Daily Mashriq

افغانستان میں قیام امن کیلئے مری میں اہم اجلاس

افغانستان میں قیام امن کیلئے مری میں اہم اجلاس

افغانستان میں جاری طویل خانہ جنگی میں اب تک لاکھوں لوگ اس جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں‘ ہزاروں لوگ زندگی بھر کیلئے معذور ہوئے‘ لاکھوں لوگ اپنا گھر اور وطن چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے‘ افغانستان میں خانہ جنگی کا مجموعی دور چار دہائیوں سے زائد پر مشتمل ہے‘ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے اب تک متعدد کوششیں ہو چکی ہیں۔ قطر‘ چین، روس اور پاکستان سمیت افغانستان کے پڑوسی ممالک مصالحت کیلئے کوشاں ہیں، تاہم افغانستان کی قیادت کے ایک پیج پر نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا ہے۔ تاہم گزشتہ ایک عرصہ سے امریکہ نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کر کے طالبان کی حیثیت اور اہمیت کو تسلیم کیا ہے‘ جس پر شروع شروع میں افغان انتظامیہ اور ان کے اتحادیوں کے شدید تحفظات تھے‘ کیونکہ افغان انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ مذاکراتی عمل سے انہیں باہر رکھ کر اور طالبان کیساتھ براہ راست مذاکرات سے پیغام گیا ہے کہ افغانستان کا مستقبل طالبان کے کردار کے بغیر ممکن نہیں‘ اپنی اہمیت کا احساس دلانے کیلئے اشرف غنی انتظامیہ اور اس کے اتحادیوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ افغانستان میں طویل خانہ جنگی کا مستقل حل اور قیام امن کی کوششوں وکامیابی کا انحصار افغان سرزمین پر موجود ہے۔ طالبان سمیت افغانستان کی تمام قیادت کو امن فارمولے پر اتفاق کرنا ہوگا‘ اس مقصد کیلئے افغان قیادت کو آپسی اختلافات پس پشت ڈالتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر آکر اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ ہمارا اولین مقصد افغانستان میں امن کا قیام ہے۔ دوسرے نمبر پر افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے سب سے زیادہ دلچسپی پاکستان کو ہے‘ پاکستان سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں امن کیلئے جاری کوششوں کو کوئی دھچکا لگتا ہے تو یہ افغانستان کے اندر بڑ ے خون خرابے کا باعث ہوگا اور پاکستان اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان کے خدشات بلاوجہ نہیں بلکہ پاکستان افغان جنگ میں امریکہ کا نان نیٹو اتحادی ہونے کی بنا پر بے پناہ جانی ومالی نقصان اُٹھا چکا ہے۔ 75ہزار سے زیادہ شہری جان کی بازی ہار گئے‘ ہزاروں لوگ معذور ہوئے‘ لاکھوں کو بیروزگار ہونا پڑا اور اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت تباہ ہوگئی۔ پاکستان کی ہر گلی کوچے میں دھماکے ہونے لگے‘ پاکستان کو افغان جنگ کی قیمت 123ارب ڈالر نقصان کی صورت اٹھانی پڑی‘ ان قربانیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان میں پاکستان کی قربانیوں اور قیام امن کیلئے ہماری کوششوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے‘ کیونکہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے مری میں اجلاس ایک ایسے موقع پر ہوا ہے کہ پاکستان کا دورہ کرنے والے افغان رہنما ماسکو کانفرنس میں بھی شرکت کر چکے ہیں اور ان کی اسلام آباد آمد خود پاکستان کے افغان خطہ پر کردار بارے اہم ہے، مری میں اجلاس میں افغانستان کی 18سیاسی جماعتوں اور گروپس کے 45مندوبین شریک ہوئے‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان‘ افغانستان کی تعمیر وترقی کی حمایت کرتا ہے‘ انہوں نے پائیدار امن کیلئے پاک افغان مقاصد کو مشترک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے‘ کیونکہ پرامن اور خوشحال افغانستان خطے کے مفاد میں ہے‘ وزیر خارجہ نے مری اجلاس میں لاکھوں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کا ذکر کرتے ہوئے برملا کہا کہ پاکستان برسوں سے افغان مہاجرین کی مہمان داری کر رہا ہے‘ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی دو باتوں پر افغان قیادت کو غور کرنا چاہئے ایک یہ کہ ہمارا کوئی فیورٹ نہیں ہے، دوسرا یہ کہ افغان مسئلے کا حل صرف اور صرف سیاسی ہے۔ اگر پاکستان یہ موقع فراہم کر رہا ہے تو اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ اس موقع پر سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار کا اقرار مبنی برحق ہے کہ افغانستان جنگ کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچا‘ یہ جنگ افغانستان کی جنگ ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ بھی ہے‘ پاکستان اور افغانستان مل کر ہی اس جنگ کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے مری اجلاس میں شریک افغان زعماء ایک عرصے تک پاکستان کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں‘ اب افغانستان میں قیام امن کیلئے اجلاس میں شرکت کیلئے ان زعماء کا پاکستان آنا یقینا پاکستان کے مؤقف کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم افغان امن عمل کا اہم جزو اور حصہ طالبان کا مری اجلاس میں شریک نہ ہونا کئی طرح کے سوالات کو جنم دے رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی چند سال قبل جب مری میں طالبان کیساتھ مذاکرات رکھے گئے تھے جسے مُلا عمر کی وفات کی خبر پھیلا کر سبوتاژ کر دیا گیا تھا‘ لاہور پراسس کے نام سے قائم کی جانے والی کانفرنس کی جو لوگ صدارت کر رہے تھے انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا افغانستان میں طالبان کی عدم شرکت سے کوئی بھی امن فارمولہ کامیاب ہو سکتا ہے؟ تاہم افغان زعماء کا افغان امن عمل کیلئے پاکستان آنا اور پاکستان کے کردار کو سراہنا خوش آئند امر ہے، امید کی جانی چاہئے کہ مری اجلاس میں ہونی والی پیش رفت اور افغانستان میں امن کیلئے غور وخوض کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور پاکستان کی کوششوں سے افغانستان سمیت پورے خطے میں امن قائم ہوگا۔

متعلقہ خبریں