Daily Mashriq

جمرود،پچاس سالہ شخص 30سال سے غار میں رہائش پذیر

جمرود،پچاس سالہ شخص 30سال سے غار میں رہائش پذیر

جمرود(نمائندہ مشرق) پچاس سالہ شخص بیس سال سے ایک غار میں رہائش پزیر ہے، جمرود میں 50 سالہ عزیر ولد سید رخمان میسکوٹ کلی علی مسجد جو ذہنی مریض ہے یہاں اس کو مقامی لوگ ابدال کہتے ہیں 30 سال پہلے اس کی ماں نے اس کیلئے ایک چھوٹا سا غار کھودا تھا کہ وہ لوگوں سے بچ کر یہاں آرام کرسکیں اس غار کا چھوٹا سا کمرہ جس میں مشکل سے ایک آدمی کی رہنے کی گنجائش تھی جو بعد میں عزیز اپنے ہاتھوں سے کھود کر اتنا کشادہ بنایا کہ اب اس غار میں آسانی سے 5سے6 بندے آسانی سے سو سکتے ہیں حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس غار میں رفع حاجت کیلئے کوئی نظام موجود نہیں رفع حاجت غار میں کرتے ہیں تاہم اس کی بد بو اس غار میں موجود نہیں اس کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ 30 سال سے وہ نہایا نہیں ہے اس کے بدن پر قدرتی طور پر سنت وغیرہ کے بال موجود نہیں ہے چہرہ اور بدن اب بھی صاف ستھرا اور جسم سے بدبو نہیں آرہی ہے انہوں نے کہا کہ 30 سال پہلے ہم اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے اس نے اس کو کرنٹ وغیرہ لگائے تھے جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی تھی اور ماں ماں کی آوازیں کربناک انداز میں فریاد کرتا تھا جس پر ماں نے تکلیف سے بچنے اور گھر اور گاں کے بچوں سے محفوظ رکھنے کیلئے غار کھودا جس میں آج بھی عزیز خان رہائش پذیر ہے اب بھی جب روٹی مانگتا ہے تو ماں ماں کی آوازیں نکالتا ہے حالانکہ اس کو پتہ نہیں ہے کہ اس کے ماں 5سال پہلے فوت ہوچکی ہے اس کے رشتہ داروں کا مشرق کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جب اس کی ماں سخت بیمار تھی تو اس وقت تمام گھر والوں کو یہی وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد عزیز خان کا خصوصی خیال رکھنا کہیں بھوکا پیاسا سو نہ جائے اسی وصیت کے مطابق انہیں اب غار کے اندر سب کچھ دیا جاتا ہے،اس سٹوری کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ سید رخمان اور اس کے بچوں نے ماں کی وصیت پر عمل کرکے 30 سال سے عزیز کی خدمت کی جو ایک زبردست روایت اور ذمہ داری کا احساس ہے لیکن وہ ادارے جو فلاح و بہبود اور عوام الناس کے لئے سرگرم عمل ہے اس طرف توجہ دیں اور اسطرح خاندانوں کی مدد کریں جو اس طرح بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔

جمرود،پچاس سالہ شخص 30سال سے غار میں رہائش پذیر

متعلقہ خبریں