Daily Mashriq

 میثاقِ معیشت کیلئے وزیراعظم کے رابطے کی شرط

میثاقِ معیشت کیلئے وزیراعظم کے رابطے کی شرط

بجٹ پیش کرنے کے بعد حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں بہت سخت مزاحمت کا سامنا ہے‘ یوں حکومت کیلئے قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کرانا مشکل ہو گیا ہے‘ کیونکہ پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں محض چند ووٹوں کی برتری حاصل ہے‘ اپوزیشن اس کا فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے جب تک بجٹ پیش نہیں کیا تھا اپوزیشن نے ازخود حکومت کو پیشکش کی تھی کہ ہمیں مل بیٹھ کر میثاق معیشت کی جانب بڑھنا چاہئے‘ حکومت نے مگر اس پیشکش کو یکسر ٹھکرا دیا تھا‘ اب جبکہ حکومت کو قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کرانا ہے اور اسے خدشہ ہے کہ کہیں اس کے چند ووٹ اندرون خانہ اپوزیشن کیساتھ نہ مل جائیں تو حکومت نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے‘ اپوزیشن جماعتوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت نے جو حالیہ بجٹ پیش کیا ہے اس میں ترمیم کی جائے، یقیناً حکومت کیلئے اپوزیشن کی یہ بات تسلیم کرنا مشکل ہوگا کیونکہ اپوزیشن کی یہ بات ماننے سے حکومت کیلئے وصولیوں کے اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت نے ایک طرف احتسابی عمل شروع کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف حکومت کو بجٹ منظور کرانے کیلئے اپوزیشن کی حمایت کی ضرورت ہے تو کیا وزیراعظم عمران خان مفاہمت کا مظاہرہ کریں گے‘ کیا وزیراعظم ڈیڈلاک ختم کرنے کیلئے اپوزیشن سے خود رابطہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں لچک کا مظاہرہ کریں‘ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور مل بیٹھ کر وہ فیصلے کریں جو ملک وقوم کی فلاح میں بہتر ہوں۔

رورل سپورٹ پروگرام کو توسیع دینے کا مستحسن فیصلہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے ’’سرحد رورل سپورٹ پروگرام‘‘ کو توسیع دینے کے فیصلے کی تحسین کی جانی چاہئے۔ وزیراعلیٰ کے اس فیصلے سے یقیناً دیہی علاقوں کے مسائل حل ہوں گے۔ اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے وزیراعظم کے پیشِ نظر ایشیاء میں موبلائزیشن کے کامیاب تجربات اور غربت کے خاتمے کیلئے ان کا پالیسی فریم ورک ہے۔ سرحد رورل سپورٹ پروگرام چونکہ خیبر پختونخوا کے 26اضلاع میں پہلے سے کام کر چکا ہے اس لئے دیگر پسماندہ اضلاع کی پسماندگی دور کرنے کیلئے بھی اس سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ فاٹا کے تمام علاقے جو اب صوبے کا حصہ ہیں اُن میں اکثریت پسماندہ علاقوں کی ہے۔ اس پروگرام سے فائدہ اُٹھا کر ان علاقوں کی پسماندگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم رورل ایریاز میں رہنے والے لوگوں کی محرومیاں دور کرنے کی کوشش کم ہی کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں اور شہری علاقوں کے لوگوں کی زندگیوں میں واضح تفاوت دکھائی دیتا ہے۔ آج بھی ایسے دیہات موجود ہیں جہاں تعلیم‘ علاج اور بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کیلئے مختص پیسہ عوام پر خرچ نہیں ہو پاتا‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوام کیلئے مختص پیسہ حقیقی معنوں میں ان پر خرچ ہو تو یقین کیساتھ کہا جا سکتا ہے کہ بہت ہی کم عرصے میں کوئی علاقہ بھی پسماندہ نہیں رہے گا۔

خطباء وآئمہ مساجد کا اعزازیہ لینے سے انکار کیوں؟

پی ٹی آئی کی گزشتہ صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ مساجد کے آئمہ اور خطباء کو صوبائی حکومت کی جانب سے ماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا‘ اس مقصدکیلئے صوبے بھر سے ہزاروں خطباء وآئمہ مساجد کی رجسٹریشن کی گئی‘ جس کے تحت مذہبی پیشواؤں کو 10ہزار روپے اعزازیہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعزازیہ کے اعلان کے بعد ایک مذہبی حلقے کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی تاہم اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ 6ہزار 484خطباء نے صوبائی حکومت سے ماہانہ اعزازیہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مذہبی پیشواؤں کی خدمات کے عوض انہیں ماہانہ اعزازیہ دئیے جانے کا فیصلہ احسن اقدام ہے‘ یقیناً اس سے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔ اس ضمن میں مذہبی طبقے کی جانب سے اس کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔ صوبائی حکومت اڑھائی ارب روپے کے یہ فنڈز محکمہ اوقاف کے ذریعے جاری کر رہی ہے اور اسی محکمہ اوقاف کے پینل پر ہزاروں لاکھوں مذہبی علماء‘ آئمہ وخطباء خدمات انجام دے رہے ہیں اور ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں، ان میں سے کسی ایک نے بھی حکومت سے ملنے والی تنخواہ یا اعزازیہ لینے سے انکار نہیںکیا ہے‘ اگرکوئی خطیب یا امام مسجد اپنی مالی حالت بہتر ہونے کی بنا پر یہ اعزازیہ نہیں لیتا تو اسے مکمل اختیار ہے لیکن سیاسی مقاصد کیلئے اس کا استعمال قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں