Daily Mashriq

اب نہ ہوا تو کب ہوگا؟

اب نہ ہوا تو کب ہوگا؟

بہت دن ہوئے کوئی اچھی بات نہیں ہوئی‘ کوئی خوشخبری نہیں سنائی گئی‘ کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس ملک میں کچھ اچھا بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی اچھی بات ہو تو چھپ جاتی ہے‘ پریشانیوں کے شور میں اس کی آواز دب جاتی ہے۔ اسی لئے میں نے سوچا کہ آج میں اچھی خبر تلاش کروں گی۔ پہلے اخبار کا سہارا لوں گی اور پھر اخبار کی منفی خبروں کا بہتر پہلو دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کروں گی۔ اس غرض سے اخبار اُٹھایا تو سب سے پہلی نظر آرمی چیف کے بیان پر پڑی کہ ’’پاکستان پائیدار اور ناقابل واپسی امن واستحکام کے قریب ہے‘‘ یہ خبر اتنی خوش آئند اور دلفریب ہے کہ لفظوں میں اس کا اظہار ممکن نہیں۔ چند دن پہلے اقوام متحدہ نے بھی پاکستان کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور اب اقوام متحدہ کے ملازمین اور نمائندے پاکستان میں اپنے گھر والوں سمیت آسکتے ہیں۔ پاکستان میں اس سے پہلے ان کی تعیناتی انفرادی طور پر ہوتی تھی یعنی وہ پاکستان میں تعینات تو کئے جاتے لیکن اپنے گھر والوں کو سرکاری اجازت کیساتھ پاکستان نہ لا سکتے تھے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے گویا پاکستان کی داخلی صورتحال میں امن وامان کی کیفیت کو بین الاقوامی سطح پر نہ صرف تسلیم کر لیا گیا ہے بلکہ اقوام متحدہ نے اسے یوں پذیرائی دی ہے کہ پاکستان کو اپنے کارکنان کیلئے فیملی سٹیشن قرار دے دیا ہے۔ یہ خبر اور آرمی چیف کی یقین دہانی نہ صرف انتہائی فرحت بخش ہے بلکہ عوام کا اعتماد بحال کرنے میں بھی ممد ومعاون ثابت ہوگی۔ اثبات کی خبر یوں بھی ایک دوسرے کو دیتے رہنا چاہئے تاکہ دل سے گھبراہٹ اور پریشانی دور ہوسکے۔دوسری اچھی خبر جو اخبار نے ہی میری جانب اچھالی ہے وہ یہ ہے کہ قطر کے امیر کی اسلام آباد آمد خاصی فائدہ مند رہی ہے۔ منی لانڈرنگ‘ دہشتگردی کے تدارک کیلئے خفیہ معلومات کے تبادلے‘ سرمایہ کاری‘ تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ اگر یہ اسی طرح ہوسکے جس طرح امید کی جا رہی ہے تو یقینا یہ معاہدے بہت کارگر ثابت ہوں گے۔

پاکستان کو اس وقت ہر ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو اس کی معیشت کو نہ صرف استحکام فراہم کرسکے بلکہ ملک میں موجد امن کی فضا کو بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے خوش کن اور خوش آمدید کہتی ہوئی ثابت کرسکے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری اس وقت پاکستان کو کئی معیشتی بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان کیلئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان بحیثیت پرامن ملک ثابت ہوسکے۔ بدعنوانی کی تہمتیں کم ہوسکیں اور دنیا میں یہ ثابت کیا جاسکے کہ اب پاکستان ایک سنجیدہ‘ معاشی اور معیشتی ترقی کی طرف مائل ملک ہے۔ یہاں نہ صرف سرمایہ کاری محفوظ ہے بلکہ یہاں کی پالیسیاں ہر قسم کی سرمایہ کاری کے تحفظ کی پالیسیاں ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی وہ تلوار جو اس وقت پاکستان کو اپنے سر پر لٹکتی دکھائی دے رہی ہے جس کی سیاہ فہرست سے پاکستان محض چین‘ ملائشیاء اور ترکی کے امداد کے باعث نکلا ہے اور اب اس جدوجہد کا شکار ہے کہ کسی طرح خود کو ’’گرے زون یا لسٹ‘‘ سے باہر ثابت کرسکے اس کیلئے بھی یہ معاہدے اور امن وامان کی صورتحال بہت اہم ہے۔

بھارت میں ایک بار پھر ایک انتہا پسند حکومت آچکی ہے جسے پاکستان کی موجودہ حکومت اور فوج نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی تلافی یقینا ان کے ایجنڈے میں شامل ہوگی اور وہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ وہ چاہیں گے کہ پاکستان دنیا میں مسلسل پریشانی کا شکار رہے۔ اس وقت ان کے اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بننے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ایک مضبوط معیشت کے طور پر پیش کرے۔ پاکستان نے اپنے آپ کو جن سلاخوں میں قید کیا ہوا ہے اس پنجرے کو توڑ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستان خود کو بطور راہداری پہچانے لیکن یہ دیکھنا بھی نہایت اہم ہے کہ وسط ایشیائی ریاستوں میں امریکہ کی سرمایہ کاری موجود ہے۔ وسط ایشیائی ریاستیں بھارت تک پاکستان کے ذریعے اپنے زمینی راستوں کے رابطے چاہتی ہیں۔ یہ راہداری پاکستان کی معیشت کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس سے وابستہ خطرات کس قدر منہ زور ہیں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔ میرے جیسے لوگ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو کسی ایک جانب جھکاؤ کے بجائے خود کو بحیثیت راہداری ثابت کرنا چاہئے اور اس کا بھرپور استعمال کرنا چاہئے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پاکستان میں دیگر طاقتوں کے ایسے معیشتی مفادات پیدا ہو سکتے ہیں کہ وہ پاکستان میں امن وامان کی فضا کی خود حفاظت کریں گے۔ ہمارے قریبی ہمسایہ ممالک کے مفادات‘ پاکستان کے مفادات کیساتھ یوں نتھی کئے جاسکتے ہیں کہ پھر ان کیلئے پاکستان میں امن وامان کی صورتحال‘ پاکستان سے زیادہ اہم ہو جائے۔ اس وقت پاکستان میں ایک ایسی حکومت ہے جو کوشش کرے تو سمجھ بوجھ کی بات کرسکتی ہے۔ بات صرف توجہ مرکوز کرنے کی ہے جو اب بھی نہ ہو تو پھر جانے کب ہوگی۔

متعلقہ خبریں