خوش باش لوگ

خوش باش لوگ

ایک عالمی سروے کے مطابق پاکستان دنیاکے 160 خوش باش ممالک کی فہرست میں75 ویں نمبر جبکہ ایشیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں بھارت ،بنگلہ دیش ،افغانستان ،ایران اورمیانمار بہت پیچھے ہیں۔ ایران 86 ویں نمبرپر ،بنگلہ دیش 115 ،سری لنکا 116اور افغانستان اس فہرست میں 135ویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت کا نمبر133واں ہے ۔اس فہرست کو دیکھتے ہوئے واقعی ہمیں خوش ہونا چاہیے اور بغلیں بجانی چاہئیں کہ ہم کئی ممالک سے بہتر ہیں۔ یہاںغربت ہے۔افلاس ہے۔بے روز گاری ہے۔بیماریاں ہیں۔دُنیا میں ہمارے ہاں نومولود بچوں کی شرح اموات سب سے زیادہ ہیں۔شرح خواندگی کی شرح بہت کم ہے۔فی کس آمدنی دُنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔فی کس آمدنی کے لحاظ سے عالمی فہرست میں پاکستان 156 ویں نمبر پر ہے۔بیرونی قرضوں کا بوجھ ہے۔ روپے کی قدردن بہ دن گرتی جارہی ہے۔روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں یکدم گر گئی ہے۔ایک ڈالر 115 روپے تک پہنچ گیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنے کی کوئی حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہورہی ہے۔جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔خواتین کو جنسی طو ر پر ہراساں کرنے کے واقعات کی شکایتیں عام ہیں۔ظلم یہ ہے کہ معصوم بچوں کو جنسی تشدد کر کے اُن کو قتل کرنے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔جس میں کئی مجرموں کو سزائیں بھی ہوچکی ہیں۔لیکن یہ رجحان بہت خطرناک ہے۔برآمدات جمود کا شکار ہیں۔گزشتہ پانچ سالوں سے 25 بلین ڈالر کا عدد ہم عبور نہیں کرسکے ۔اُلٹا برآمدات 25 بلین ڈالر سے کم ہوکر 21بلین کے ارد گرد گھوم رہی ہیں۔ جبکہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور درآمدات اور برآمدات کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔جس کے زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ بلکہ گراوٹ ہے۔ملکی پیداوار کے ذرائع ابتری اور تنزلی کا شکار ہیں۔قومی ائیر لائن بھی فروخت کے لئے پیش ہے۔ملک کا سب سے بڑی اسٹیل مل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ معاشی اعشاریئے منفی میں جارہے ہیں۔گوکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ معاشی اعشاریئے صحیح سمت میں مثبت انداز میں بڑھ رہے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر سکڑتے جارہے ہیں۔IMFکی طرف سے خطرے کی گھنٹی بجنے والی ہے۔ملک کو بلیک لسٹ میں شامل کرانے کے لیے کوششیں ہورہی ہیں۔لیکن عوام پھر بھی اگر خوشحال نہیں تو خوش باش ضرور ہیں۔ہر جلسہ جلوس کو دیکھ کریہی لگتا ہے۔لوگ سیاست میں جوق درجوق شرکت کرتے ہیں۔ سیاست ایک مشغلہ بن گیا ہے۔خواص کے پاس پیسوں کی کمی نہیںہے جبکہ پیسوں پرناچنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔پیسہ پھینک تماشہ دیکھ لگا ہوا ہے۔جس کی حالیہ مثال ہمیں سینٹ کے انتخابات میں دیکھنے کو ملی۔ہر سطح پر پیسہ چل رہا ہے۔عام آدمی بھی پیسے کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور خواص تو پیسے کے بل بوتے پر حکمرانی کرتے ہیں۔پیسوں سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔حتیٰ کہ انسان کا ضمیر بھی پیسوں سے خریدنے کا رواج عام ہوگیا ہے۔فقط یہ ایک ایسی چیز رہ گئی تھی جس کو خریدنا مشکل تھا۔مگر آج کل سب سے آسان کام پیسے دے کر کام نکالنا ہے۔البتہ بولی میں ہر ضمیر کی قیمت الگ الگ ہے۔کوئی ووٹ دے کر چند سکے کما لیتا ہے اور کوئی لاکھوں ووٹ لے کر لاکھوں بلکہ اب تو کروڑوں کما لیتا ہے۔خوشحالی تو آنی ہی آنی ہے۔جب ایک منٹ میں ایک ووٹ ڈال کر کروڑوں روپے آئینگے تو وہ گھرانہ تو خوشحال ہوگا۔شادیانے بجیں گے۔
کلاشن کوف کی ایک گولی کی قیمت140 روپے تک ہے اور ایک منٹ میں ہزاروں گولیاںہوا میں جلائی جاتی ہیں۔ایک طرف یہ مال کا ضیاع ہے تو ساتھ ہی یہ اندھی گولی کسی کی جان بھی لے سکتی ہے۔لیکن مجال ہے کہ ہم اپنی عیاشی پر قابو پا کر اس گھناؤنے کھیل سے اجتناب کریں۔کھانوں پر لاکھوں روپے خرچ ہورہے ہیں۔ حکومت کے ون ڈش کے قانون کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔شادیوں اور دیگر تقاریب پر بے تحاشہ پیسے ضائع کئے جارہے ہیں۔ موبائل فون کی درآمد پر کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ہر ایک کے ہاتھوں میں موبائل فون نظرآئے گا۔جگہ جگہ موبائل فون کی مارکیٹیں آباد ہورہی ہیں۔اعلیٰ سے اعلیٰ اور قیمتی موبائل فون عام دکانوں میں دستیاب ہے۔ہر چوک میں موبائل فون کی سم فروخت کی جارہی ہے اور یہ سب موبائل فون صرف گپ شپ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔اتنی بڑی رقم صرف گپ شپ کی نذر ہوجاتی ہے۔ موبائل کے غلط استعمال سے کئی گھرانے تباہ ہوجاتے ہیں۔موبائل نے سارے فاصلے ختم کردئیے ہیں۔T.B کی بیماری کے خاتمے کے لیے رقم گلوبل فنڈ سے لینگے۔تعلیم کے لیے فنڈز یو ۔ایس ۔ایڈ (USAID) اور U.K والے دینگے۔ کچرا چین اور ترکی کی کمپنیاں صاف کروائیں گی۔دھماکے کے بعد لاشیں ایدھی فاؤنڈیشن اورچیپا ہ فاؤنڈیشن والے اُٹھائینگے۔ہاں باقی ملک ہم چلائینگے۔آخر ہمارا بھی تو کوئی فرض بنتا ہے۔ہم ایک خودار قوم بھی توہیں۔خوش و خرم بھی ہیں۔نہ پروائے دُنیا نہ پروائے ۔

اداریہ