عزت کو عزت دو

عزت کو عزت دو

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے فرمایا ہے کہ ریٹرننگ افسروں کیخلاف نازیبا الفاظ برداشت نہیں کریں گے، ان کیخلاف زبان استعمال کرنے میں احتیاط برتی جائے، کسی کو شکایت ہے تو ان کو بتایا جائے وہ ازخود نوٹس لے رہے ہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم بغض رکھتے ہیں، عزت مآب جج نے یہ بات سکھر بار سے خطاب میں کہی، موصوف چیف جسٹس کی اس بات سے کوئی بھی مہذب معاشرہ اختلاف نہیں کر سکتا ہے بلکہ ان خیالات کو سنہری الفاظ میں درج ہونا چاہئے کہ ہر نفس کی عزت نفس ہوتی ہے جو عطائے خداوندی ہے۔ عزت نفس معاشرے کے ہر فرد اور ہر طبقے کا بنیادی حق ہے۔ یہ مسئلہ صرف ریٹرننگ افسروں تک محدود نہیں ہے مگر ماضی کا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں انتخابات میں دھاندلی شروعات ہی ریٹرننگ افسروں کی کارکردگی سے ہی ہوتی ہے چنانچہ اس میں تحفظات کا پیدا ہونا ایک قدرتی عمل ہے، حالیہ انتخابات کی جو تیاریاں ہو رہی ہیں ان میں اب تک ریٹرننگ افسروں کے بارے میں دو شکایات سامنے آئی ہیں ایک پی پی کے سیکرٹری جنرل نیئربخاری کی جانب سے اور دوسری قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی ہے، اس کے علاوہ ہنوز ایسی کوئی اور شنوائی نہیں پڑی ہے بہرحال چیف جسٹس کا بروقت انتباہ لائق تحسین ہے کیونکہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ سیاستدان اپنے سیاسی مقاصد کی غرض سے سید ھے سادے معاملات کو اُلجھا کر ان میں شکوک شبہات کو جنم دے کر جھول پیدا کر دیتے رہے ہیں ۔ پاکستان کے چیف جسٹس صاحب نے قبلہ درست کرنے کیلئے کئی ازخود نوٹس لئے ہیں اور ان پر اہم ترین فیصلے بھی دئیے ہیں۔ توہین عدالت کا قانون کی غرض وغایت بھی یہ ہے کہ اگر فریق کو فیصلہ پسند نہ آئے تو وہ فیصلے کو متنازعہ بنانے کی سعی بد نہ کرے۔ یہ قانون عدلیہ کی عزت اور توقیر کے تحفظ کا قانون ہے پورا معاشرہ اس قانون کی توقیر بھی کرتا ہے۔ چنانچہ عزت کا تعلق محدود پیمانے پر نہیں ہونا چاہئے ملک میں خود غرضی کی جو کھلبلی مچی ہوئی ہے اس کی وجہ سے کئی شعبے زیست مفلوج نظر آتے ہیں، چنانچہ امید واثق ہے کہ ملک کے مستقبل کا سارا دارومدار سیاست اور سیاست کھیلنے والو ں پر مبنی ہے۔ چنانچہ اس شعبے کو بھی عزت ملنا چاہئے۔ ایسا جب ہی ہو سکتا ہے کہ سیاستدانوں کو دشنام طرازی سے پاک کر دیا جائے۔ ان کی جب چاہے کوئی ہتک کر دے اس سے باز رکھا جائے۔ کسی فرد کا انفرادی کردار نکھرا واُجلا ہو سکتا ہے اور کسی کا گھناؤنا ہو سکتا ہے مگر اس کی وجہ سے پورے شعبے کو تضحیک کے گڑھے میں پھینک دینا کوئی دانشمندی نہیں قرار پاسکتی۔ ویسے بھی سیاستدانوں کے سب سے اعلیٰ محتسب عوام ہیں اور یہ عوام کا ہی حق ہے کہ اپنے رہنماؤں کا احتساب کریں، جس کا بہترین اور درست ذریعہ انتخابات ہیں۔ جب سیاستدان کی کسی طبقے کی جانب سے تضحیک کی جاتی ہے تو وہ بنیادی طور پر اس سیاستدان سے وابستہ عوامی طبقہ کی بالواسطہ توہین ہوتی ہے جو معاشرے کو قابل قبول نہیں ہوا کرتی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران سیاستدانوں کی جانب سے مخالفین کیلئے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کو عوام نے کبھی شرف قبولیت نہیں بخشا ہے چنانچہ ہتک آمیز انداز میں اپنے حریف سیاستدانوں کی پگڑیاں اُچھالنے والوں کو عوام نے مسخرہ سیاستدان ہی جانا ہے اور ان کی سیاسی دنیا میں اپنی کوئی ساکھ نہیں بن سکی ہے وہ لے پالک سیاسی ورکر ہی قرار پائے ہیں۔
سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران تضحیک اور تمسخر کی سیاست سے اجتناب برت کر حالات کو گول مول کرنے سے دور رہیں۔ اسی میں سیاست کی عزت ہے اور یہ ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ہے کہ سنجیدہ عوامی طبقہ سیاست سے بیزار ہوا بیٹھا ہے جو ملک کیلئے کسی بھی حالت میں نیک شگون نہیں ہے، بات عزت کی بہت دور تک چلی گئی، دراصل آل پاکستان مسلم لیگ کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر امجد بخاری نے کہا ہے کہ عوام میں سابق کمانڈو پرویز مشرف کیلئے بے حد عزت ہے اور وہ عوام کے دلوں میں بستے ہیں، یہ بہت بڑا جھوٹ نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی سچ ہے، اس سچ کو ثابت کرنے کیلئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرویز مشرف کو عزت کا احساس دلانے کیلئے مشورہ دیا تھا کہ وہ پرویز مشرف کے ہمراہ راولپنڈی کے راجہ بازار جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ عوام کس کے کپڑے پھاڑتے ہیں، شجاعت سے لبریز پرویز مشرف پاکستان اسلئے نہیںآپائے کہ عدالت میں پیش ہونے تک کا ان میںحوصلہ عظیم موجود نہ تھا مگر وہ عدالت کی پیشی بھگتانے کے بعد اپنے اندر جو خوف وڈر تھا اس کی حوصلہ افزائی اور عزت کی ضمانت چاہتے تھے، ایسے حالات میں آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین کے عہدے کا انہوں نے چولا اُتار پھینکا ہے کیونکہ وہ اب جان گئے ہیں کہ چونکہ پشاور ہائی کورٹ نے ان کو عمر بھر کیلئے انتخابات میںحصہ نہ لینے کا اہل قرار دے دیا ہے، اسلئے اب اس اوڑھنی کی ضرورت نہیں رہی ہے مگر ان کے دست بازو امجد بخاری ابھی بضد ہیں کہ مشرف عوام کے دلوں میں بستے ہیں، بات درست مان لی جاتی ہے کہ وہ عوام کے دلوں میں اس قدر بستے ہیں کہ گزشتہ انتخابات کے موقع پر بھی مشرف صاحب تشریف لا رہے تھے، کراچی ایئر پورٹ پر ان کے فقیدالمثال استتقبال اور غالباً کراچی کے اقبال پارک میں ان کے تاریخی جلسے کا بندوبست بھی کیا گیا تھا مگر وہ نہیں آئے، اس وقت ان کو عدالت کا یا پکڑے جانے کا خوف نہ تھا بلکہ ہوا یہ کہ عوام نے ان کو دلوں میں ہی بسائے رکھا اور ایئر پورٹ پر جاکر ان کا استقبال کرنے سے گریز یوں کیا کہ کہیں عزت میں کوئی کمی نہ پیدا ہو جائے اور وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں مزید دھنس جائیں۔ جلسہ بھی منظم طور پر منسوخ کر دیا گیا تھا کہ تقریر سننے والوں کی تعداد جلسہ کا اہتمام کرنے والوں سے ایک اکائی بھی نہیں بڑھی تھی۔ البتہ فرشتے سننے کیلئے موجود تھے وہ تو پرویز مشرف کیساتھ ساتھ رہتے ہیں اور ان سے لمحہ بہ لمحہ مستفید ہوتے رہتے ہیں۔

اداریہ