Daily Mashriq


امید افزا مقدمہ

امید افزا مقدمہ

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور ٹیکسز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ جس کا دل کرے پٹرول پر ٹیکس لگا دیتا ہے۔ چیف جسٹس نے آبزرویشن میں کہا کہ ہم ماہرین کی ایک ٹیم بنائیںگے جو آپ کے اعداد وشمار کی جانچ پڑتال کرے گی اور پھر اس میں اگر کوئی گڑبڑ یا اونچ نیچ نکلی تو پھر ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے، سب کیخلاف کارروائی کریںگے۔ چیف جسٹس نے ڈیلرشپ کو انتہائی مشکوک قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہارکیا اور استفسارکیا کہ3.16 فیصد کمیشن ڈیلرز کو کیوں دے رہے ہیں؟ کیا ڈیلرز بھی آپ کو کچھ دیتے ہیں؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ڈیلرز کچھ نہیں دیتے، ڈیلرز صرف تیل فروخت کر رہے ہیں اور پراڈکٹ کو پروموٹ کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سب لینڈ لارڈز، جاگیرداروں نے پٹرول پمپ کھول رکھے ہیں اور حکام کو اپنے ساتھ ملاکر عوام سے کھیل کھیلا جا رہا ہے، پی ایس او نے کہا کہ یہ سارا معاملہ اوگرا کا ہے لیکن فنانس انچارج نے کہا کہ حکومتی پالیسی ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا سے استفسار کیا کہ آپ پٹرولیم مصنوعات پر سیل ٹیکس کیوں لگا رہے ہو؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ ہر ماہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی میٹنگ ہوتی ہے اور وہ میٹنگ کے بعد سفارشات تیار کرکے اوگرا کو بھیجتے ہیں اور پھر اوگرا قیمتوں کا تعین کرتی ہے اور متعلقہ وزارت کو منظوری کیلئے بھیجتی ہے، بعدازاں سب سے آخر میں ایف بی آر سیل ٹیکس لگاتی ہے یعنی ہمارا کردار سب سے آخر میں آتا ہے۔ چیف جسٹس نے حکام کو سننے کے بعد اپنی آبزرویشن میں قرار دیا کہ بادی النظر میں سب کی ملی بھگت ہے، عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈال کر افسران راہ فرار اختیار کرکے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کیلئے سیکرٹری پٹرولیم، چیئرمین ایف بی آر، چیئرپرسن اوگرا اور ایم ڈی پی ایس او سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو مشترکہ حکمت عملی بنا کر 10 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ہے، حکم نامہ میں تحریر کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر موجود ہ ٹیکس لگانے کے طریقہ کارکا حکام ازسرنو جائزہ لیں، عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا لیکن حکام وضاحت بیان کرنے میں ناکام ہوئے۔امر واقع یہ ہے کہ حکومت پٹرولیم کمپنیاں اور پٹرول پمپ مالکان تینوں میں سے کوئی بھی خالص منافع میں سے ایک پیسے کی بھی صارفین کیلئے قربانی دینے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف یہ تلخ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیساتھ ہی گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے علاوہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عام آدمی کی گردن دبوچتا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کی بنا پر پیدا شدہ مسائل اور فی کس آمدنی میں کمی کی وجہ سے شہریوں کی حالت پہلے ہی ناگفتہ بہ ہے۔ عام آدمی کے مسائل سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔ حکومت اور متعلقہ حکام کے پاس ہمیشہ کی طرح جواز موجود ہوتے ہیں ایسے میں سوال یہ اٹھتا رہا ہے کہ انتہا کوچھوتی غربت اور مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری کس کے دروازے پر فریاد لے کر جائیں۔ اب سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت سے عوام کی ڈھارس بندھ گئی ہے اور ان کو توقع ہے کہ آخر ان کی بھی سننے کے دن آگئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں ابتدائی معاملات میں سیاسی مقدمات اور سیاسی معاملات کی بھرمار کے باعث جوصورتحال بنتی جارہی تھی اس گرداب سے نکل کر اب چیف جسٹس نے پہلے موبائل کارڈوں پر بھاری ٹیکسوں کی وصولی کو معطل کرکے عوام کو جو ریلیف دیا اس کا ہر موبائل صارف کو بخوبی علم ہے معاملہ کسی کو ریلیف دینے کا نہیں اصل معاملہ یہ ہے کہ آخر لوگوں کو وجہ بے وجہ لوٹنے کی کھلم کھلا آزادی کیوں ملتی ہے۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ایسا حکمرانوں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ موبائل صارفین سے ریڈیو لائسنس فیس بذریعہ موبائل کمپنیاں وصول کی جاتی رہی ہیں تو ٹی وی لائسنس فیس کی وصولی واپڈا کے بلوں کے ذریعے ہو رہی ہے۔ کبھی نیلم جہلم ٹیکس اور سرچارج کے نام پر کبھی اضافی بلوں کی وصولی کے ذریعے خسارے کا شکار حکومتی خزانے میں عوام کی جیبوں سے ناجائز طریقے سے پیسہ نکال کر حکمرانوں کی عیاشی کیلئے جمع کیا جاتا ہے۔ وقت آئے گا جب سپریم کورٹ اس کا بھی نوٹس لے گی۔ جہاں تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق ہے ان میں اضافہ اور حکومتی منافع لگ بھگ اصل قیمت کے برابر وصولی ہوتی رہی ہے جس کا اب عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا ہے اور توقع ہے کہ اس ضمن میں عوام کو ریلیف ملے گا لیکن دوسری جانب سوال یہ اٹھتا ہے کہ عیش وعشرت کے عادی حکمران جو ہر دور میں قرض لیکر ملک وقوم کو گروی رکھتے جا رہے ہیں اور وہ افسر شاہی جو حکمرانوں سے پیچھے نہیں اس کا کیا بنے گا۔ اس سوال کا آسان جواب اب بس یہی نظر آتا ہے کہ ان کو اپنے عیش وعشرت کو اب چھوڑنا پڑے گا اور جس طرح عوام مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو بھی اب تنگی ترشی برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام کا خون مختلف ٹیکس وصول کرکے اشرافیہ کی عیاشیوں کیلئے فراہم کیا جا رہا ہے۔ صرف پٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمتوں کا ہی جائزہ لیا جائے تو ایک لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت پر اس سے کئی گنا زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ جس ملک میں صرف پانچ چھ لاکھ ٹیکس گزار ہوں اس ملک کی اکیس بائیس کروڑ کی آبادی براہ راست مختلف مصنوعات پر ٹیکس ادا کرے اور چند ایک خاندان ملک کے سارے وسائل پر قابض ہوں اور ان کی کھربوں روپے کی بیرون ملک جائیدادیں' اثاثے اور بینک بیلنس ہوں' علاج ومعالجہ اور عیدین بھی باہر منائیں اور عوام سے ووٹ کی عزت کے نام پر ان پر مسلط رہیں اس ملک میں تبدیلی کس طرح سے آسکتی ہے؟۔ مصنوعات پر ٹیکسوں میں کمی سے ہی ملکی معیشت کا پہیہ چلے گا اور عام آدمی کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔ ہماری گزارش ہوگی کہ ایسے تمام ٹیکس ختم کئے جائیں جس سے عام آدمی شدید معاشی ومالی مشکلات کا شکار ہے۔ عام آدمی ہی کو مشق ستم بنانے کی بجائے اب وقت آگیا ہے کہ خواص اور ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ذرائع آمدن سے زائد کے اثاثے ضبط کئے جائیں۔ عام آدمی چیف جسٹس کے احکامات اور نوٹس لئے جانے پر مسرور ہے تاہم عوامی رائے یہ بھی ہے کہ جس طرح موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار کے سامنے بندھ باندھا گیا ہے اور صارفین کو ریلیف ملا ہے اسی طرح پٹرولیم مصنوعات' بجلی اور سوئی گیس کے بلوں میں شامل ناجائز ٹیکسوں کی شرح انتہائی مناسب اور قابل برداشت سطح پر لاکر اصلاح احوال کی جاسکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ٹیکس کے بغیر ملک نہیں چلتے لیکن ظالمانہ ٹیکسوں سے بھی ملک نہیں چلتے جب عوام کو معلوم ہے کہ ان سے لوٹی گئی ٹیکسوں کی رقم کا استعمال شفاف نہیں ہو رہا اور یہ حکومتوں کے اللوں تللوں اور عیاشیوں پر ضائع کی جارہی ہے اور اس رقم کا عوامی منصوبوں پر کوئی استعمال نہیں ہو رہا تو ان کا مایوسی کا شکار ہونا اور گوشوارے جمع نہ کرانا معمول بن جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز کے عوام اور ودہولڈنگ ٹیکس اور جی ایس ٹی کی صورت میں سوفیصد ٹیکس دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں بھی پٹرولیم مصنوعات' ٹیلیفون بلوں' بجلی کے بلوں کے علاوہ مالیاتی وکاروباری یہاں تک کہ خدمات اور تنخواہوں میں سے بھی ٹیکس دے رہے ہیں لیکن بااثر طبقہ جسے اشرافیہ کا نام دیا جائے یا حکمران طبقے کا یا کوئی اور جو بھی نام دیا جائے ٹیکس دینے پر تیار نہیں' کاغذات نامزدگی کے موقع پر اس طبقے کے نمائندہ افراد نے جو گوشوارے جمع کرائے ہیں ان کا جائزہ لینے سے واضح طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواہ وہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے عمران خان ہوں یا پھر صنعتکاروں اور کارخانہ داروں کے طبقے کا شریف خاندان ہو یا جاگیرداروں اور وڈیروں کے نمائندے زرداری اور تالپور ہوں یا ان کے علاوہ جتنے بھی انتخاب جیتنے کیلئے دولت لٹانے والے عناصر کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ یہ لوگ پورا ٹیکس دیتے ہوں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ایف بی آر اور سی بی آر کے معاملات اور ٹیکس نادہندگان کے معاملے کا بھی نوٹس لیا جائے گا۔ حکمران اور بااثر جاگیردارجو زراعت پر ٹیکس لگنے ہی نہیں دیتے ان پربھی ٹیکس لگائے جائیں گے۔ عوام سے بوجھ ہٹا کر جاگیرداروں' سرمایہ کاروں' وڈیروں اور ہر قابل ٹیکس فرد سے ٹیکس کی وصولی یقینی بنائی جائے گی اور ملکی معیشت کو سہارا مل جائے گا۔

متعلقہ خبریں