Daily Mashriq

چترال کے ساتھ امتیازی سلوک کا سبب؟

چترال کے ساتھ امتیازی سلوک کا سبب؟

چترال بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فطرت نے اپنے حسن کی فراوانی ارزاں کر رکھی ہے۔ فلک بوس پہاڑوں‘ حسین نظاروں‘ خوبصورت جھرنوں‘ بل کھاتی ندیوں‘ چھوٹے بڑے آبشاروں‘ طلسماتی وادیوں‘ تریچ میر جیسے پہاڑی سلسلوں اور متعدد مقامات سے آنے والی ندیوں اور دریائوں جبکہ بمبوریت‘ رنبیر کے اندر صدیوں سے پنپنے والی قدیم ثقافت (جسے کافرستان کے نام سے موسوم کیاجاتا تھا) ان تمام کی بوقلمونی نے چترال کو ایک خاص مقام عطا کر رکھا ہے۔ خاص طور پر قدیم یونانی ثقافت کی جھلکیاں دیکھنے کیلئے بیرونی دنیا تک سے لوگ ہر سال بڑی تعداد میں آتے ہیں اور ملکی سیاحوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے رہتے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ ہر سال تریچ میر جیسے پہاڑی سلسلے کو سر کرنے کیلئے کوہ پیما بھی خاصی بڑی تعداد میں آتے ہیں اور شندور جیسے دنیا کے سب سے اونچے مقام پر پولو فیسٹول کا لطف اُٹھانے کیلئے بھی اب دنیا بھر سے لوگ امڈے چلے آتے ہیں۔ اس میدان میں چترال اور گلگت کی ٹیموں کے مابین پولو میچ کھیلنے کی اپنی ایک تاریخ ہے جن کا تذکرہ چترال کی قدیم داستانوں میں موجود ہے۔ اسی طرح گرم چشمہ کی اپنی اہمیت ہے جہاں سیاح ہر سال سیر کرنے ضرور جاتے ہیں۔ گرم چشمہ جاتے ہوئے ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں دو اطراف سے آنے والے دریا جب آپس میں ملتے ہیں تو قدرت کی عظمت کااحساس ہوتا ہے۔ دریائے مستوج جس کا منبع بروغل کے مقام پر ہے اور اس کا پانی اوپر شندور‘ لاسیور وغیرہ کے قدرتی چشموں سے پھوٹتا ہے‘ یہ پانی سبز رنگ کا شفاف پانی ہے اور دوسری جانب تورکہو سے آنے والا پانی مٹیالے رنگ کا ہوتاہے۔ یہ دونوں گرم چشمہ کی جانب جاتے ہوئے ایک مقام پر آکر ملتاہے مگر دونوں ایک دوسرے میں گڈ مڈ نہیں ہوتے بلکہ بہت دور تک نشیب کی جانب آتے ہوئے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور اپنے الگ الگ رنگ کیساتھ سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح گرم چشمہ کی ندی بھی ان کیساتھ آکر مل جاتی ہے اور بعد میں جب مزید پانیوں کے دھارے بھی ساتھ ہو لیتے ہیں تو پریشر اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ پھر یہ اپنی الگ الگ حیثیت اور رنگت برقرار نہیں رکھ سکتے اور ایک ہی رنگ میں رنگ کر دریائے چترال میں ڈھل جاتے ہیں۔ جس زمانے میں راقم ریڈیو پاکستان کے سٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے وہاں تعینات تھا تو یہ تمام نظارے بارہا دیکھ چکا ہے تاہم آج ان سب کی یاد اس لئے آئی ہے کہ چترال سے ایک فریاد بھری آواز سنائی دی ہے۔ سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی چترال کے صدر سلیم خان نے سابق یونین کونسل ناظم سرفراز شاہ کیساتھ پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے پسماندگی دور کرنے کی دعویدار حکومت نے اپنے بجٹ میں چترال کے ترقیاتی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام سے نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ان ( سلیم خان) کی درخواست پر چترال کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی تھی جن میں چترال گرم چشمہ روڈ بھی شامل تھا۔ موجودہ حکومت نے اپنے ترقیاتی پروگرام سے اس منصوبے کو نکال باہر کردیا ہے۔ اسی طرح سالانہ بجٹ میں چترال یونیورسٹی کیلئے بھی کوئی فنڈ مختص نہیں کیا ہے جبکہ بقول ان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی چترال یونیورسٹی کو اپنے ترقیاتی پروگرام سے نکالا ہوا ہے، چترال کو حکومت نے دواضلاع میں تقسیم کرنے کااعلان کیا تھا لیکن دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب تک ضلع اپر چترال کا صرف نوٹیفکیشن تو جاری ہوا ہے انتظامی اخراجات کیلئے بجٹ میں کوئی فنڈ نہیں رکھا گیا۔ ایک استاد شاعر کا شعر ہے۔

یاں کے سفید و سیاہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے

رات کو رورو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

موجودہ حکومت خواہ وفاقی ہو یا صوبائی‘ ملک میں سیاحت کو فروغ دیکردنیا کو جہاں یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا جو افغانستان میں ’’ جہاد‘‘ کے نام پر لڑی جانے والی جنگ کی وجہ سے انتہا پسندی کا گڑھ بن چکا تھا اور آئے روز یہاں دہشتگردی کے واقعات ہونے کے سبب غیر محفوظ تھا اب پاک فوج کی لازوال قربانیوں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں سے واپس امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ اس کیساتھ ہی اب صوبائی حکومت نے سیاحت کے فروغ کیلئے زبردست اقدامات شروع کر دئیے ہیں اور خاص طور پر صوبے کے بالائی علاقوں کی جانب ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ دلانے کیلئے منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں ضلع ہزارہ کے بالائی علاقوں بلکہ سوات‘ دیر کے قدرتی حسن سے مالامال علاقوں کو ترقی دینے اور ان علاقوں تک رسائی کیساتھ ساتھ وہاں رہائشی سہولیات یعنی ہوٹل انڈسٹری کو ترقی دینے پر بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے تاکہ سیاحوں کی آمد سے ان علاقوں میں سیاحتی سر گرمیاں بڑھ سکیں اور ساتھ ہی مقامی طور پر روز گار کے مواقع پیدا ہونے سے ان علاقوں کے باشندوں کے حالات زندگی بہتر ہوسکیں۔ مگر حیرت ہے کہ چترال جیسے خوبصورت علاقے کیلئے پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کو ترقیاتی پروگرام سے خارج کردیاگیا ہے۔ اسے کیا دوغلی پالیسی نہیں کہا جا سکتا؟ پھر یہ ہے کہ گرم چشمہ جانے والی سڑک جاتی امرا تک تو رسائی کیلئے نہیں ہے جسے ترقیاتی پروگرام سے خارج کرنا ضروری تھا۔ اسی طرح چترال یونیورسٹی پر اب تک جو کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں اسے بند کرنے سے جتنی رقم اب تک خرچ ہوچکی ہے وہ نقصان کس کاہے؟ جبکہ چترال کے باشندوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اگر ہم نے اپنے روئیے نہ بدلے اور اپنے سے پہلی حکومتوں کے شروع کئے ہوئے منصوبے اسی طرح سیاست کی نذر کرتے رہے تو اس روئیے کو کس قانون‘ اخلاق اور اصولوں کے تحت درست قرار دیا جاسکے گا؟ اس قسم کے منصوبے ذاتی مفادات کیلئے نہیں ہوتے عوام کی بہبود کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ اسی لئے حکومت کو عوام کے مفاد کے تحت ان کو بحال کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں