حکمران اشرافیہ سے ایک فرمائش

حکمران اشرافیہ سے ایک فرمائش

انتخابی ضرورت کے تحت اُمیدواروں کی طرف سے الیکشن کمیشن میں داخل کرائے گئے گوشواروں سے حیرتوں کے کئی نئے جہانوں کے در وا ہو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے ازدواجی راز بھی کھلنے لگے ہیں اور ان کی مالی حیثیت بھی دنیا پر آشکار ہوتی جا رہی ہے۔ یہ وہ راز تھے جنہیں طشت ازبام ہونے سے بچانے کی خاطر پارلیمنٹ نے راتوں رات قانون میں تبدیلی کی کوشش کی۔ عدلیہ اس راہ میں مزاحم ہوئی اور سیاستدان اپنے راز قانون کیساتھ شیئر کرنے پر مجبور ہوئے جہاں سے اب یہ میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ جس کے مطابق عوام کے بہت ہی مونس وغم خوار سیاستدان، خادمین اعلیٰ دولت کے ڈھیروں پر بیٹھ کر عوام کا غم کھاتے ہیں۔ حد تو یہ کہ جن کا دعویٰ تھا کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں چند برس بعد وہ دنیا بھر میں صاحب جائیداد ہو گئے ہیں۔ زرعی زمینیں، کارخانے، بیرونی دنیا میں اپارٹمنٹس، ملکی اور غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹ، گاڑیاں، بنگلے غرضیکہ کہ ملکی قیادت پر دھن آسمان سے برستا رہا ہے۔ ان میں اکثر وہ ہیں جو سالہال تک اقتدار میں رہ چکے ہیں اور شاید ان کی دولت کا راز اقتدار میں ہی پنہاں ہے۔ کئی ایک ایسے ہیں جو بظاہر تو ایک بیوی کی وفا کے کھونٹے کیساتھ بندھے ہوئے تھے گوشواروں کا دفتر کھلا تو دو بیویوں کے حامل قرار پائے حالانکہ پبلک میں انہوں نے دوسری بیوی کا اقرار نہیں کیا۔ خواجہ سعد رفیق کے بعد عامر لیاقت اور حمزہ شہباز تک جانے کتنے ہی نام انتخابی ضرورت کے تحت اپنی زندگی کے تلخ راز کو بیان کرنے پر مجبور ہوئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تب بھی رونا یہ ہے کہ ان کا سونا بھی مٹی ہے۔ گوشواروں میں درج اثاثہ جات میں سونے کی قیمتیں ہوں یا زرعی زمینوں اور بنگلوں کی قیمتیں اسے بیان کرتے وقت نہ مارکیٹ ریٹ کا خیال رکھا گیا ہے اور نہ زمینی حقائق کا۔ کروڑوں کے بنگلوں کی قیمت چند لاکھ اور لاکھوں کے سونے کی قیمت ہزاروں بیان کی گئی ہے۔ شاید یہ سب کچھ نیم دلی اور خانہ پری کی خاطر کیا گیا ہے۔ گوشوارو ںکی تفصیلات بتاتی ہیں کہ پاکستان کے حکمران کلاس ایک الگ دنیا اور الگ سیارے کی مخلوق ہے اور پاکستان کا عام شہری ماجا گاما قطعی الگ دنیا اور الگ جزیرے کا باسی ہے۔ یہ تفاوت ہی حکمرانوں کو عام آدمی کی تکالیف اور دکھوں سے آشنا نہیں ہونے دیتا۔ یہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے معاملات سے بے نیاز رہتے ہیں۔ یہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو عوام دوست پالیسیاں اور بجٹ بنانے کی بجائے آئی ایم ایف کے ہدایت نامے پر من وعن عمل کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں ان گوشواروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مملکت پاکستان کسی اور دنیا کا ملک ہے اور یہ سیاستدان کسی اجنبی دنیا کے باسی ہیںکیونکہ پاکستان کی معیشت اس وقت تنی ہوئی رسی پر ڈول رہی ہے۔ دنیا میں غریب سیاستدانوں اور حکمرانوں کے امیر ملک تو بہت سے ہوںگے مگر امیر سیاستدانوں اور حکمرانوں کے غریب ملک بہت کم پائے جاتے ہیں اور پاکستان کا شمار انہی معدودے ملکوں میں ہونے لگا ہے۔ جدید اور حقیقی جمہوریت حکمرانوں اور سیاستدانوں کیلئے چیکس اینڈ بیلنسز کا انتظام کچھ اس انداز سے کرتی ہے کہ سیاست اور حکومت سے کمائی کے امکانات کم ازکم رہ جاتے ہیں۔ زمانۂ قدیم کی بادشاہتوں میں رعایا غریب اور نان شبینہ کی محتاج ہوتی تھی اور زرق برق لباسوں میں لپٹے حکمرانوں کی تجوریاں اشرفیوں سے بھری ہوتی تھیں اور وہ جس پر مہربان ہوتے اشرفیوں کی پوٹلیاں تھما دیتے۔ جدید جمہوریت نے حکمرانی میں فقر کا انداز اور تصور ریاست مدینہ سے لیا ہے۔ جس کے حکمران فقر وقناعت کا نمونہ بھی تھے۔ جہاں ہر ذمہ دار اور عہدیدار جواب دہ تھا اور حکمران وقت سے قمیض کا حساب طلب کرنا نہایت آسان اور معمول کی کارروائی ہوتا تھا۔ یہاں خزانہ ایک مقدس اور قومی امانت کے طور پر موجود ہوتا تھا جس میں خیانت کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا۔ بادشاہتوں کے رنگ ڈھنگ کے حامل نظام کو ہم نے جمہوریت کا نام دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت جاں بلب ہے۔ ہر حکمران ایک کائیاں اور چالاک معاشی جادوگر کی خدمات حاصل کرتا ہے جو عالمی اقتصادی اداروں کیساتھ کوئی گٹھ جوڑ کرکے وقتی طور پر ملکی معیشت کو آکسیجن ٹینٹ فراہم کرتا ہے۔ جس سے ملکی معیشت کی سانس کی ڈور تو چلتی رہتی ہے مگر اسے حقیقی استحکام حاصل نہیں ہوتا۔ جونہی حکومت ختم ہوتی ہے اور نئی حکومت ماضی کا رونا روتی چلی جاتی ہے۔ امیر سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ملک کا یوں غریب ہونا کہ اسے تھوڑے سے وقفے کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے آگے کشکول پھیلانا لمحہ فکریہ ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں روپے کی قیمت بار بار گرائی جاتی رہی اور اب بھی قرض کی ایک قسط کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کی کشمکش جاری ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اب کی بار کشکول نہ پھیلایا جائے مگر پیٹ کہتا ہے کہ دل بھاڑ میں جائے۔ ملک کی حکمران اشرافیہ پر قدرت اسی طرح مہربان ہو، ان کے اثاثے یونہی بڑھتے اور پھلتے پھولتے رہیں، آخر یہ سب ہمارے ہی ہم وطنوں کی ملکیت ہیں۔ اس سے جلنے اور حسد کرنے کی قطعی ضرورت نہیں بس ان سے ایک گزارش ہونی چاہئے کہ جب وہ اقتدار میں آئیں تو ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کیلئے بھی اس گیدڑ سنگھی اور اس فارمولے کا استعمال کریںجو اقتدار کے چند برس میں انہیں فرش سے عرش تک پہنچانے کا باعث بنتے رہے ہیں۔

اداریہ