف مقدمہ ڈیرہ غازی خان میں درج کیا گیا ہے، ن لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری نے کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، اویس لغاری نے کہا ہے کہ موضع جام بستی میں ان کا کوئی رقبہ ہی موجود نہیں، محکمہ انہار کے حکام نے غلطی کا احساس کرتے ہوئے پولیس کو بروقت آگاہ بھی کردیا تھا مگر اس کے باوجود حکمرانوں نے جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا۔ اس پر ہمیں وہ کہانی یاد آگئی جس نے شیر اور بکری کے بچے کے مابین ندی کنارے جنم لیا تھا اور شیر کی نیت کے فتور کے آگے بے چارے بکری کے بچے کی کوئی دلیل کارگر نہ ہو سکی تھی۔ اب ہونا تو کچھ بھی نہیں مگر اویس لغاری کو ضلع کچہری کے چکر لگوانے پر تب تک مجبور کیا جاتا رہے گا جب تک محکمہ انہار کے متعلقہ حکام یا اہلکار خود عدالت میں حاضر ہو کر یہ گواہی نہ دیدیں کہ واقعی سردار اویس لغاری کی زمین موضع جام بستی میں موجود ہی نہیں۔ ممکن ہے پولیس والے ’’اوپر‘‘ کی ہدایات پر یہ بھی ثابت کردیں کہ جس زمین کی نشاندہی کی گئی ہے وہ سردار اویس لغاری ہی کی ہے مگر ’’بے نامی‘‘ جائیداد کے زمرے میںشامل ہے،یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ زمین کسی اویس لغاری ہی کی ہومگر یہ تب پتہ چلے گا جب ولدیت کے خانے کو دیکھا جائیگا کہ جس اویس لغاری کی یہ زمین ہے اس کی ولدیت سردار فاروق احمد خان لغاری نہیں بلکہ کچھ اور ہے، تب کہیں جاکر سردار اویس لغاری کی جان چھوٹ سکے گی۔ یعنی بقول ازہر درانی

گوالا لاکھ کھائے جائے قسمیں

مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے

بات چوری چکاری کی چلی ہے جو بھینس کی چوری سے ہوتے ہوئے اب پانی کی چوری پر رکتی محسوس ہورہی ہے مگر اصل چوری کی خبریں بھی آرہی ہیں۔اور سینیٹر شبلی فراز کے گھر ایک بار پھر چوری کی واردات کا پتہ چلا ہے، دو برس پہلے یعنی 22جولائی 2017ء ہی کو ایک بار پہلے بھی ان کے گھر سے چوری ہوئی تھی، تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس واردات کا کوئی سراغ ملا تھا یا نہیں، ہمیں تو خدشہ ہے کہ پولیس تفتیش کرنے میں ناکام رہی تھی اسلئے چور یا چوروں کو یہ جرأت ہوئی کہ ان کے گھر میں ایک بار پھر واردات کر کے کچھ حاصل کیا جائے، معلوم نہیں یہ وہی چور تھا یا تھے جو پہلی چوری میں بھی ملوث تھے یا پھر کوئی اور تھا،سینیٹر صاحب ویسے تو اتنے غریب بھی نہیں ہیں مگر اب تو دنیا بہت بدل چکی ہے اور لوگ نقدی یا زیورات عموماً گھروں میں کم کم ہی رکھتے ہیں یعنی بینک لاکرز اکائونٹس ہی استعمال کرتے ہیں جبکہ خریداریوں کیلئے بھی کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ ہی کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے گم ہونے پر اتنی پریشانی بھی نہیں ہوتی البتہ ہمیں صرف ایک ہی خدشہ ہے کہ وہ جو ایک بہت پرانی پنجابی فلم یکے والی میں مرحوم ظریف(منور ظریف کے بڑے بھائی) نے ماماجی کا کردار ادا کیا تھا جو گائوں میں چلتے پھرتے عدالت لگایا کرتے تھے اور ایک مقدمہ ان کے سامنے آتا ہے جس میں چور نے ایک ٹوٹی ہوئی بوتل، منجھی کا پاوا (چارپائی کا ایک پایا) ایک پرانی دیگچی وغیرہ چوری کئے ہوتے ہیں تو ماماجی (ظریف مرحوم) فوراً بول پڑتا ہے، ’’چور کسے کباڑی داپتر معلوم ہوندا اے‘‘ یعنی چور کسی کباڑی کا بیٹا لگتا ہے۔اسی طرح سینیٹر شبلی فراز کے گھر دوبار چوری کرنے والا بھی یا تو کوئی نالائق قسم کا شاعر ہے جو شبلی کے والد عالمی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز کے بچے کھچے کلام کی تلاش میں تھا تاکہ اسے اپنے نام سے چھاپ کر مشہور ہوجائے یا پھر کوئی ایسا پبلشر ہو سکتا ہے جو احمد فراز کی شائع ہونے سے بچ جانیوالی شاعری کو کتابی شکل دیکر لاکھوں کمانے کی فکر میں تھا، مگر انہیں نہیں معلوم کہ احمد فراز نے اسلام آباد ہی کے ایک پبلشر کو اپنی شاعری کے حقوق تفویض کر کے انہیں اجازت دی ہے کہ وہ انکے کلام کی اشاعت کرتا رہے، محبوب ظفر نام کا یہ پبلشر خود بھی بہت اچھا شاعراور دوستوں کا دوست ہے، اسلئے اگر احمد فراز کی بقایا شاعری تلاش کرنا مقصود ہے تو کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آنیوالا حالانکہ یار لوگوں نے مرزا غالب اور فیض احمد فیض کے بعد اب احمد فراز کیساتھ بھی ہاتھ کرنا شروع کردیا ہے اور یا تو ان کے اشعار کو غلط سلط انداز میں یا پھر ان کے نام پر خودساختہ اشعار سوشل میڈیا پر ڈال کر ان کی روح کو تکلیف پہنچانا شروع کردی ہے یعنی

دنیا نے مجھ کو مال غنیمت سمجھ لیا

جتنا میں جس کے ہاتھ لگالے اُڑا مجھے

متعلقہ خبریں