Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت ابو حازمؓ کہتے ہیں، ہم نے مدینہ میں کسی کے بارے میں نہیں سنا کہ اس نے حضرت حکیم بن حزامؓ سے زیادہ سواریاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں دی ہوں۔ ایک مرتبہ دو دیہاتی آدمی مدینہ آکر یہ سوال کرنے لگے کہ کون اللہ کے راستہ میں سواری دے گا؟ لوگوں نے ان کو حضرت حکیم بن حزامؓ کے بارے میں بتایا کہ وہ سواری کا انتظام کر دیں گے۔ وہ دونوں حضرت حکیمؓ کے پاس ان کے گھر آگئے۔ حضرت حکیمؓ نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ جو وہ چاہتے تھے، وہ انہوں نے حضرت حکیمؓ کو بتایا۔ (جب حضرت حکیمؓ باہر آئے تو) حضرت حکیمؓ وہ کپڑا پہنے ہوئے تھے جو مصر سے لایا گیا اور جال کی طرح پتلا اور سستا تھا اور اس کی قیمت چار درہم تھی۔ ہاتھ میں لاٹھی پکڑی ہوئی تھی اور ان کیساتھ ان کے غلام بھی باہر آئے، (اور دونوں دیہاتیوں کو لیکر بازار کی طرف چل دیئے) چلتے چلتے جب وہ کسی کوڑے کرکٹ کے پاس سے گزرتے اور اس میں ان کو کپڑے کا کوئی ایسا ٹکڑا نظر آتا جو اللہ کے راستے میں دیئے جانے والے اونٹوں کے سامان کی مرمت میں کام آسکتا ہو تو اسے اپنی لاٹھی کے کنارے سے اُٹھاتے اور اسے جھاڑتے، پھر اپنے غلاموں سے کہتے، اونٹوں کے سامان کی مرمت کیلئے اسے رکھ لو۔ حضرت حکیمؓ اس طرح ایک کپڑا اُٹھا رہے تھے کہ ان میں سے ایک دیہاتی نے اپنے ساتھی سے کہا، ان سے ہماری جان چھڑاؤ۔ اس کے ساتھی نے کہا، ارے میاں! جلدی نہ کرو، ابھی ذرا اور دیکھتے ہیں۔ پھر حضرت حکیمؓ ان دونوں کو بازار لے گئے۔ وہاں انہیں دو موٹی تازی خوب بڑی اور گابھن اونٹنیاں نظر آئیں۔ انہوں نے ان دونوں کو خریدا اور ان کا سامان بھی خریدا۔ پھر اپنے غلاموں سے کہا، جس سامان کی مرمت کی ضرورت ہو اس کی مرمت کپڑے کے ان ٹکڑوں سے کر لو۔ پھر دونوں اونٹنیوں پر کھانا، گندم اور چربی رکھ دی اور ان دونوں دیہاتیوں کو خرچہ بھی دیا۔ پھر ان کو وہ دونوں اونٹنیاں دے دیں (جب اتنا کچھ حضرت حکیمؓ نے دیا تو) ایک دیہاتی نے اپنے ساتھی سے کہا، میں نے آج ان سے بہتر (سخی) کوئی کپڑے کے ٹکڑ ے اُٹھانے والا نہیں دیکھا۔ (اخربہ الطبرانی)

حضرت زبیر ایک لڑائی میں شریک تھے۔ ایک دن اپنے بیٹے عبداللہ کو وصیت فرمائی کہ میرا خیال ہے کہ آج میں شہید ہو جاؤں گا۔ تم میرا قرض ادا کر دینا اور فلاں فلاں کام کرنا۔ یہ وصیتیں کرکے وہ اسی دن شہید ہوگئے۔ صاحبزادے نے قرضہ کو جوڑا تو بائیس لاکھ درہم تھے اور قرضہ بھی اس طرح ہوا تھا کہ امانت دار بہت مشہور تھے۔ لوگ اپنی اپنی امانتیں بہت کثرت سے رکھتے۔ یہ فرما دیتے کہ رکھنے کی جگہ تو میرے پاس نہیں، یہ رقم قرض ہے۔ جب تمہیں ضرورت ہو لے لینا۔ یہ اس کو صدقہ کر دیتے۔ سیدنا زبیرؓ نے یہ بھی وصیت کی تھی کہ جب کوئی مشکل پیش آئے تو میرے مولا سے کہہ دینا۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں مولا کو نہ سمجھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے مولا کون؟ فرمایا اللہ تعالیٰ۔ چنانچہ حضرت عبداللہؓ نے تمام قرضہ ادا کر دیا۔ (اسدالغابہ)

متعلقہ خبریں