میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا وفاداری کا

میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا وفاداری کا

کہاں کے نظریات' کونسے بیانئے؟ مائی فٹ' سیاست کے پہلو میں دل کہاں ہوتا ہے کہ ان مفروضوں کو درست مان لیا جائے۔ جہاں ووٹر کو صرف پانچ سال میں ایک بار اس وقت ''عزت'' دی جاتی ہے جب اس کے ووٹ بقول سردار جمال لغاری ''چھوٹی پرچی'' کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہاں بعض رہنما یہ توقع کیوں کر بیٹھتے ہیں کہ ان کی بھی کوئی وقعت ہوگی۔ ان کا کام بھی تو دراصل ''ورنہ پر ملازمت'' کرنا ہوتا ہے۔ زعیم قادری بڑی دیر سے جاگے اور انہیں احساس ہوا کہ ''پارٹی مالکان'' نے انہیں پالشیا' مالشیا اور نہ جانے کیا کیا سمجھ رکھا ہے حالانکہ یہ بات انہیں پہلے ہی معلوم ہونی چاہئے تھی کہ ہر جماعت یہاں خاندانی وراثت پر چل رہی ہے۔ یہ مخصوص ٹولوں کے کلب ہیں جو انہیں اپنی مرضی سے چلا کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس سے پہلے وہ جو بعض مذہبی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ہمیں کچھ نہ کچھ خوش فہمیاں تھیں وہ بھی اب رفع ہو چکی ہیں کہ اب تو انہوں نے بھی سیاست کے اصل گر سیکھ کر ٹکٹوں کی بندر بانٹ شروع کر رکھی ہے اور کم ازکم خواتین کی ترجیحی فہرستوں میں ٹکٹوں کو اندھے کی طرح ریوڑیاں بانٹنے والے فارمولے کے تحت ہی تقسیم کرکے پشتو محاورے کی مانند ''میم زر ما ٹول زما'' پر عمل کرتے ہیں۔ اس پر بھی یہ زعم کہ ہم اسلامی انقلاب لائیں گے۔ کیا اسلامی انقلاب کے یہ تقاضے ہوتے ہیں اور بقول شاعر
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
زعیم قادری کو بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے کے مصداق اب کہیں جا کر ہوش آیا ہے کہ پارٹی پر قابض خاندان نے انہیں نوکر بنا بنا کر پالش اور مالش پر لگا رکھا ہے حالانکہ یہ احساس انہیں چند برس پہلے جاوید ہاشمی کا حشر دیکھ کر ہوجانا چاہئے تھا کہ پارٹی کے اندر ( بلکہ کسی بھی پارٹی میں) جمہوریت نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ورنہ تب میاں صاحب کا یہ مبینہ جملہ سامنے نہ آتا کہ ہمارے مقابلے میں لیڈر کھڑا مت کرو اور ''باغی'' کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جاتا۔ حالانکہ وہ جیلیں اور سختیاں انہی کی خاطر برداشت کرتا رہا۔ خیر وہ تو تھا ہی باغی' کہیں بھی ٹکنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف میں بھی اسے ناقابل قبول کا ٹھپہ لگا کر علیحدہ ہونے کی حکمت عملی اختیار کی گئی اور اب جبکہ بے چارہ اعصابی بیماری کا شکار ہے ایک بار پھر لیگ ہی میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکا ہے۔ خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں تازہ ترین شاہکار تو چوہدری نثار علی خان کیساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ہے جنہیں پارٹی ٹکٹ سے محروم رکھنے کیلئے بڑے میاں صاحب نے پارلیمانی بورڈ کے سامنے امیدواروں کے انٹرویوز کا ڈرامہ رچاتے ہوئے خود چھوٹے میاں صاحب کو بھی پیش ہونے کا کہا تاکہ چوہدری نثار کی راہ روکی جاسکے جبکہ پنجاب میں ٹکٹوں کے حوالے سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ وہاں امیدواروں یا کم ازکم جن کو ٹکٹوں سے محرومی کی شکایات ہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ حمزہ شہباز سے رابطہ کریں یعنی پنجاب میں پارلیمانی بورڈ کی وقعت ہی کوئی نہیں اور مکمل اختیار حمزہ کے ہاتھ میں ہے۔ تبھی تو لوگ چیخ چیخ کر بقول سیف الرحمن سلیم یہ کہہ رہے ہیں کہ
د وڑو وڑو خدایانو دے بندہ کڑم
لویہ خدایہ زہ بہ چا چا تہ سجدہ کڑم
یعنی اے اللہ' تو نے مجھے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا بندہ بنا کر رکھ دیا، اب میں کس کس کو سجدہ کروں گا۔ بہرحال اب زعیم قادری کے اس بیان کا کیا فائدہ کہ وہ پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوں گے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں شمولیت کی دعوت بھی تو ایک جال ہی ہے کہ اگر وہ اس میں پھنس گئے تو ان کے ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آئے گا اور عین ممکن ہے کہ انہیں اس بات کے لارے دئیے جائیں کہ ٹکٹ تو پہلے ہی تقسیم ہو چکے ہیں بلکہ پارٹی کے کارکن پہلے ہی ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر برافروختہ ہو کر بنی گالہ میں دھرنا دئیے ہوئے ہیں اس لئے بقول عطاء الحق قاسمی
تنخواہ ہے چار سو فی الحال چار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
تب تک انتظار کرو کہ خان صاحب پانچوں حلقوں سے کامیاب ہو جائیں اور چار حلقے خالی کریں گے تو ایک جگہ تمہیں بھی ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے جبکہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے زعیم قادری لڑیں گے تو بھی فائدہ تحریک انصاف ہی کو ہوگا یعنی لیگ کے ووٹرز تقسیم ہو جائیں گے اور نہ لیگ کے ہاتھ کچھ آئے گا نہ ہی زعیم قادری منتخب ہوسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے زعیم قادری کو تحریک میں شامل ہونے کا دانہ ڈال دیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تحریک میں شامل نہیں ہوں گے مگر یہی تو سیاست ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ سو اب دیکھتے ہیں کہ یہ جو مختلف جماعتوں میں ٹکٹوں کے نام پر بغاوتوں کا سلسلہ ہے یہ کہاں تک جاتا ہے اور احتجاج کرنے والوں کی یہ صدائیں کہ کسی کے باپ کی جاگیر نہیں' کس حد تک موثر ہو سکتی ہیں۔ ادھر دوسری جانب تحریک انصاف میں بھی عام ورکروں کے بعد چھوٹے بڑے لیڈران بھی کمربستہ ہوکر احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں اور حامد خان جیسے رہنما بھی دھرنے میں ساتھیوں کیساتھ شریک ہونے کو تیار ہوگئے تھے جبکہ ایم ایم اے کے اندر بھی کھچڑی پکنے کی اطلاعات ہیں اور تادم تحریر ٹکٹوں کی تقسیم کا فارمولہ طے نہیں ہوسکا ہے۔ پیپلز پارٹی کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ اس لئے ''باپ کی جاگیر'' والا یہ بیانیہ کیا رخ اختیار کرتا ہے اس کا پتہ آئندہ چند روز میں چل جائے گا کہ بقول خالد خواجہ
میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا وفاداری کا
تو بدل سکتا ہے تو میں بھی بدل سکتا ہوں

اداریہ