مشرقیات

مشرقیات


ابراہیم بن قاسم کہتے ہیں:
''مدینتہ السلام'' میں ہمارے گھر کی مشرقی جانب ایک ترکی باشندہ رہتا تھا۔ اسے خلیفہ مکتفی بااللہ کی طرف سے ماہانہ فوجی وظیفہ ملا کرتا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اس کی تنخواہ آنا بند ہوگئی اور اس کے حالات تبدیل ہوگئے۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے محلے کے ایک نان بائی کے پاس بیٹھنے لگا کہ شاید یہاں سے کوئی آسرا بن جائے۔
چنانچہ وہ اس نان بائی کا ہاتھ بٹا دیتا اور اس کے بدلے میں وہ اسے پانچ رطل (ایک وزن) کی روٹی دے دیتا جس سے اس کے گھر والوں کا گزارا ہو جاتا۔
نان بائی کا بہت سا قرض بھی اس کے سر پر چڑھ گیا جس کی وجہ سے نان بائی کا دل بھی اس سے تنگ ہوگیا۔ ایک دن نان بائی نے تنگ آکر اسے اپنی دکان پر آنے سے منع کر دیا۔ وہ غم زدہ بیٹھا ہوا تھا اور میں اس کے پاس سے گزرا۔ اس نے مجھے اپنا بپتا سنائی:
''میرے حالات نے مجھے روٹی خریدنے والے ہر شخص سے صدقہ مانگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جب بھی میں اس کی ہمت کرتا کہ کسی سے کہوں' میری عزت نفس مجھے یہ کام کرنے سے روک لیتی تھی''۔ ہم اس طرح نان بائی کی دکان کے قریب بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک نقاب پوش گھڑسوار نمودار ہوا اور اس نے آکر اسی ترکی باشندے کے بارے میں دریافت کیا۔ ہم نے بتایا کہ یہ ہے وہ۔
اس گھڑسوار نے کہا:''کھڑے ہو جاؤ!''۔
ترکی باشندے نے کہا: ''کہاں جانا ہے؟''۔
کہنے لگا: ''بیت المال! تمہاری اور تمہارے کچھ ساتھیوں کی دو ماہ کی تنخواہ نکلتی ہے' وہ وصول کرلو!''۔
وہ اس گھڑ سوار کیساتھ چلاگیا اور کچھ دیر کے بعد واپس لوٹ آیا۔ دوسو چالیس دینار اسے تنخواہ ملی جس سے اس نے اپنے گھریلو حالات کی اصلاح کی' قرض چکایا اور جانور' اسلحہ اور زین وغیرہ خرید کر واپس فوج میں چلا گیا۔ پھر اس کے حالات بھی صحیح ہوگئے۔
اس ترکی باشندے نے مخلوق میں سے کسی سے نہیں مانگا تو خالق نے خود ہی اس کو عطا کر دیا۔ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے وہ مایوس نہیں کرتا۔
عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خالد بن خداش نے خبر دی' انہیں حماد بن زید نے' وہ علی بن زید اور معلیٰ سے روایت کرتے ہیں' حضرت حسن سے وہ فرماتے ہیں کہ آپۖ کا گزر پرانے مکانات کے پاس سے ہوا تو وہاں آپ نے بکری کا ایک ناتمام بچہ پڑا ہوا دیکھا جس پر ابھی بال بھی نہیں اگے تھے۔ آپۖ نے ارشاد فرمایا: بتاؤ اس بچے کی مالک کی نگاہوں میں کوئی قدر وقیمت ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ:
بے قیمت ہونے کی وجہ سے تو انہوں نے اسے پھینکا ہے۔ آپۖ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے' دنیا اللہ کی نگاہوں میں اس سے بھی زیادہ بے قیمت ہے جتنا کہ یہ مردہ بچہ اپنے مالک کی نگاہوں میں ہے۔

اداریہ