Daily Mashriq

کٹھ پتلی حکمران

کٹھ پتلی حکمران

اس شہرآشوب میں کٹھ پتلی حکمران کے جملے کا اندھا دھند استعمال ہو رہا ہے جسکا مقصد وزیراعظم پاکستان، اس کی کابینہ اور اس کے حمایتیوں کی تضحیک یا کردارکشی ہے، کہنے دو جو کوئی کہتا ہے، جمہوریت اور جمہوری طرز حکومت میںکسی کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھا جاسکتا اور

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

کے مصداق ہر ایک کو جو منہ پہ آئے کہہ دینے کا حق حاصل ہے سو ہر کوئی اس حق کا پورا پورا حق ادا کرتے ہوئے اپنے اندر کا زہر اُگل رہا ہے۔ اگر کوئی سر سے گنجا ہو اور لوگ اسے گنجا پاپی کہنے کے علاوہ اس کا چرچا بھی کرنے لگیں تو سر سے گنجا لوگوں کی اس ہرزہ سرائی کا برا منائے گا اور اگر اسے غصہ تھوکنا یا پینا نہیں آتا تو وہ آپے سے باہر ہوکر اپنی کردارکشی کرنے والے کے منہ کو نوچ لینے کی کوشش کرے گا۔ زندگی میں بہت سے مواقع آتے ہیں جب انسان کواپنے مخالفین یا حاسدین کے طنز بھرے الزامات کے نشتر سہنے پڑتے ہیں اور بعض اوقات تو حملہ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اس قسم کے طعنے سننے والا میر درد کی آواز میں آواز ملا کر کہہ اُٹھتا ہے کہ

تہمت چند اپنے ذمے سر دھر چلے

جس لئے آئے تھے سو ہم کرچلے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

کہتے ہیں کہ تہمت یاالزام سچا ہو یا جھوٹا دونوں صورتوں میں عذاب ثابت ہوتا ہے۔ الزام لگانے والا الزام کو سچا ثابت کرکے ملزم کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے جبکہ موردالزام ٹھہرنے والا اس الزام کو بے بنیاد ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ سب کچھ کورٹ کچہریوں میں ہوتا رہتا ہے، بعض اوقات تو الزام تراشی کا یہ دھندہ اس قدر گمبھیر صورت اختیار کر جاتا ہے کہ مسند انصاف پر رونق افروز جج صاحبان کیلئے کسی معمولی نوعیت کے مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے اور یوں مقدمہ چلتے رہنے کا عذاب بھگتنے والے تاریخ درتاریخ پیشیاں بھگتتے رہ جاتے ہیں لیکن سابقہ ادوار حکومت میں ارباب اقتدار پر جو الزامات لگے صاحبان حق اور انصاف نے ان کو عدالت کے کٹہروں میں لانے کے بعد پس دیوار زنداں دھکیلنے میں دیر نہیں کی۔ کیونکہ قوم کی دولت لوٹنے کے الزامات جھوٹے نہیں سچے ثابت ہوئے۔ ملزم مجرم ٹھہرائے گئے۔ ان کو مکھن سے بال کی طرح نکال کر اس جگہ پہنچا دیا گیا جو ایسے لوگوں کا قبلہ درست کرنے کیلئے وجود میں آئی ہے۔ عمران خان کون ہوتا ہے یہ سارا کھیل کھیلنے والا یا ملزموں کو مجرم ثابت کرنے والا وہ تو ایک جعلی حکمران ہے نالائق وزیراعظم ہے کٹھ پتلی حکمران ہے یہ سب میں نہیں کہہ رہا ان لوگوں کی آوازوں کی بازگشت ہے جو اس کو ہیرو سے زیرو بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ سے باہر بات بے بات اس کے کپڑوں پر الزامات کا کیچڑ پھینکنے یا اس کے کردار کو داغدار کرنے کیلئے طنز ومزاح کے نشتر پھینکتے رہنا ان کا شیوہ ہے۔ الزام ہے کہ وہ انصاف کی اندھی اور آنکھوں پر پٹی بندھی دیوی کا ’لاڈلا‘ ہے، افواج پاکستان کا ہر جری جوان اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ جبھی تو الزامات کے تیر برسانے والے اسے کٹھ پتلی حکمران کہے بنا رہ نہیں سکتے۔ ہاں ہاں وہ کٹھ پتلی حکمران ہے، صرف وہ ہی نہیں اس کی ساری حکومت پتلی تماشا بن کر ساری دنیا کو مبہوت کر رہی ہے۔ اس نے جو آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا بقول کسے وہ بھی آئی ایم ایف کے اشارے پر پیش ہوا اور جب وہ اقتدار کی جنگ لڑ رہا تھا تو تب بھی اسے خلائی مخلوق کہہ کر اپنے خوف اور تحیر کا اظہار کیا گیا۔ گویا کٹھ پتلی حکمران ہونے کا لزام کوئی نیا الزام نہیں بہت پرانا ہے اور یہ الزامات ان سارے الزامات کے جواب میں اس کے سر تھوپے گئے ہیں جن کو ہماری عدلیہ اور مقننہ سچ ثابت کر رہی ہے یا سچ ثابت کر چکی ہے۔ اگر ہم سے پوچھیں تو عمران خان کے حصہ میں آنے والا کٹھ پتلی حکمران یا کٹھ پتلی وزیراعظم کا طعنہ سو فیصد سچا اور درست ہے۔ صرف عمران خان ہی نہیں ہم میں سے ہر چھوٹا بڑا جس عہدے یا منصب پر فائز ہے ہر کس وناکس ہر ادنی واعلیٰ ایک کٹھ پتلی ہی تو ہے جس کی ڈوریں ہلانے والا

میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے

سر آئینہ میرا عکس ہے، پس آئینہ کوئی اور ہے

کی شرح بن کر ہم سب کو ایسا پتلی تماشا دکھا رہا ہے جو ہماری سوچ، فکر، ادراک اور تصور سے بالاتر ہی نہیں ہمارا جز وایمان بھی ہے۔ وہ ایک ایسی ہستی ہے جس کو کسی بت کے قالب میں ڈھالا نہیں جاسکتا، کسی مصور کے تصور میں نہیں آسکتا، جس کی نہ کوئی شبیہ بن سکتی ہے نہ تصویر۔ ہم اس ہستی کو اس کے نناوے صفاتی ناموں سے یاد کرتے ہیں وہ قادر مطلق ہے، وہ خالق ومالک ہے، اس ادنیٰ سی تحریر میں اس ذات باری کو سمونے کی نہ طاقت ہے نہ صلاحیت۔ وہ ’کن‘ کہتا ہے تو ساری کائنات فیکون ہو جاتی ہے، وہ حضرت انسان کو کہتا ہے کہ تو میرا خلیفہ ہے میں نے تجھے مختار کل بنا کر بھیجا ہے لیکن جب انسان اپنی بے بسی پر غور کرتا ہے تو چیخ اٹھتا ہے کہ میں ایک کٹھ پتلی سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیونکہ ایک پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا جب اس بات کا انکشاف دانائے راز پر ہوتا ہے تووہ شکوہ اور جواب شکوہ لکھنے بیٹھ جاتا ہے اور میر تقی میرؔ جیسا تلمیذ الرحمان چیخ چیخ کر پکار اٹھتا ہے کہ

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیا

متعلقہ خبریں