Daily Mashriq

’’تیرے چپے ہیرے کہ‘‘

’’تیرے چپے ہیرے کہ‘‘

ایم کیو ایم کو ایک وزارت دی جارہی ہے کل تک بھتہ خور ودہشتگرد کہلانے والی پارٹی اب سب سے شائستہ لوگوں کی پارٹی اور اتحادی ہے۔ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو چوہدری برادران کیساتھ اتحادکی وجہ سے چوہدری پرویزالٰہی کو سپیکرشپ مل چکی ہے اور وفاق میں مونس الٰہی کو وزارت ملنے والی ہے اور سب سے بڑھ کر شیخ رشید کی ایک رکن قومی اسمبلی کی تانگہ پارٹی سے پچھلی باتیں بھول کر نئے عزم کیساتھ ملک وقوم کی خدمت کی کوشش کی جارہی ہے کچھ اسی طرح کی بات ماضی میں چوہدری شجاعت حسین بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’چلو جی پچھلی باتوں پر مٹی پاؤ‘‘ اب یہی بات نیب کو کل تک سرعام دھمکیاں دینے والے اور پروڈکشن آرڈر پر آئے سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی قومی اسمبلی میں کی کہ پچھلے حساب کو چھوڑیں اور آئندہ کی بات کریں، پشتو زبان کا مہاورہ ہے کہ ’’تیرے چپے ہیرے کہ راتلونکے چپے شمارہ‘‘ مطلب کہ گزری باتوں پر مٹی ڈالو اور آئندہ کی باتوں پر حساب کتاب کرو۔ مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی رائیونڈ میں ملاقات میں یہی بات دھرائی کہ ہم پچھلی باتوں کو دہرانے کی بجائے ملک میں آئے بحران پر قابو پانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں گلیوں میں گھسیٹنے والی باتیں، عمران زرداری اتحاد والی باتیں اور اسی طرح کے سیاسی بیانیوں کو بھول بھال کر نئے عزم وحوصلہ کیساتھ عمران خان کی حکومت کو گرانے کی سوچ لیکر اُٹھنا ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمن بھی شہراقتدار میں پرانے ٹھاٹھ باٹھ ڈھونڈ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی وزارت کیلئے بے تابی بھی دیدنی ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق ابھی گوں مگوں کی صورتحال میں ہیں کہ ماضی کے اتحادی کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔

آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس عظیم دھرتی پر کبھی بھی کسی چیز کا بحران آسکتا ہے، آٹا چینی کا بحران تو اب روز کی بات ہے، بجلی وگیس کا بحران بھی زوروں پر ہیں، یہ سارے بحران بہرحال شدید ہیں مگر ابھی ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کیلئے قیادت کا بحران ہے۔ حکومتی پارٹی کہتی ہے کہ انہیں پانچ سال حکومت کرنے کا حق عوام نے دیا ہے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ پی ٹی آئی کی ٹیم ناپختہ ہے اور وہ ملک کو بحران سے نکالنے کی بجائے اور پھنسا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کرکٹ کے میدان میں پاکستان کیلئے سب سے بڑا اعزاز کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے عمران خان نیازی نے بھی لنگوٹ کس لیا ہوا ہے اور عوام انہیں سیاست کے میدان میں نووارد ہونے کے باوجود قیادت کے طور پرمینڈیٹ دے چکے ہیں۔ ہمارے سیاسی پنڈت اور گھاک سیاستدان انہیں ابھی ناپختہ سیاستدان اور چھوٹا رہنما سمجھ رہے ہیں کہ پوری قوم کی قیادت ابھی ان کے بس کی بات نہیں، کچھ سیاستدانوں نے تو کہا ہے کہ وہ ابھی کوالیفائی نہیں کرتے، بظاہر تو ہمارے حکومتی رہنما اور اپوزیشن لیڈر انہیں ابھی چھوٹا سیاستدان مانتے ہیں مگر عوام نے انہیں گرین سگنل دیا ہوا ہے۔

اسی بات کا ایڈوانٹیج لیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر اور وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت سخت فیصلے کررہے ہیں، گو وہ جانتے ہیں کہ ہمارے سیاسی گرو کبھی بھی ان کو پاکستان کی قیادت کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے اور جلد یا بدیر انہیں راستے سے ہٹا دیں گے، لیکن پھر بھی پاکستان تحریک انصاف کے کپتان عمران خان کا شوق ولولہ دیدنی ہے، جب عمران خان کرکٹ کے میدان میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کررہے تھے تب بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور باربار شکست کے بعد بالاخر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ عمران خان کا یہ سپورٹس مین سپریٹ یہاں بھی متوقع ہے۔ حکومت سنبھالے چند ہی ماہ بعد اپنے چہیتوں کو وزارتوں سے ہٹانا کوئی معمولی قدم نہیں۔ فوج، اتحادیوں اور آئی ایم ایف کی شرطوں کے باوجود اپنی سیاسی سوچ رکھنا بھی عام سی بات نہیں۔ ادھر اسلام آباد میں عوام کے مینڈیٹ کو لیکر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری، مسلم لیگ کے میاں نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی کے بچے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں صدارتی محل کے پہلو میں ایک افطاری کرچکے ہیں۔

بجٹ کے بعد سینیٹ میں اپنی عددی برتری دکھانے کیلئے پر تول رہے ہیں، سینیٹ چیئرمین کی تبدیلی بھی متوقع ہے، اپوزیشن کے اتحاد کے ارکان باربار اپنا موقف دہرا رہے ہیں اور عوام میں بھرپور پذیرائی بھی پارہے ہیں۔ بہت جلد وہ عوام کو بھی سڑکوں پر لانے کا پروگرام بنارہے ہیں۔ شہراقتدار اسلام آباد ایک بار پھر کنٹیروں کی قطاروں سے سج جائے گا لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس سارے کھیل میں لگتا یہ ہے کہ سٹیج سجا رہے گا، ڈیل نہ ڈھیل، این آر او، میثاق جمہوریت، میثاق معیشت، زرداری‘ نواز‘ مولانا اتحاد نہ اتحاد چلتا رہے گا۔ پاکستان میںفوجی یا نیم فوجی نئی حکومتیں بن جائیں گی اور حسب روایت یہ جلسے جلوس چلتے رہیں گے اور ان کے سنبھلنے تک پلوں کے تلے سے پانی گزر چکا ہوگا اور نجات دہندہ وقیادت تو کیا متبادل قیادت بھی دھری کی دھری رہ جائے گی اور راج کرے گی۔ خلقِ خدا کا خواب ایک بار پھر خواب ہی رہ جائے گا۔ عوام پھر سے آٹا، چینی اور بجلی وگیس کے بحران میں پھنسے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں