مذاکرات! مگر کس بات پر؟

مذاکرات! مگر کس بات پر؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تمام اداروں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات ذاتیات پرنہیں ہوں گے، آئین کی حکمرانی، جمہوریت اور ملکی مفاد پر بات ہوگی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کا تو کسی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں، سارا معاملہ ہی کالا لگتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگران حکومت کے اختیارات کے بارے میں بہت سی چیزیں طے شدہ نہیں،نگران حکومت کے قانون میں ترمیم کے لیے سیاستدانوں کو مل بیٹھنا چاہیے،اس بات کویقینی بنایاجائے کہ نگران حکومتیں آئینی اختیارات سے باہر نہ نکلیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے حالیہ کردار کی وجہ سے ان سے بہت مایوس ہوا جس کی وجہ سے نگران وزیراعظم پر ان سے مشاورت نہیں ہو سکتی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کی اسمبلی میں تبدیلی لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، قوم جاننا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں تبدیلی کس کے لئے ضروری تھی۔نواز شریف نے کہا کہ بلاول غلط کہتے ہیں کہ ن لیگ چارٹر آف ڈیموکریسی سے پیچھے ہٹ گئی، میثاق جمہوریت کے بعد جو این آر او کیا گیا اس نے نقصان پہنچایا۔ مسلم لیگ کی صدارت سے قانونی طور پر محرومیت کے بعد تا حیات قائد بننے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے تمام اداروں کو مذاکرات کی دعوت سے تلخ سیاسی حقائق کے ادراک کا عندیہ ملتا ہے۔ گو کہ کسی سیاستدان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کوئی معیوب امر نہیں۔ سابق چیئر مین سینیٹ رضاربانی بھی مکالمہ کی ضرورت پر زور دیتے آرہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کس حوالے سے اور کیا مذاکرات کئے جائیں۔ جب آئین میں ہر ادارے کے اختیارات و حدود واضح ہیں توپھر اس طرح کے مذاکرات سے کیا ان حدود و قیود میں تبدیلی لائی جائے گی یا پھر آئین و دستور میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے مختلف معاملات میں مشاورت کی تو گنجائش نکلتی ہے جہاں قومی نوعیت کے کسی اہم مسئلے پر پارلیمان سے باہر سرجوڑ کر بیٹھا جائے اور ضروری مشاورت کے بعد پارلیمان سے اس کی منظوری لی جائے۔ اب جبکہ آگ کا دریا عبور کرکے مسلم لیگ (ن) اپنی مدت مینڈیٹ کی تکمیل کرنے جا رہی ہے اور عام انتخابات ہونے ہیں مختلف عناصر کی طرف سے عجیب و غریب قسم کی تجویزیں پیش ہو رہی ہیں۔ ہمارے تئیں تو اس ضمن میں سوائے الیکشن کمیشن کے کسی آئینی ادارے اور سیاسی عناصر کو مشوش ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ایسا کرنا مناسب ہوگا البتہ ایک مثبت کردار و عمل یہ ہوگا کہ الیکشن کمیشن کے کام میں معاونت کی جائے اور ملکی سیاسی فضا کو عام انتخابات کے لئے منصفانہ‘ شفاف اور نظم و ضبط کے ساتھ ہونے کی راہ ہموار کی جائے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اس پیشکش کے اس لئے بھی کئی معنی لئے جاسکتے ہیں کہ انتخابات ہونے کو ہیں۔ جن امور کو وہ اب ناگزیر سمجھنے پر مجبور ہوئے ہیں اگر اس ضرورت کا ان کو نا اہلی سے قبل ادراک ہوتا اور وہ اس پرآمادہ ہوتے تو آج نتائج کچھ اور ہوتے۔ عرف عام میں مذاکرات کا مطلب کچھ لو اورکچھ دو ہی کا لیا جاتا ہے۔ ان کی اس پیشکش سے ایک تبدیل شدہ بیانیے کی بو آتی ہے۔ بہر حال ایک جانب جہاں ان کی جانب سے غیر سیاسی عناصر سے مذاکرات کی پیشکش سامنے آئی ہے وہاں وہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے نگران وزیر اعظم کی تقرری جیسے آئینی معاملے پر مشاورت پر تیار نہیں۔ تحریک انصاف تو بہر حال حزب اختلاف کا حصہ ہے اصولی اور قانونی طور پر نواز شریف کو اس قسم کی پیشکش کرنے اور پیپلز پارٹی جس کے رہنما قائد حزب اختلاف ہیں سے مشاورت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے بیان دینے کا حق نہیں رکھتے۔ اس بارے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف آئینی اختیار رکھتے ہیں‘ نواز شریف اپنے پارٹی صدر کو اصولی طور پر صرف مشورہ ہی دے سکتے ہیں لیکن ملکی سیاست میں بیٹے کا سیاسی سرپرست باپ اور بھائی کا بھائی مروج ہوچکا ہے جس سے خود سیاسی جماعتوں کے آئینی و قانونی سربراہوں کی وقعت کا سوال اٹھتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے لئے اس قسم کی کوئی سعی وقت افطار سے چند لمحات قبل روزہ توڑنے کے مترادف ثابت ہوگی۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت عوام کے سامنے جو بیانیہ رکھ چکی ہے اگر اس میں کسی مصلحت کے تحت تبدیلی لائی جاتی ہے تو پھر عوام کا بھی رد عمل تبدیل ہونا فطری امر ہوگا۔ ہمارے تئیں اگر ادارے اور سیاستدان دونوں اپنے اپنے دائرہ اختیار جس کاتعین آئین و دستور میں موجود ہے اس کے مطابق چلیں گے اور عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کی جائے گی تو کسی مذاکرات و مکالمہ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور اگر اس کے علاوہ کوئی طرز عمل اختیار کیا جائے تو وہ سودے بازی کے زمرے میں آئے گا جس کا ملک و قوم کو نقصان ہوگا اور اس طرح سے ادارے‘ مقننہ و پارلیمان اور جمہوریت میں سے کوئی بھی مضبوط نہیں ہوگا۔

اداریہ