بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

پہیہ اور روپیہ دونوں ہم قافیہ الفاظ ہیں اور ان دونوں میں جو قدر مشترک ہے وہ زندگی کی گاڑی کو چلتا رکھنے میں کام آتی ہے، پہیہ کو انسان کی بہت بڑی ہی نہیں سب سے بڑی ایجاد کہا گیا ہے جبکہ روپیہ انسان کی بہت بڑی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور ضرورت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ایجاد کی ماں ہے۔ گویا اگر روپیہ ایک ضرورت ہے تو یہ ایجاد کی ماں کا درجہ رکھتی ہے لیکن ہم دانشمندوں کی اس بات سے اتفاق کریں نہ کریں ہم اپنے موقف پر قائم ہیں جس کی حمایت میں ہم مدتوں پہلے عرض کر چکے ہیں کہ
نانی ہے آہوں کی تو فریاد کی ہے اماں
بڑھتی گرانی خانہ برباد کی ہے اماں
صارف کو ناکوں چنے چبوائے ہے ضرورت
کس نے کہا ضرورت ایجاد کی ہے اماں
اگر روپوں پیسوں کو عہد حاضر کی بہت بڑی ضرورت سمجھ کر ایجاد کی ماں ہونے کا درجہ نہ بھی دیا جائے تب بھی اس کی صحت پر اثر نہیں پڑنا چاہئے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی صحت خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ تادم تحریر 123روپے کا ملنے لگا ہے ایک امریکن ڈالر جس کا براہ راست اثر پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں پر پڑیگا اور یوں انسان کے علاوہ ہر چیز مہنگی بکنے لگے گی۔ جو مرغی رمضان المبارک میں 160یا 170روپے کلو فروخت ہوتی تھی تادم تحریر227 روپے کلو فروخت ہونے لگی ہے۔
اگر ایک بار کسی چیز کی قیمت بڑھ جائے تو اتنی آسانی سے نہیں گرتی۔ بات مرغی یا مرغی کے گوشت کی نہیں، آپ مارکیٹ میں بکنے والی جس جنس کی طرف اشارہ کریں اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی اور آپ کا منہ چڑاتی نظر آئیں گی۔ ہم دھن دولت کے اعتبار سے جس آشوب کا شکار ہیں اسے پرانے اور سیانے لوگ بے برکتی کا زمانہ کہتے ہیں۔ وہ دور کب کا لدھ چکا جب بڑے بزرگ کہتے تھے کہ ''بہن کرے نہ بھیا جو کرے روپیہ'' بہت پرانا اور آفاقی سچ کا حامل تھا یہ محاورہ یا ضرب المثل جس کو کل کی طرح آج بھی سادہ لوح لوگ سچ ہی مانتے ہیں جبھی تو صبح سے شام تک ہی نہیں، رات گئے تک کرتے رہتے ہیں، دھن دولت اور روپے پیسے کا پیچھا اور پوجا، اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو رات کی نیندیں بھی حرام کر دیتے ہیں اس نگوڑی دھن دولت اور روپے پیسے کیلئے۔ بہت سے لوگ جان جوکھوں میں ڈال کر روپے پیسہ کماتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جنہیں اللہ جب دینے پہ آتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دے دیتا ہے۔ دھن دولت اور روپے پیسے کے حصول کیلئے سو سو جتن کرنے والے خوشامد بھی کرتے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں، کسی کو چکمہ یا دھوکہ بھی دیتے ہیں، کسی کے حق پر ڈاکہ بھی ڈالتے ہیں، ڈکیتیاں بھی کرتے ہیں اور بعض تو ملک اور قوم تک کو فروخت کرکے دھن دولت پیدا کرنے کی دوڑ میں حد سے آگے نکل جانے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں۔
دھن دولت یا روپے پیسے ہر کس وناکس کی اولین وآخرین ضرورت بن کر اس سے ایسے ایسے کام کرواتی ہے جن کے متعلق جان کر کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن اس جہاں میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو حرام کی کمائی کو ہاتھ لگانا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہم نے اپنی نانی اماں سے بہت سی کہانیاں سن رکھی تھیں جن میں سے ایک کہانی اللہ کے ایک نیک بندے کی بھی تھی جس نے کہیں سونے کی اشرفیوں سے بھرا ہوا برتن دیکھا، لیکن اس نے اسے اٹھاکر گھر لانا تو کیا اسے ہاتھ لگانا بھی مناسب نہیں سمجھا، البتہ اس نے گھر آکر اپنی گھر والی کو بتایا کہ فلاں جگہ پر ایک برتن میں بہت ساری دولت پڑی ہوئی تھی، میں نے اسے اٹھاکر لانا پسند نہ کیا، کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، اللہ کے اس نیک بندے کی یہ باتیں اس کا لالچی ہمسایہ سن رہا تھا۔
اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اس مقام پر پہنچ گیا جہاں اشرفیوں سے بھرا برتن رکھا تھا لیکن وہ برتن میں پڑے بچھو اور سانپ دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا اور وہ اس برتن کو اٹھا کر گھر پہنچا اس نے نیک بابا کے گھر کا چھپر پھاڑا اور سارے بچھو اور سانپ اس کی چارپائی پر انڈیل دئیے، ہماری دادی اماں نے بتایا کہ لالچی ہمسائے نے نیک بابا کی چارپائی پر پھینکے تو بچھو ہی تھے لیکن اللہ کی قدرت کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے روپے پیسوں اور اشرفیوں میں تبدیل ہوگئے اور وہ اپنی گھر والی کو کہتا رہ گیا، دیکھا میں جو کہتا تھا اللہ جب دیتا ہے چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔
چھپر پھاڑنے کے بہت زیادہ معنی مطالب اور مفہوم نکلتے ہیں، دیہاڑی پر کام کرنے والے بے چارے لوگ تو روزانہ چھپر پھاڑتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ان کو ان کے حصے کی دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہوتی۔ وہ دو گھونٹ ڈھنگ کا پانی پینے کو ترستے رہتے ہیں، انہیں اس خبر سے کوئی غرض نہیں کہ ڈالر کتنے میں بکنے لگا ہے، انہوں نے اور ان کے بچوں نے عالمی بینکوںکا کتنا قرضہ دینا ہے اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہیں، انہیں تو پینے کیلئے دوگھونٹ پانی اور دو ٹکر روٹی کے، تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا اور لمبی تان کر سونے کیلئے چھت چاہئے، جس کیلئے وہ کل بھی گلیوں کا کوڑا چھان کر روزی روٹی تلاش کرتے رہے اور آج بھی وہ ایسا ہی کر رہے ہیں کیونکہ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے
بیچ سڑک کے اک لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھا
بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے

اداریہ