Daily Mashriq

محو حیرت ہوں!

محو حیرت ہوں!

ہر انسان اپنے بچپن اور لڑکپن سے لیکر بڑھاپے تک جن مراحل اور حالات زندگی سے گزرتا ہے وہ ایک عجیب‘ دلچسپ اور حیران کن تجربہ ہوتا ہے۔ آج اگر آپ ساٹھ برس کے قریب کی عمر کے ہیں تو اپنے ہم عمر لوگوں کیساتھ گپ شپ کرتے ہوئے ہر ایک فرد ایک دو دفعہ اپنے بچپنے اور لڑکپن کی باتوں کا ذکر کرے گا اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ آج کی تیز رفتار ترقی اور ان مادی سہولیات کی فراہمی کے باوجود جو کبھی آج ایک صدی قبل کے بادشاہوں کو بھی حاصل نہ تھی‘ گزرے ہوئے زمانے کو بہتر قرار دے گا۔ اس کی وجہ کیا ہے‘ یہ غور وفکر اور سوچنے کی بات ہے۔ پاکستان میں آج کے نوجوان اپنے کسی بزرگ کو اپنے اور ان کے زمانے کے موازنے اور تقابل پر لے آئیں تو بہت دلچسپی کیساتھ اپنے زمانے کی سادگی‘ سچائی‘ خلوص اور فطرت کے مطابق زندگی کے معمولات بیان کرتے ہوئے آخر میں خلاصہ کلام کے طور پر یہ جملہ ضرور کہے گا۔ بس یار! کیا بھلا زمانہ تھا وہ اور حقیقت یہ ہے کہ ہر گزرا ہوا زمانہ آنے والے کے مقابلے میں بھلا ہی دکھائی دے گا۔

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس حوالے سے جو فرمان ارشاد فرمایا ہے اس میں معانی کا بحر بیکراں پوشیدہ ہے ’’خیر القرون قرنی‘‘ سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد‘ پھر اس کے بعد۔۔۔

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ مبارک میں مدینہ طیبہ کی ریاست میں دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا شاید بہت کم حضرات کو نصیب تھا۔ گرمیوں کے رمضان کے روزوں میں آج کی طرح کا ٹھنڈا پانی کس کو نصیب تھا۔ زندگی مصنوعیت اور مادیت سے بے خبر اپنی طبعی فطرت جس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا تھا‘ اطمینان وسکون کیساتھ رواں دواں تھی۔ محبت‘ اخوت اور ایثار کا یہ عالم تھا کہ صدقے میں ملی ہوئی بکری کی ران سات گھروں سے گھوم کر دوبارہ اسی گھر میں پہنچی جس سے نکلی تھی۔ امن کا یہ عالم تھا کہ صنعا (حضر موت) سے ایک بوڑھی خاتون زیورات پہنے ہوئے اکیلے اونٹ پر سوار حج کیلئے آئی اور واپس گئی۔ انسانی خون کی حرمت اور احترام آدمیت کا یہ حال تھا کہ خون کے بدلے خون‘ اعضاء کے بدلے اعضاء‘ زخموں کے بدلے قصاص‘ دیت اور خون بہا کے سبب کسی کی جرأت نہ تھی کہ کسی کمزور ترین پر بھی ہاتھ اُٹھائے۔ عام آدمی سے لیکر خلیفہ وقت تک سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے تھے۔

لیکن پھر زمانہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتا گیا اور حالات تبدیل ہوتے چلے گئے۔ کہنے کو انسان نے بڑی ترقی کی، النفس وآفاق میں علوم وفنون کے ذریعے بڑی جوہری تبدیلیاں ہوئیں۔ سینکڑوں فلاسفہ نے ہزارہا فلسفیانہ نکتے پیش کئے۔ پتھر کے زمانے سے انسان کو نکال کر چاند اور مریخ پر لابٹھایا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان سائنسی علوم وفنون میں جتنا بڑھتا رہا انسانیت کے حوالے سے اتنا ہی پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ آج ساری ترقیوں کے باوجود انسان کو انسان سے خطرہ ہے‘ باقی ساری کائنات اس کی تسخیر میں ہے۔ سمندر‘ دریا‘ فلک بوس پہاڑ اور ستارے وسیارے‘ حیوانات‘ نباتات‘ جمادات الغرض اس وقت اس کائنات میں کونسی ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آج کی سائنس نے ایک حیران کن منظر پیش نہیں کیا ہے‘ لیکن اگر تحقیق سے کوئی چیز محروم رہ گئی ہے تو وہ انسان اور اس کا مقصد حیات ہے۔ پوسٹ ماڈرنزم کا لب ولباب یہ ہے کہ مغرب کا موجودہ جدید انسان بائی پروڈکٹ ہے اس تناظر میں انسان کی جو تعریف سامنے آئی ہے وہ بڑھ چڑھ کر اتنی ہی ہے کہ انسان کی ایک بائیو لاجیکل بینگ (حیاتیاتی) وجود ہے اور ترقی کرکے جبلی وجود نہیں بن گیا ہے یعنی اس کی کچھ خواہشات بھی ہیں۔ خواہشات کی تکمیل کیلئے اس میں ریشنل بینگ (Rational Being) کی صفات بھی ہیں اور پھر ترقی کے معراج طے کرتے ہوئے انسان ماڈل بینگ (اخلاقی وجود) کا حامل ہوگیا اور عقل کا حامل ہونے کے سبب وہ خیر وشر میں فرق کی صلاحیت رکھتا ہے اور ان سارے امور کو طے کرنے کیلئے عقل ہی کافی ہے اور اس وقت دنیا میں جو کچھ مادے کی ترقی کے نتیجے میں نظر آرہا ہے عقل ہی کے کارنامے اور شاخسانے ہیں۔

اس ساری عملی تگ ودو نے انسان کے اندر کی قیمتی متاع روح اور روحانیت کو فلسفیانہ اصطلاحات میں گم کر دیا اور یہی وہ کڑی ہے جو مغرب کے جدید علم میں گم ہو گئی ہے۔ انسان کے روحانی وجود کا مطلب وتقاضا یہ ہے کہ یہ ماوراء الطبیعات (میٹافزیکل) امور کو جانے بغیر مانتا ہے یا ان کا اثبات کر سکتا ہے کیونکہ عقل کی آخری حد یہی ہے کہ وہ کچھ چیزوں کو نہ جان سکنے کے یقین کے باوجود ان چیزوں کے ظہور کو تسلیم کرکے ان غائب ازعقل چیزوں کو ماننے کے قابل ہو‘ اور یہی انسانی شعور میں علم کی تکمیل کا نکتہ ہے اور اسی علم کے غلبے سے سارے علوم کو ایمان کے تابع رکھ کر ایمانی شعور کو تحویل میں دے دیں۔ تب انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں آمد کے مقصد کی تکمیل ہوگی اور یہ کام اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرامؑ اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ذریعے امت مسلمہ کو ملا ہے کہ آج دنیا میں تمام علوم اور اقدار (Knowledge+Values) کو عمل صالح سے مغلوب رکھ کر دنیا کو دکھائیں۔ اس کے بغیر مسلمان ہونا ایک غیرذمہ داری کیساتھ اسلام کو مان لینے کا عمل تو ہوسکتا ہے لیکن اسلام کا عملی نمونہ دنیا کو نہیں دکھایا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں