Daily Mashriq

دوقومی نظریہ

دوقومی نظریہ

انڈیا مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں عمل میںآیا لیکن 1937ء کے انتخابات تک اُس کی پوزیشن یہ تھی کہ کانگریس سمیت کوئی جماعت بھی مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ماننے کے لیے تیار نہ تھی اور حقیقت بھی یہی تھی کہ مسلم لیگ کی قیاد ت خواہش کے باوجود ایسا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ 1937ء کے انتخابات کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ نے مسلمان ووٹوں کا صرف 4.6فیصد ووٹ حاصل کیا ۔ سوائے بنگال کی چند سیٹوں کے ہر صوبے میں مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے امیدواروں کو بُری طرح مسترد کر دیا تھا۔ آج کے پاکستان میں شامل صوبوں میں تو یہ حالت انتہائی خراب تھی۔ پنجاب کی 86مسلمان نشستوں میں سے مسلم لیگ صرف ایک نشست جیت سکی جب کہ شمال مغربی سرحدی صوبے (KPK) کی 36اور سندھ کی مختص 37نشستوں میں سے آل انڈیا مسلم لیگ ایک نشست بھی جیتنے میں کامیاب نہ ہو پائی تھی۔ تھوڑا سال اور پیچھے چلے جائیں تو مسلم لیگ کی حالت مزید دگرگوں دکھائی دیتی ہے۔ 1927ء میں مسلم لیگ کی ممبرشپ 1330ارکان پر مشتمل تھی۔ علامہ اقبال نے 1930ء میں مسلم لیگ کے جس سیشن میں اپنا تاریخی خطبہ الہ آباد دیا ،75ارکان کا کورم پورا نہ ہو رہا تھا۔ حفیظ جالندھری کو اس موقع پر کہا گیا کہ وہ اپنی مشہور نظم شاہنامہ اسلام سُنا کر حاضرین کو محظوظ رکھیں۔ دریں اثناء منتظمین کورم پورا کرنے کے لیے مسلم لیگ کے نئے ممبرز بنانے میں مصروف تھے۔ 1931ء میں مسلم لیگ نے ایک قرارداد کے ذریعے کورم کی تعداد 75سے 50اور ممبر بننے کے لیے فیس چھ روپے سے ایک روپے کر دی۔ یہ ایک زوال پذیر مسلم لیگ تھی چنانچہ اس مخدوش اور دل گرفتہ صورت حال میں قائد اعظم نے برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔ 1935ء میں وہ واپس ہندوستان لوٹے اور آل انڈیا مسلم لیگ کو فعال کرنے اور اسے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بنانے کے لیے اپنی کوششیں شروع کر دیں۔ قائد اعظم کی ان کاوشوں کو خاص پذیرائی اُس وقت ملی جب آپ نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلم لیگ کی جدوجہد کو استوار کیا۔ پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ وہ کونسا نظریہ تھا جس نے مسلمانان برصغیر کے دلوں میں گھر کیا اور وہ اس نظریے کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو گئے۔ کانگریسی وزارتوں نے متحدہ قومیت کے بت کو پاش پاش کرنے میں اپنا حصہ ڈالا لیکن جو نظریہ مسلمانوں میں تحریک کا باعث بنا وہ الگ قومیت کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ تھا۔ اسے ہم دو قومی نظریہ کہتے ہیں۔ 23مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی قرارداد منظور ہوئی اور اس مقصد کے لیے جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا تو وہی مسلم لیگ جو پریشان حال تھی دیکھتے ہی دیکھتے مسلم برصغیر کی مقبول ترین جماعت بن گئی۔ جس جماعت کو کانگر یس مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ماننے کے لیے تیار نہ تھی وہ بنا کسی نئے الیکشن کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت سمجھی جانے لگی۔ وجہ مسلمانوں کا جوق در جوق مسلم لیگ میں شامل ہونا تھا ۔ 1944ء میں مسلم لیگ کے ریکارڈ کے مطابق اس کی ممبر شپ 20لاکھ ارکان سے تجاوز کر گئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلم لیگ کو بحیثیت جماعت انگیج کرنے کی کوششیں کی گئیں اور گاندھی جی نے قائد اعظم کے نام اپنے مشہور زمانہ خطوط لکھے۔ ان خطوط کا لب لباب یہ تھا کہ مسلم لیگ دو قومی نظریے سے پیچھے ہٹ جائے۔ ایک موقع پر گاندھی نے تقسیم ہند پراپنی رضامندی کا اظہار بھی کر دیا شرط مگر یہ تھی کہ ایسا دو قومی نظریے کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ ویسی تقسیم ہو جیسی دو بھائیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ قائد اعظم نے صاف لفظوں میں جواب دیا کہ 23مارچ کی قرارداد مسلمانانِ ہند طے کر چکے ہیں کہ وہ علیحدہ وطن کا قیام کن بنیادوں پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 

دو قومی نظریہ ہمارے وجود کی بنیاد ہے اور 23مارچ کے دن سب سے زیادہ اہم اور یاد رکھنے والی بات یہی ہے۔ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک پاکستان کے مخالفین نے اس نظریے کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اپنی پوری کوشش کی ہے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہونے والی تقسیم کو تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا جائے۔ تاریخ پاکستان کے طالب علم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ دو قومی نظریہ مسلم برصغیر کی رگوں میں رچا بسا تھا اور ہندوؤں کے ساتھ ایک ہزار سال تک اکٹھا رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی شناخت پر کبھی کسی طرح کا کوئی کمپرومائز نہ ہونے دیا۔ بھگتی تحریک ہو یا اکبر بادشاہ کا مخلوط قومیت کا تجربہ ہو مسلمانوں نے ہمیشہ اس کی مزاحمت کی ، دو قومی نظریہ مسلمانوں کی سرشت میں شامل تھا چنانچہ جیسے ہی آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اس نظریے کو اپنایا گیا مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن گئی اور دنیا کے نقشے پر اسلام کے نام پر ایک الگ وطن کا قیام عمل میں آ گیا۔ قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان اُسی دن بن گیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہو اتھا۔ یہ دو قومی نظریہ ہے جس کا ہر حال میں ہم نے تحفظ کرنا ہے اور یہی 23مارچ کے دن ہمارا تجدید عہد ہے۔ مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے قیام کا مطالبہ اس لیے کیاگیاتھا تاکہ مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ چنانچہ آج کے دن ہم نے یہ عہد بھی کرنا ہے کہ اس منزل کو حاصل کر کے رہیں گے۔

اداریہ