خود کو گمراہ کرنے والوں کی قربانی دیں

خود کو گمراہ کرنے والوں کی قربانی دیں

آج مجھے میری ایک دوست کی جانب سے وٹس ایپ پر ایک پیغام وصول ہوا۔ وہ پیغام پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اسے اپنے قارئین کے ساتھ بانٹنا چاہئے شاید اس سے بہتر ہماری صورتحال کی عکاسی کوئی بات نہیں کرسکتی۔ ایک بار ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ہوا ''شوانا'' (قبل از اسلام کے ایران کا ایک مفکر) کے پاس آیا اور کہنے لگا ''میری ماں نے فیصلہ کیا ہے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بت کے قدموں میں میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے۔ آپ مہربانی کرکے اس کی جان بچا دیں۔ شوانا لڑکے کیساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ عورت نے بچی کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لئے ہیں اور چھری ہاتھ میں پکڑے' آنکھیں بند کئے کچھ پڑھ رہی ہے۔ بہت سے لوگ اس عورت کے گرد جمع تھے اور بت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بت کے قریب ایک بڑے پتھر پر بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ شوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اس عورت کو اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت ہے اور وہ اس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رہی ہے۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ معبد کدے کے بت کی خوشنودی کیلئے اپنی بچی کی قربانی دینا چاہتی ہے۔
شوانا نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رہی ہے۔ عورت نے جواب دیا کہ کاھن نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں معبد کے بت کی خوشنودی کیلئے اپنی عزیز ترین ہستی قربان کردوں تاکہ میری زندگی کی مشکلات ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں۔
شوانا نے مسکرا کر کہا۔ ''مگر یہ بچی تمہاری عزیز ترین ہستی تھوڑی ہے؟ اسے تو تم نے ہلاک کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ تمہاری جو ہستی تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہے وہ تو در اصل پتھر پر بیٹھا یہ کاھن ہے جس کے کہنے پر تم اپنی ہی بیٹی جو ایسی معصوم پھول سی ہے کی جان لینے پر تل گئی ہو۔ یہ بت سب جانتا ہے' یہ احمق نہیں ہے۔ وہ تم سے تمہاری عزیز ترین ہستی کی قربانی چاہتاہے اور یہ بچی وہ نہیں۔ اگر تم نے کاھن کے بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ہو کہ وہ بت تم سے مزید خفاہو جائے اور تمہاری زندگی جہنم بنا دے''۔عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچی کے ہاتھ پاؤں کھول دئیے اور چھری ہاتھ میں لے کر کاھن کے پاس دوڑی مگر وہ پہلے ہی وہاں سے جا چکا تھا۔ کہتے ہیں اس دن کے بعد وہ کاھن کبھی اس علاقے میں نظر نہیں آیا۔ اسی پیغام میں مزیدلکھا تھا کہ دنیا میں صرف آگہی کو فضیلت حاصل ہے اور واحد گناہ جہالت ہے۔ جس دن ہم اپنے کاھنوں کو پہچان گئے اس دن ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔
اس پیغام کو پڑھنے کے بعد میں مسلسل سوچ رہی ہوں کہ ہم بحیثیت قوم ایک ایسے ہی مقام پر کھڑے ہیں۔ ہم نے اپنے مستقبل کے ننھے منے معصوم جسم کے ہاتھ پائوں اسی طرح باندھ رکھے ہیں جیسے اس ماں نے اپنی بچی کے باندھ رکھے تھے۔ اور ہم اسی طرح سیاست کے معبد کے بتوں کے قدموں میں اپنا مستقبل قربان کردینے کو تیار بیٹھے ہیں۔
سیاسی کاھن ہمیں ورغلاتے ہیں' راستے دکھاتے ہیں' اس بت کے قدموں میں قربان کرو تو اس فکر سے نجات پائو گے۔ اس بت کے قدموں میں قربان کرو گے تو ان تفکرات سے آزادہو جائو گے۔ ہم اسی ماں کی طرح آگہی کے اندھے پن میں مبتلا اپنے اپنے حصے کی قربانی دیتے ہیں اور مزید قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ہماری قربانی کے باوجود ہماری پریشانیوں' ہماری ابتلا کا کوئی سد باب نہیں ہو پاتا۔ کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہوتی کہ واقعی ہماری دلدر دور ہوگئے کیونکہ ان بتوں کو ہماری بھینٹ' ہماری قربانی سے کوئی غرض نہیں اور کاھن صرف ہمیں مسلسل بے وقوف بنا کر اپنی دکانداری چمکا رہے ہیں۔ وہ ہمارے غم دور نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اگر ہمارے غم دور ہوگئے تو ان کی باتیں کون سنے گا۔ ان کے مشوروں پر کون عمل کرے گا۔ ان کو رہنماء کون مانے گا۔ میں سوچتی ہوں ہم اندھوں بہروں اور بے عقلوں کی قوم ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے غموں کا اصل منبع کہاں ہے اور ہمارے غموں میںاضافہ بھی کون کرتا ہے۔ وہ جو ہمیں لوٹتے ہیں جو ہمیں مسلسل بے وقوف بناتے ہیں۔ ہم ان کے کہنے پر اپنے غموں میں خود اپنے ہاتھوں سے اضافہ کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ملک غریب ہے۔ ہم غریب ہیں' ہمیں صاف پینے کا پانی نہیں ملتا۔ ہمیں دو وقت کی روٹی نہیں ملتی۔ ہمیں صحت کی سہولتیں دستیاب نہیں' ہم بے روزگاری کے جہنم میں جلتے ہیں' ہم مفلسی کے انگار میں جھونکے جاتے ہیں' تپتی دوپہروں میں ہمارے گھروں میں بجلی نہیں آتی۔ لیکن ہم پھر بھی انہیں ووٹ دیتے ہیں۔ سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ انہیں حکومت میں لاتے ہیں۔ بنا سوچے سمجھے انہیں خود کو دھوکہ دینے کی اجازت دیتے ہیں۔ اب اس سب کا سدباب ہونا چاہئے۔ انتخابات سر پر ہیں اب کی قربانی دینے سے پہلے ذرا غور کرلیں' اپنے مستقبل کے بجائے خود کو گمراہ کرنے والوں کی قربانی دیں۔

اداریہ